(part 1) سلوک اور خواتین۔

گوشہ نور کے سالکین
معافی۔(سبق نمبر۔6)
یہ سب کچھ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے بالکل چپ ۔۔۔
پھر اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور فرمانے لگے۔
روحانیت کی طلب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی معراج چاہتے ہو تو جاؤ اس کی پریکٹس کرو ۔۔
جب یہاں تک پہنچ جاؤ کہ اپنے من کے سارے داغ اپنے وجود کا سارا میل کچیل اور تعفن تمہیں بے قرار کرنے لگے ۔۔۔اور اس کی بدبو تمہارے لیے ناقابل برداشت ہوجائے۔
تو پھر اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اگلا مرحلہ من کی صفائی اور روح کی دھلائی کا ہوتا ہے۔
ان کی خاموشی دیکھ کر ہمیں یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر اپنے مریض کی پوری ہسٹری سننے کے بعد اس کے لیے دوا اور پرہیز کی پرچی لکھ کر اسے پکڑا رہا ہو۔۔
اور کہے کہ اب میرا کام ختم اور اس کی انگلی بیل کے اوپر بٹن کو دبانے والی ہو تاکہ وہ باہر بیٹھے اپنے اسسٹنٹ کو کہہ سکے کہ اگلا مریض بھیج دو۔۔
ان کا یہ انداز اور بات کو حتمی انداز میں ختم کر دینے والی صورت حال دیکھ کر ہم بھی اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔۔
اس مقام تک پہنچنے میں ہمیں کتنے دن لگ جائیں گے؟
میں نے جانے سے پہلے ساری معلومات لے کر جانا چاہتی تھی۔۔
میراسوال سن کر انہوں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا ۔ اور فرمانے لگے ۔
” بیٹھ جاؤ “ہم دوبار ہ بیٹھ گئے .
بولے چند باتیں ذہن نشین کر لو۔۔۔۔
جس سفر کے لے ٹکٹ خریدنا چاہتے ہو اس سفر کے بارے میں کیا جانتے ہو؟؟
میں شاید اس سوال کے لئے تیار نہیں تھی۔
میری حالت کو پھانپتے ہوئے وہ نرمی سے بولے ۔جاو ابھی جو سکھایا ہے ۔اس کی پریکٹس شروع کرو۔۔
۔
خیال کو کنٹرول کرنا اور توجہ کو راسخ کرنے کے لے کوئی ٹپ؟؟؟
میں نے واپسی سے پہلے ہچکچانے ہوئے اپنا آ خری سوال ان کے آ گے رکھ دیا۔
انہوں نے ایک گہری سانس بھر ی اور نرمی سے کہنے لگے۔
دل کی صفائی۔۔۔
جب بھی رجوع کے لے بیٹھنے لگو۔لمحہ بھر رک کر اپنے قلب پر نظر ڈالو ۔
پھر اس میں بیٹھے ہوئے کینے بغض حسد نفرت اور دشمنی کے تمام بت کرچی کراچی کر کے باہر پھینک دو ۔ یاد رکھو اللہ انہیں دلوں میں آکر بستا ہے جو اس کی مخلوق کے لیے بے لوث محبت رکھتے ہیں ۔
سب سے پہلی چیز جو ہماری توجہ کو منتشر کرنے کا سبب بنتی ہے وہ ہمارے خیالات ہیں۔
وسوسے۔۔
خواہشات۔۔
اور گلے شکوے۔
یہ سب ہمارے دماغ کو کھیل کا میدان بنائے اچھل کود کرتے رہتے ہیں۔مراقب ہونے سے پہلے صرف اپنے وجود کو ہی تنہا نہیں کر نا بلکہ ذہن سے بھی یہ سب جھاڑ جھنکار نکالنا بے حد ضروری ہے۔لیکن یہ سب کیسے ممکن ہے یہ جاننا اور سیکھنا اہم ہے۔
وسوسے اور دور کرنے کے لئے صبحِ شام کی دعائیں اور ذکر اذکار ضروری ہیں ۔
گلے شکوے دور کرنے کے لئے مخلوق سے راضی ہونا پڑتا ہے۔۔
اللہ کہتا ہے مخلوق میرا کنبہ ہے اور اللہ کے کنبے سے ناراض ہو کر بھلا کوئی اللہ کو کیسے پا سکتا ہے۔
اس راہ پر چلنے کے جو اصول ہمارے بزرگوں نے ہمیں بتائے ہیں ان میں “پہلا اصول” ہے۔
“اللہ کی مخلوق کو بے عیب دیکھو”
لیکن جنہوں نے دل دکھایا ہو ستایا ہو اور ذندگی میں رلایا ہو انہیں ہم کیسے انہیں بے عیب دیکھ سکتے ہیں ۔؟
اور پھر انہیں معاف کرنا یہ آ سان کام نہیں ہے ایک دبی دبی آواز نے بابا جی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
جب اپنی پہچان ہونے لگے تو یہ کام آ سان ہوجاتا ہے۔گندے گھر میں تو کوئی مہمان نہیں بلاتا اگر بادشاہ کو اپنے گھر دعوت پر بلانا ہوتو پروٹوکول آ فیسر کتنے دن پہلے آ کر آ پ کو سب سمجھاتا ہے۔
گھر کی صفائی ستھرائی اس کی سجاوٹ اور ملاقات کے تمام ادب آ داب سب باتوں کی آ پ کو پہلے سے ٹریننگ دی جاتی ہے۔
اور اگر دل میں رب کائنات کو جو تمام جہانوں کا بادشاہ ہے اسے بسانا ہو تو؟؟؟
اس کی آ مد کی جگہ۔۔
اس کے بسنے کی جگہ تو دل ہے مومن کادل ۔۔
یہ دل اگر صاف نہ ہو تو وہ بادشاہوں کا بادشاہ اس میں کیسے سما سکتا ہے ۔اسے صاف کرنا لازم ہے۔
جب معاملات بادشاہ سے ہونے لگے اس کے دربار میں رسائی ہونے لگے تو محلے کے چھوٹے موٹے جھگڑے الجھاؤ انسان کو حقیر لگنے لگتے ہیں۔وہ کم تر چھوڑ کر اعلی کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔
اس میں پہلا مرحلہ معافی ہے
“اے اللہ اگر کسی نے میرے ساتھ ظلم کیا زیادتی کی تو میں تیرے لیے اسے معاف کرتا /کرتی ہوں . اگر مجھ سے تیرے کسی بندے/بندی پرجانے انجانےمیں ظلم اور زیادتی ہوگی تو مجھے معاف فرما”
جب تک یہ جملہ اللہ ہر رات سونے سے پہلے ادا کرنا اپنا معمول نہیں بنا لو گے اس رستے پر کامیاب نہیں ہو سکتے ۔۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔۔۔۔۔
ہماری تحریر آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں ۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
اگر چاہیں تو اسے شیئر کریں ۔ہو سکتا ہے آپ کے حوالے سے کسی کو فایدہ پہنچ جائے۔۔ شکریہ۔۔۔ گوشہ نور۔
“سبق نمبر 5” پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/373588361035736/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

شکریہ۔

گوشہ نور

معافی۔(سبق نمبر۔6)

Related Posts

Leave a Reply