(9 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

چودہ صدیاں پرانا مدینہ ۔ (سبق نمبر11)

گوشہءنور کے سالکین۔
۔چودہ صدیاں پرانا مدینہ ۔(سبق نمبر11)
پانچ وقت کی نماز قرآن اور حسب توفیق ذکر اذکار کرنے کے باوجود نا تو من بےقراری ختم ہو رہی ہے اور نہ ہی اللہ ملا ہے ؟؟؟
اللہ تو کہتا ہے ۔
آلا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔
بے شک اللہ کاذکر دلوں کو اطمینان بخشتا ہے۔۔
میں بے قرار کیوں ہو ں؟؟؟
زندگی میں پڑنے والے پے در پے امتحانات آپ کی آنکھوں کو بہت سارا پانی تو تھما دیتے ہیں لیکن دل اس پڑنے والی مصیبت پر شکر گزار نہیں ہو پاتے۔
ہم نے تو کتابوں میں پڑھا ہے شکوہ مومن کی شان نہیں؟
پھر آنے والے زندگی کے امتحانات پر شکوہ کے ڈھیڑ ہمارے لفظ کیوں کر اٹھائے پھرتے ہیں ؟؟؟
میں بے بسی سے انہیں اپنامدعا بیان کر رہی تھی ۔
ہماری عبادات ہمیں صابر و شاکر بنانے میں کیوں ناکام ہے ۔؟؟
میری سوالیہ آنکھوں میں بے بسی کی نمی سی تیرنے لگی ۔
اپنے سارے سوالوں کے اژدھوں کو ایک پٹاری میں بند کیے بہت سارے شب و روز کی مشقت اپنے وجود کے اوپر سے گزارتے ہوئے آج میں اس صوفی بزرگ کی خدمت میں موجود تھی ۔جنہوں نے اپنی بےپناہ بصیرت اور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاص نظر کرم سے ایک خاص مقام حاصل تھا۔
میرا سوال سن کر وہ تھوڑی دیر کو خاموش ہوئے ہوئےاور میرے جواب کو خوبصورت الفاظ کا پیراہن پہنا کر مجھے تھما دیا ۔
فرمانے لگے۔جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہم نے قبول کیا ہے اس کی حیات مبارکہ کو شاید ہم قبول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
یا شاید اسے ہم قبول کرنا نہیں چاہتے۔یہی تضاد ہمارے ایمان کو مکمل ہونے سے روک رہا ہے۔جبکہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔
“تم دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے سامنے روز روشن کی طرح موجود ہے۔۔
اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنا ہر مسئلہ ہر سوال اٹھائیں اور اس گھرانے کے مہمان بن جائیں ۔۔
جب ہم ان کی حیات مبارکہ کو قریب سے دیکھیں گے ان کے شب و روز کا مشاہدہ کریں گے۔ ان کی گھریلو زندگی کو دیکھیں گے۔ ان کی تسلیم و رضا کی صفت کو جاننے لگ جائے تو ہمیں اپنے سارے غم انتہائی حقیر لگنے لگیں گے۔
یاد رکھو اگر آپ بیٹی ہو تو فاطمہ الزہرہ کا کردار اور سیرت بحثیت بیٹی مطالعہ کرو۔ اگر بیوی ہو تو فاطمہ تو زہرہ کا کردارسیرت بحثیت بے بیوی اپنا لو۔
ماں ہو انہیں حسن حسین کی ماں کے روپ میں دیکھو ۔۔
جن کی” تسلیم و رضا “کو یہ معراج حاصل تھی کہ جب اسے اپنے لاڈلے بیٹے حسین کی شہادت کا بتایا گیا تو وہ یہ کہہ کر باپ کے آگے نہیں تڑپتی کے بابا جان اللہ سے دعا کریں میرے حسین کو وطن سے دور اس بے اباد جگہ پر کربلا نہ سجانی پڑے ۔۔۔
اپنے دل میں جھانکیں کیا ہم ایک ماں کی حیثیت سے ایسی تسلیم و رضا کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
مرد ہو تو تو آقا علیہ الصلاۃ و السلام کے صحابہ کرام ان کے ساتھیوں کا ایثار اور تسلیم و رضا دیکھو ۔
اس گھرانےکی معیت میں اس مدینے میں رہنے لگ جاؤ گے ہماری روح اس مدینے منورہ کی باسی بن جائے گی ان پاک ہستیوں کے صدقے ہمارے قلوب کو تزکیہ نصیب ہو جائے گا۔
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے۔۔
“ہم نے تم میں ایک نبی بھیجا جو تمہیں آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے”
علم دین حاصل کر لینا تفاسیر جان لینا تمہارے نفوس کو تزکیہ کی دولت نہیں دے سکتا جب تک تم اس جماعت میں شامل نہ ہو جاؤ جو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت تھی ۔
میرے سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم تو رہتی دنیا تک کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ قرآن کے الفاظ سچ نہ ہو ں۔
اگر کل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت میں ہو رہا تھا تو آج ہم اس تزکیہ سے کیسے محروم رہ سکتے ہیں ؟؟
ہیں یہاں پھر اپنے حصے کے کرنے کا کام آپ نے خود ہی کرنا ہے ۔
ان پاک ہستیوں کی سیرت کا مطالعہ کریں اپنی روح کو ان پاک ارواح کے درمیان رکھیں پھر سوچیں کیا آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ غلام صبر و شکر تسلیم و رضاکے کس مقام پر تھے؟؟
ہم کہاں ہیں؟؟
ان کی زندگیوں میں کونسا دکھ تھا کون سی آزمائش تھی جسے انہوں نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوہنے مکھڑے کے صدقے مسکرا کر برداشت نہیں کیا؟؟
اپنی دولت اپنی سہولتیں اپنی سرداری ہنستے بستے گھر سب کچھ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے ایک اشارے پر چھوڑ کر مسکراتے لبوں سے خالی ہاتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے۔
تسلیم و رضا صبر شکر برداشت کا پیکر یہ ہستیاں ہمارے لئے لیے نور کے وہ روشن مینار ہیں جن سے روشنی لے کر ہم اپنے سارے دکھ سارے غم ایک پوٹلی میں بند کر کے خدا کے حضور رکھ کر خوشی خوشی مسکراتے چہرے سے آپ کی خدمت میں نیا حکم پانے کے لئے مستعید اور چاک و چوبند کھڑے ہو سکتے ہیں ۔۔
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو زندگی میں تمام دکھوں تمام بے قراریوں شکوے شکایات اس وقت تک موجود رہتے ہیں اور آپ کو ڈستے رہتے ہیں جب تک آپ میرے سوہنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے چودہ سو سال پرانے مدینے کی ارواح کی معیت اختیار نہیں کرتے۔۔۔
۔
جب آپ اس جماعت کی معیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہو تو زندگی کے سارے دکھ ساری تکلیفیں سارے شکوے ختم ہو جاتے ہیں۔
آپ کی نگاہوں میں وہ نور وہ طمانیت سرایت کر جاتی ہے جس کی طلب کلمہ پڑھنے کے بعد آپ کا خواب ہو تی ہے۔۔۔۔گوشہءنور
تحریر پسند آئے آ پ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔۔شیر کریں ۔اس کارخیرمیں آ پ ہمارے معاون بنیں۔۔۔۔گوشہءنور
سبق نمبر 10پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں شکریہ۔
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/397146865346552/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

گوشہءنور

چودہ صدیاں پرانا مدینہ  ۔ (سبق نمبر11)

Related Posts

Leave a Reply