مقرب ارواح ۔ (سبق نمبر 14)

گوشہء نور کے سالکین۔
مقرب ارواح۔(سبق نمبر 14)
ایمان کی تین حالتیں ہیں ۔ سب سے پہلا مقام پہلا مرتبہ تقلیدی ہے۔
اس کو اگر ہم کہیں کہ یہ تین گروہ ہیں
1 ۔ داہنے ہاتھ والے ۔
2۔ باہنے ہاتھ والے۔
3۔ آگے بڑھنے والے۔
ایمان لانے کے بعد کلمہ طیبہ پڑھ کر انسان داہنے ہاتھ والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔۔
اب اس کے اوپر احکام شریعت کی پابندی لازم ہوتی ہے۔۔
پنجگانہ نماز روزہ عبادات ظاہری علوم شریعت کی پابندی اس کے لئے جنت کی راہ نکال دیتی ہے ۔اور وہ دھیرے دھیرے اس کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔۔۔
جنت کا طالب اپنی راہ پا کر مطمئن ہو جاتا ہے ۔۔
جنت کی رعنائیوں اور حوروقصور کی طلب اس کی عبادات میں خشوع اور اضافے کا سبب بنتی ہیں۔
وہ ان را ہوں کے پھول چنتا ۔۔
صعوبتیں برداشت کرتا۔۔۔
اور سامنے جنت پا کر تازہ دم ہو کر پھر اپنے سفر پر رواں دواں ہو جاتا۔
لیکن ” طالب مولا” ا رواح کا معاملہ مختلف ہے۔جنہیں اپنے رب سے ملنا ہے۔
اور رب کے سوا ان کی کوئی منزل نہیں۔
وہ سکھ پائیں گی تو صرف رب کے دیدار میں۔
رب کا قرب ہی انہیں سکون دے سکتا ہے۔
دیدار الٰہی کے آگے جنت حور و قصور سب ہیچ ہو جاتے ہیں۔
اللہ والوں کی معیت کے علاوہ اور کوی ساتھ ان کے لیے باعث سکون نہیں۔
وہ ڈار سے بچھڑی کوک کی طرح ہر دم اپنی ڈار کے لیے متلاشی رہتی ہیں۔
دنیا میں آنے کے بعد عالم اروح میں گزاری ہوئی زندگی پر حجاب ڈال دیا جاتا ہے ۔
نیک عمل رب کی عبادت رفتہ رفتہ اس حجاب کو تار تار کرنے لگتی ہے اور یوں یہ روح وہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جانے کی راہیں ڈھونڈ نے لگتی ہے۔۔۔۔
میرا رب جب ہر چیز سے با خبر ہے وہ تو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے ہے اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گئے ۔
پھر اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور بولے قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھا ہے میں نے اثبات میں گردن ہلا دی۔
قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 257
اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ.
اللہ اپنے دوست چنتا ہے ایمان والوں میں سے۔اور انہیں اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔اور جنہوں نے نے کفر کیا ان کے دوست طاغوت ہیں جو انہیں نور سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔وہی لوگ آ گ میں ڈالے جائیں گے وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد اب اللہ کریم اپنے دوستوں کا ایمان والوں میں سے انتخاب کر لیتا ہے ۔
پھر آگے اللہ فرماتا ہے کہ میں انہیں اندھیروں سے نکال کر نور روشنی کی طرف لے جاتا ہوں۔۔
مطلب جن دوستوں کو ایمان والوں میں سے چنا تھا اب انہیں اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔۔۔
یہ تقلید سے نکل گئے۔
ان کا ایمان عرفانی ہو گیا۔۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے کی وجہ سے سے سعادت نصیب ہوئی۔۔
پہلے ایمان ملا-
پھر عرفان۔
نصیب ہو گیا۔لیکن ابھی سفر مکمل نہیں ہوا ۔۔ ابھی تو کئی مرحلے باقی ہیں۔
اللہ کریم آگے قرآن میں فرماتا ہے
وسابقون السابقون
اور وہ آگے بڑھنے والے ہیں ۔۔
یعنی جب ایمان عرفانی نصیب ہو جاتا ہے تو انسان کا عمل اس کی عبادات اس کی شخصیت یکسر چینج ہو جاتی ہے۔
یہ تبدیلی اسے باقی لوگوں میں ممتاز کر دیتی ہے ۔۔
اور اللہ کا رنگ اس شخص پر نظر آنے لگتا ہے ۔
اب وہ اپنے رب کے رنگ میں رنگنا شروع ہو جا تا ہے۔
اور رب کا رنگ تو بڑا حسین ہے۔
بے حد دلنشین۔
بڑا خوشبودار ۔۔
بڑا معطر۔۔
خوشبو دارپھولوں کی طرح مہکتا ۔۔۔
حسین نظاروں سے بڑھ کر حسیں۔۔۔
اس کی تو کوئی مثال نہیں۔۔۔
اس کے ایمان کا حسن اس کی خوشبو فضا کو ایسا جمال عطا کر دیتی ہے کہ دور دور بیٹھے ایمان والے دل اس کے قرب کے لئے میں مچلنے لگتے ہیں ۔۔۔
جسے میرا رب چن لے منتخب کر لے پھر اسے سے اپنی مخلوق میں روشنی بنا دیتا ہے۔۔۔
بات یہاں ختم نہیں ہو جاتی آتی ہے آگئے قرآن میں اللہ کریم فرماتا ہے
اولیک المقربون ۔۔۔ا
یہی لوگ ہیں جو اللہ کے مقرب ہیں۔
اپنی بات مکمل کر کے کے وہ خاموش ہو گئے۔
ان کے کے نورانی چہرے پر نور کی ایسی کرنیں بکھری ہوئی تھی جنہوں نے ہمارے لیے لیے لفظوں سے بننے والی طویل راہیں روشن کردی وہ مشکل باتیں جو جو بڑی بڑی کتابیں پڑھ کر بھی نہ سمجھ پائےتھے لمحوں میں سمجھا دیں۔۔(جاری ہے)
گوشہ ءنور۔۔
تحریر پسند آ ے اور آ پ کے روحانی سفر میں معاون ہو تو اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے۔اگر کاپی پیسٹ نا گزیر ہے تو “گوشہء نور”کا حوالہ ضرور دیں تاکہ پڑھنے والا” گوشہء نور کے سالکین” کے باقی” اسباق” تک رسائی حاصل کر سکے۔اور اپ کے لےصدقہ جاریہ ہو شکریہ۔۔۔۔ گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

مقرب ارواح ۔ (سبق نمبر 14)

Related Posts

Leave a Reply