ماضی کے دریچے ۔ امین ڈار ۔(قسط 1)

گؤشہ ءنورکی کرنیں۔۔

ماضی کے دریچے…28

امین ڈار۔۔۔ ۔۔ (قسط 1)

تعارف ۔۔

ایک بچہ جس نے پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آ نکھ کھولی ۔والد صاحب بیمار تھے گھر میں انتہائی تنگدستی سے گذر بسر ہو رہی تھی۔بھوک افلاس اور تنگدستی کے حالات میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اپنی آ نکھوں میں حسین خواب اور دل میں اعلیٰ مستقبل کی لگن لیے ہوئے تھا۔

لیکن اس کا ہر خواب میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت سے شروع ہوتا ہے اور اس پر ختم ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں گنبد خضرا کا عکس جما ہوا تھا۔ انہیں خوابوں کو لیے وہ زندگی کے تمام کٹھن مراحل طے کرتا ہوا آج اس مقام پر پہنچا ہے ۔

اس سفر میں جہاں کہیں مشکلات آئیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی خوشبو سے سب چھٹتی چلی گئیں ۔

آ ج پاکستان میں ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا “تبرک ہاؤس”ان خوابوں کی تعبیر ہے ۔

یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا میوزیم ہے
جس میں میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے مدینہ منورہ کی خاک شفا سے لے کر گنبد خضرا سے اترنے والے رنگ تک ہر شے ہے موجود ہے۔

” گوشہ نور” کی کوشش ہے کہ گنبد خضرا کے نور سے پھوٹنے والی کرنوں کو آپ سے متعارف کروائے۔ تاکہ ان کرنوں کا فیض قاری کے دل کو بھی منور کر سکے۔

اس ننھے بچے کا نام جو اپنے مشن کے طویل سفر کو طے کرکے آج ا پنے مشن کی تکمیل کے آخری مراحل میں “امین ڈار” ہے۔

ان کی زندگی کی کہانی ۔بچپن سے لےکر” تبرک ہاؤس” قائم کرنے کے سب مراحل ۔۔

ہم یہاں “گوشہ نور ” پر آپ کے لئے وقتاً فوقتاً پوسٹ کریں گے ۔
تاکہ ہم جان سکے کہ جو آنکھیں خواب دیکھتی ہیں۔۔

پھر ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتی ہیں۔۔۔
تو قدرت انہیں تنہا نہیں چھوڑتی۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

ماضی کے دریچے۔۔(بچپن)

آج پھر تم نے کپڑوں کی یہ حالت کرلی ہے۔تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ اسکول سے سیدھے گھرآیا کرو یونیفارم بدل کر کھانا کھا کر کر پھر چلے جایا کرو سیدوں کے گھر ۔۔۔

تمہیں نہیں پتا ماں انتظار کر رہی ہوتی ہے۔۔

اور یونیفارم بھی اتنا گندہ کر لیتے ہو کہ اس کو میں کب دھوؤں یہ سب خشک ہو اور صبح اسکول بھی پہن کر جانا ہوتا ماں مسلسل بول رہی تھی اور میں چپ کھڑا تھا شاید ماں سچ کہہ رہی تھی کیونکہ ملیشیاکا سیاہ یونیفارم مرغیوں کی بیٹھوں اور ان کے پروں سے اٹا ہوا تھا۔اور یقینا اسے دھلے بغیر دوبارہ پہننا ممکن نہیں تھا ۔

لیکن میں بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔انہوں نے مسکرا کر کہا۔
ہم امین ڈار صاحب کے پاس موجود تھے۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے اپنے بچپن سے اپنی جدوجہد کی کہانی سنائئیں ۔اس سارے راستے کے بارے میں میں جاننا چاہتی تھی جس پر سفر کرکے وہ آ ج اس مقام تک پہنچے تھے۔اور اب وہ ہمیں بتا رہے تھے اور میں چشم تصور میں اس ننھے بچے کے ساتھ لالہ موسیٰ کے گاؤں دھاماں میں موجود تھی ۔

اسکول سے واپس آتے ہوئے راستے میں سیدوں کا گھر تھا اور مجھے ان سے ایک دلی لگاؤ اور محبت تھی اسی وجہ سے سکول سے واپسی پر میرے قدم ان کے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے بالکل اپنی رفتار سست کر لیتے اور سیدہ خالہ بھی یقینا میرے انتظار میں گھات لگائے بیٹھی ہوتیں ۔۔۔

جو نہی مجھے دور سے آتا دیکھتی ان کے چہرے پر ایک خوشی کی چمک آ جاتی ۔۔

میں قریب آتا ادب سے انہیں سلام کرتا وہ پیار سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر جواب دیتی۔۔

پوچھتا خالہ کوئی کام ہے؟ شفقت سے جواب دیتی ہاں بیٹا آؤ میں تمہارا انتظار ہی کر رہی تھی ۔۔

اور میں تابعداری سے ان کے ساتھ ہو لیتا وہ صبح سے گھر کے چھوٹے موٹے کام سنبھالے بیٹھی ہوتیں جن کو میں نہایت عقیدت اور جان فشانی سے سرانجام دیتا اور آخری کام ان کی مرغیوں کا ڈبا صاف کرنا ہوتا اور وہ بوڑھی ہونے کی وجہ سے ان کے ڈبے کی صفائی نہیں کر پاتی تھی۔۔

اور میں انتہائی خوشی خوشی ان کے تمام احکامات بجا لاتا اور صفائی کرتے کرتے میں ڈربے کے اندر گھُس جاتا۔میری کوشش اور خواہش ہوتی کہ ایسا کام کروں کہ میرا کام دیکھ کر کر سیدہ خالہ خوش ہو جائیں۔ان کے چہرےکی خوشی مجھے بہت عزیزتھی۔

میرے ننھے سےذہن کو صرف یہ معلوم تھا کہ سید گھرا نہ میرے پیارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی نسل سے ہوتا ہے ۔
اس وجہ سے “سیدو ں “سے میری خاص انسیت لگن اور محبت تھی ۔سیدوں کی خدمت کرنا ان کا کام کرنا مجھے بہت پسند تھا مجھے یوں لگتا ہے کہ جب تک میں اس گھرانے کی خدمت میں رہتا ہوں پیارے آقا صلاۃ و سلام کی نظر میں رہتا ہوں۔۔

اور اگر سیدہ خالہ مجھ سے خوش ہوگی تو میری بات بن جائے گی۔ ان کی ایک محبت بھری نگاہ میری بھوک پیاس اور تھکن مٹانے کے لیے کافی ہوتی۔میرا ننھا سا دماغ سیدو ں کی محبت کے ننھے ننھے پھولوں سے معطر تھا۔یہ بتاتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی۔

میں نے ایک چھوٹے سے گاؤں میں آنکھ کھولی۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا ۔

ایک درویش سائین رشید میرے والد صاحب کے عزیز تھے اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے انھوں نے میری پیدائش سے قبل میرے والد صاحب کویہ نوید سنائی کہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات آپ کے گھر بیٹاایک بیٹا پیدا ہوگا جس کا نام امین ہوگا ۔

اور معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات ہی میری پیدائش ہوئی ۔میری نانی جان ساری زندگی مجھے محمد معراج کے نام سے پکارتی رہی ۔

میں نے جب ہوش سنبھالا تو گھر میں ماں جی اور ابا جی ہم تین افراد تھے۔

۔میری ماں جی نہایت دیندار خاتون تھیں۔ ہر وقت عبادت میں مشغول ان کا مسکراتا چہرہ نور کی کرنیں بکھیرتا محسوس ہوتا۔ گاؤں کی تمام خواتین ماں جی کی بہت عزت کرتی تھی ۔اور میری ماں جی کی ساری عزتیں عقیدتیں محبتیں سیدوں کے لیے ہوتیں۔ آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عزت و احترام شاید مجھے ماں کی طرف سے ورثے سے میں ملا تھا ۔

ہمارے گاؤں میں آرائیں عورتیں علی الصبح سبزی بیچنے آیا کرتی تھیں۔ اور صبح صبح ہمارے دروازے کے آگے ان کا شور سنائی دیتا ان کا یہ یقین تھا کہ جس کی بو ہنی میری ماں جی کرے گی اس کی دہاڑی بہت اچھی لگے گی۔اور وہ ماں کی منتیں کرتی نظر آ تیں اور اس وقت میری ماں جی کسی سردارنی کی طرح نظر آتی تھیں۔

ماں جی ماں جی سلائی کڑھائی میں بھی ماہر تھی ۔سارے گاؤں کی عورتیں ماں جی کے پاس اپنی بیٹیوں کو سلائی کڑھائی سیکھنے بھیجا کرتی تھیں۔

ماں جی کو پورے گاؤں کی عورتوں میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔

گاؤں کی سب عورتیں ان کی سلیقہ شعاری ملنسار ی اور ایمانداری کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتی تھیں۔

میرے والد صاحب صاحب بھی بہت نیک آدمی تھے ۔ ان کی بہت خواہش تھی کہ میں حافظ قرآن بنوں۔ لیکن ان کی بیماری کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے والد صاحب کی تنہائیوں کو آقا علیہ الصلاۃ و السلام کی محبت ان کی یادوں اور اور ان کی نعتوں سے سے مہکتا ہوا پایا ۔

وہ تنہائی میں بیٹھ کر پنجابی کی نعتیں پڑھا کرتے اور مسلسل روتے جاتے۔ میں تھوڑا سا سمجھ بوجھ کے قابل ہوا تو مجھے بھی پاس بٹھا لیتے اور نعت شریف پڑھنی سکھاتے ۔نعت شریف پڑھتے ان کی آنکھوں سے مسلسل اشک رواں رہتے۔

ایک دن میری والدہ نے یہ منظر دیکھا تو بولی آپ خود تو رو رو کر اندھے ہوگئے ہیں اب اس ننھے سے بچے کوبھی رونے پر نہ لگا دینا۔ یہ سن کر میرے والد صاحب صاحب نے انتہائی اطمینان سے جواب دیا تم دیکھنا ایک دن اس رونے کا کیا مول پڑے گا۔بات کرتے ہوئے انہوں نے پلکوں کو تیزی سے جھپک کر آنسووں کو روکا ۔

عشاء کی نماز پڑھنے میں ابا جی کے ساتھ روزانہ مسجد جاتا۔ نماز کے بعد وہ مجھے سپیکر کے آگے کھڑا کردیتے اور کہتے کہ چلو بیٹا نعت شریف سناؤ اور میں نہایت جوش و خروش سے نعت پڑھتا ۔ اگر کسی دن کسی وجہ سے نعت شریف نہ پڑھ سکتے تو صبح صبح کے گاؤں کی عورتیں ہمارے گھر آن موجود ہوتیں کہ رات کو خیریت تھی؟ آمین بیمار تو نہیں ہوگیا رات مسجد سے آمین کی نعت پڑھنے کی آواز نہیں آئی ہم نے ساری رات امین کے لئے پریشانی میں گزاری ۔

خدا خیر کرے کدھر ہے آمین وہ ماں جی سے سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دیتی۔۔ جاری ہے(۔گوشہءنور)

تحریر پسند آئے تو شیئرکریں۔کاپی پیسٹ سے گریز کریں ۔ تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جاے تو آپ اس سے آگاہ ہوسکیں ۔۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ میں ضرور کریں۔ آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ شکریہ ۔گوشہءنور۔

امین ڈار کے بارے میں مزید مضمون پڑھنے کے لئے لنک کلک کریں۔
امین ڈار۔

امین ڈار
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/136206631440578/

امین ڈار۔

ماضی کے دریچے ۔ امین ڈار ۔(قسط 1)

Related Posts

Leave a Reply