خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ ۔ 10)

گوشہءنور کے سالکین
پکا مکان۔۔۔۔۔۔۔(سبق نمبر۔10)
گویا رب کو پانے کا سفر” من کی نفی” سے شروع ہو تا ہے۔
بابا جی کی باتیں سن کر میرے اندر رب کو پانے کے راستے کا نقشہ واضح ہوتا جا رہا تھا۔
پہلے نمبر پر “من کی اصلاح” یعنی “عقیدہ توحید” کا راسخ ہونا۔
اس کے بعد عبادات کا نمبر آ تا ہے۔
وہ فیوض و برکات وہ انوار وتجلیات جو ہم بڑی محنت سے اپنی عبادات اور اذکار کرکے حاصل کرتے ہیں۔۔
روزانہ طلب کا کشکول پکڑے اپنے لبوں پر درود و سلام کے نغمے سجاتے ہم سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں با ادب حاضری دینے میں بھی کامیاب ہو جائے ہیں ۔
لیکن من سیراب کیوں نہیں ہوتا؟؟
من کی بنجر زمین کی خاردار جھاڑیاں ہمارے گردونواح والوں کو ہم سے خایف کیوں رکھتی ہیں؟؟؟
ہم اپنے کشکول میں پڑی فیوض و برکات کی معطر کلیوں کی خوشبو سے اپنے ماحول کو معطر کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟؟؟
پے در پے عمرہ ۔حج ۔اورحرمین کی حاضری ہماری روح کی پیاس بجھانے میں ناکام کیوں ہے؟؟؟؟
صحن حرم میں بیٹھا فرد اپنے موبائل پر مسلسل غیر ضروری امور میں کیوں مشغول ہے؟؟؟؟
کیا حرم کی تجلیات حرم کی ہیبت اس کے دل کےبند دریچےکھولنے میں ناکام ہے؟؟
کیا ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے؟
یا اپنے کشکول میں ملی ہوئی خیر خیرات سمیت اپنا کشکول واپسی پر اسی در کی دہلیز پررکھ کر یہ سوچ کر خاموشی سے واپس آ جاتے ہیں کہ اگلی مرتبہ جب آ یں گے تو دوبارہ گھڑی دو گھڑی اسے اٹھا سینے سے لگائیں گے۔
من کی بیقراری دور کریں گے۔ضمیر پر پڑے بوجھ کو چند قطرے آنسو بہا کر ہلکا کریں گے اور چپکے سےخالی ہاتھ واپس لوٹ آئیں گے۔۔۔۔۔
پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے بعد بھی ہمیں معراج نصیب کیوں نہیں ہوتی؟؟؟
میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ۔۔
” الصلاۃ معراج المومنین”
نماز مومن کی معراج ہے ۔
یہ سارے سوال طاقتور اژدھے بن کر میرے اردگرد میرا راستہ روکے کھڑے تھے ۔میرے پاس ان سوالوں کے کوئی جواب نہیں تھے ۔
نماز ذکر اذکار من میں تبدیلی پیدا کرنے میں ناکام کیوں ہے؟
الصلوت تنہا عن الفحشاء ولمنکر۔۔
نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔
نمازی بھی معاشرے میں ہر طرف ہیں اور بے حیائی بھی۔
قرآن اٹل ہے قرآن سچ ہے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان حق ہے سچ ہے۔
پھر ہم میں اتنا تضاد کیوں ؟؟؟؟
میری ذات جس پر میرے رب العالمین نے مجھے مکمل اختیار دیا ہے وہ ذات اگر میرے اختیار میں نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مجرم میں خود ہوں۔۔۔
پلاٹ بھی مجھے الاٹ ہو چکا ہے اور تعمیر کے لیے سرمایہ بھی میرے ہاتھ میں قدرت تھماچکی ہے اس کے باوجود اگر میں پکا مکان بنانے میں ناکام ہوں تو قصور کس کا؟
قارئین سے درخواست ہے اگر آ پ اس تحریر میں اٹھائے گئے سوالات سے متفق ہیں تو آ پ کے خیال میں ان سوالات کے جوابات کیا ہو سکتے ہیں۔
کمنٹ سیکشن میں ضرور جواب دیں ۔
اگر لکھنا مشکل ہے تو وائس میسج بھی کر سکتے ہیں۔شکریہ۔۔(گوشہ ءنور۔)
۔تحریر اگر آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔۔۔
پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ اس کار خیر میں آپ ہمارے معاون و مددگار بن سکیں شکریہ۔۔ گوشہ ءنور۔
“سبق نمبر 9 “پڑھنے کے لیے نیچے دیا گیا لنک کلک کریں۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/395815232146382/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

Related Posts

Leave a Reply