گوشہء نور کے تمام ممبران کو اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یہ مضمون میں نے کچھ عرصہ پہلے محترم جناب امین ڈار صاحب کی والدہ محترمہ مرحومہ کے بارے میں لکھا تھا اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے آمین
گوشہء نور کی کرنیں
مدینہ منورہ کی ہوا۔
سعودی عرب میں رہنے کی وجہ سے مدینہ منورہ حاضری کی سعادت ہمیں باقاعدگی سے نصیب تھی ۔اور اس دوران وہاں بزرگوں کی خدمت میں حاضری کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے رہتی۔
مدینہ منورہ ایک ایسی بستی ہے جہاں وہ ہستی قیام پذیر ہے جس کے پروانے کسی بھی قوم کسی بھی نسل یا دنیا کے کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں ہو ں عشق و محبت میں یکساں عباء زیب تن کیے نظر آتے ہیں۔ عشق تو خوشبو ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق فضا میں پھیلی ہوئی خوشبو سے معطر وہ کلیاں ہیں جنہیں لطیف روح رکھنے والا ہر فرد اپنی بند آنکھوں سے پہچان لیتا ہے ۔
میں ایسے ہی ایک بزرگ کی خدمت میں بیٹھی تھی جو اپنی ابتدائی عمر میں مدینہ منورہ تشریف لائے اور پھر جوانی کی ساری بہاریں اسی در پر گزاریں۔وہ بند آنکھوں سے سے بہتے ہوئے آنسو سے بہت خوبصورت نعتیہ کلام پڑھا کرتے انہوں نے بے شمار نعتیہ کلام سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں لکھے اور اپنی عشق و محبت سے لبریز آواز میں دھیمے دھیمے پڑھا کرتے تھے۔ ان کے چہرے پر میں نے ہمیشہ ایک دھیمی سی مسکراہٹ دیکھی ۔
الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط رھتے گویا انہیں ہر لمحہ یہ فکر رہتی تھی کہیں تھوڑی سی بے احتیاطی سے ان کے الفاظ محبت کے رازوں کو افشا نہ کر دیں۔ ان کی بہتی آنکھوں کو دیکھ کر کبھی کبھی میں سوچتی کیا اتنے سال گزارنے کے بعد بھی درے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پر اتنے اشک بہانے کے باوجود بھی یہ آنکھیں اتنی پیاسی کیوں دکھتی ہیں۔ ان کے چہرے کو دیکھ کر ہمیشہ یہ احساس ہوتا کہ یہ شخص اس در پر پر اتنا مؤدب اتنا ساقط صدیوں سے کھڑا ہے لیکن صدیاں بیت جانے کا احساس بھی اس کے وجود میں کہیں نظر نہیں آتا۔ محبت و عشق نے اسے اس بھرتی ہوئی عمر میں بھی اتنا تازہ اور شوق سے اتنا بھرپور رکھا ہوا تھا کہ مجھے احساس ہوتا کہ یہ کوئی انسان نہیں ہے یہ کوئی اس دنیا کا فرد نہیں ہے یہ تو عالم ارواح کی ایک لطیف روح ہے جو روضہ مبارک پر صبح سے شام بڑے ادب سے کھڑی درود سلام پڑھنے میں محو ہے۔ اپنے دل میں اپنے لبوں پے اپنے پورے وجود میں ایک خوبصورت نعت ہے ۔
ایک دن میں نے ان سے پوچھا آپ نے اپنی ساری زندگی یہیں گزار دی آپ کی بھی کوئی ماں ہوگی جس نے جوانی میں اپنا بیٹا یہاں سعودیہ بھیجا اب تو وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہوگی ۔ کبھی اس کا دل چاہتا ہو گا کہ اس کا بیٹا واپس آئے اور کچھ اس کی بھی خدمت کرے تو آپ مجھے اپنی ماں کے بارے میں کچھ بتائیں ۔وہ کیسی ہیں؟ وہ آپ کے بارے میں کیسا سوچتی ہیں؟
وہ لمحہ بھر کو کو ماضی میں کھو گئے ان کے چہرے پر ایک ایک خوبصورت سی مسکان ابھری اور بڑے اطمینان سے گویا ہوئے یے کہ میری ماں ماں تو خود اس در کی دیوانی ہے وہ رہتی تو گوجرانوالہ میں ہے لیکن اس کا دل ہمیشہ مدینہ شریف میں ہوتا ہے وہ تو عشق و محبت میں میرے سے بھی اگلی صف پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس کا وجود جہاں پر موجود ہوتا ہے درحقیقت وہ وہاں پر نہیں ہو تی۔ وہ دوہری ڈیوٹی دیتی ہے اس کا وجود جسے وہ پاکستان میں سنبھالتی ہے لیکن روح کو لمحہ بھر بھی مدینہ منورہ سے نکلنے نہیں دیتیں ۔
پھر وہ گویا یا ماضی کے سمندر میں اتر سے گئے یے اور فرمانے لگے گے ہم گوجرانوالہ میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے تھے اللہ کریم نے کرم فرمایا اور ہم نے ایک جدید علاقے میں میں ایک بڑا سا گھر خرید لیا ۔ گھر میں سب خوش تھے نئے گھر میں شفٹ ہونے میں سب مگن۔ مگر سارا سامان پیک ہو چکا تھا۔ اور میں بھی جلدی جلدی سامان کو کو نئے گھر گھر پہنچانے کے لیے کوشاں تھا تھا کہ اچانک اک میرے کانوں میں کچھ آوازیں آ ی۔ کچھ غم ناک آنسو بھری مری آواز شاید میری ماں کسی بات پر پر ناراض تھی۔ میں فورا ماں جی کے کمرے میں گیا کیا دیکھتا ہوں ہوں کہ کہ مان جی جی بہت غصے میں محسوس ہو رہی ہیں۔ غصہ ان کی کی نرم مزاجی کے خلاف تھا وہ ایک شفیق خاتون تھی بہت کم غصے میں دکھائی دیتی میں نے پاس کھڑے اپنے بیٹے سے پوچھا کیا ہوا؟ کیا ماجرا ہے؟ سب گھر والے اردگرد خاموش کھڑے تھے اور کمرے میں بہت سا کوڑ کباڑ ڑ بڑے سلیقے سے رکھا ہوا تھا جن میں بہت سے خالی ڈبے بے آشیاء کے ریپر پر پیکنگ میٹیریل بہت سے شاپر بیگ اور اسی طرح کی کی فالتو اشیاء جو سامان کو لانے لے جانے میں استعمال ہوتی ہیں سب خاموش تھے۔
میری بیوی بھی چپ تھی میں نے سب کی طرف دیکھا کہا اور ماں جی کی طرف بڑھا لیکن اب ماں جی کی آنکھوں میں غصے کے ساتھ ساتھ دکھ کی جھڑیاں سے بہنے لگیں۔
میں نے نرمی سے سوال کیا ماں جی کیا ہوا؟
آپ کیوں ناراض ہیں ؟
تو انہوں نے مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیا میں نے بچوں کی طرف دیکھا تو بچے بھی خاموش تھے ۔
پھر میرے بڑے بیٹے نے بڑی ہمت سے جواب دیا کہ ماں جی یہ سارا کوڑا خالی ڈبے گتے اور شاپر بیگ بھی نئے گھر میں ساتھ لے جانا چاہتی ہیں . بھلا یہ سب سامان ہم نءے گھر میں کیوں لے کر جائیں کہاں رکھیں گے یہ تو خالی کوڑ کباڑ ہے۔
میں نے منع کیا تو ماں جی ناراض ہوگئیں۔
اس میں ناراضگی کی کیا بات ہے؟
آپ انصاف کی بات کریں۔ بیٹے کی بات سن کر میں ماں کی طرف متوجہ ہوا ۔ اور اپنے ہاتھوں سے ان کے پرنور چہرے سے آنسو وں کو صاف کیا اور پوچھا ماں جی یہ بچہ ٹھیک کہہ رہا ہے یہ سارا تو کوڑا ہے یہ سب تو خالی گتے اور شاپر بیگ ہیں ان کو ہم ساتھ لے جاکر کیا کریں گے؟
میری بات سن کر ماجی تڑپ اٹھی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولی بیٹا اس کو کوڑا مت کہو یہ سارے وہ شاپنگ بیگ ہیں وہ پیکنگ مٹیریل ہے جو اتنے سالوں سے تم ہر سال مدینہ منورہ سے چھٹی پر آتے تھے تو ان میں ڈبوں میں ان شاپربیگوں میں تم سامان لے کر آیا کرتے تھے۔
تمہارے بیوی بچے سب چیزیں استعمال کرلیتے تھے لیکن میں ان سب کو ا ٹھا کے سنبھال لیتی تھی اپنے کمرے میں ان کی بڑی عزت کرتی تھی میں ان کو چومتی تھی ان کو اپنی آنکھوں سے لگا تی تھی کہ ان سب چیزوں کو میرے نبی کے شہر کی ہوا نہ چھوا ہے اس کو کوئی کوڑا نہ کہے اور نہ ہی کوئی اس کو پھینکنے کی با ت کرے یہی تو میری متاع ہے انکو تم مدینے کی ہوا نے چھوا ہے۔۔۔
گذارش ہے کہ اگر تحریر پسند آ یے تو شیر کریں کاپی پیسٹ نہ کریں تاکہ اگر متن میں کوئی ردوبدل کرنا پڑے تو آپ اس سے آ گاہ ہو سکیں شکریہ۔۔۔گوشہءنور۔

گوشہءنور۔

مدینہ منورہ کی ہوا۔

Related Posts

Leave a Reply