ڈار سے بچھڑی کوک ۔ (سبق نمبر 13)

گوشہ نور کے سالکین.
ڈار سے بچھڑی کوک۔(سبق نمبر 13)
وہ اپنی پوری بات سمجھا کر خاموش ہو گئے۔
من کی اس بے قراری ۔
میرے دل میں اٹھنے والے ۔۔ ہزاروں سوال۔
دنیاکی ہر محبت ہر نعمت پا لینے کے بعد من کا چٹیل میدان ۔
اسکی زمین کا بانجھ پن۔
مجھے مارے دے رہا تھا ۔
لیکن آج بابا جی کی باتوں نے مجھے اپنی روح اور اس کی شخصیت سے متعارف کروا دیا ۔
میں جان گئی کہ دنیا کی ہر نعمت پانے کے بعد یہ بے قراری کیوں ختم نہیں ہو رہی ۔؟
فیصلہ تو ازلی تھا ۔
روح تو انہیں ارواح کی معیت چاہتی تھی جن کے ساتھ مل کر اس نے اپنے رب کی تجلی کو پایا تھا۔
اپنے رب کی تجلی کو محسوس کیا تھا۔۔۔
اپنے رب کے نور کو پہلی بار اپنے وجود پر ننھی ننھی موتیا کی کلیوں کی خوشبو دار چادر اوڑھی تھی۔
وہ چادر جس کی خوشبو ۔
جس کالمس ۔
جس کی دھیمی دھیمی محبت کی لو دنیا میں آنے کے بعد اس روح نے ہر سو ڈھونڈی تھی۔
اور کہیں نہ پا کر یہ اب دھیرے دھیرے سلگ رہی تھی.
اس کی اس سلگن کو اس کے اردگرد بکھرے سارے رشتے کبھی نہیں محسوس کر سکتے۔
اپنے وجود سے جڑے سارے رشتوں کی ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے اب یہ روح تنہائیوں کی متلاشی رہتی تھی۔
“اندرو اندری واگدا رہندا پانی درد حیاتی دہ۔”
برس ہا برس کی مسافت میں اسے اپنی اصل سے کوئی روشناس نہ کروا سکا ۔۔۔
آج اپنی ازل کا پتا پاکر یہ بہت سرشار تھی۔
روح کو اس دنیا کی رنگینیوں آسانی و آرائش اور رشتوں میں کہاں سے میسر آتا۔
یہ تو وہ کوک تھی جو اپنی ڈار سے بچھڑی کی تھی۔۔ اور اسے معلوم ہی نہ تھا ۔
جب اپنی حقیقت کا کوئی اسے بتا رہا تھا تو وہ بہت پرجوش تھی اس کی مایوسی اور اس کی ناامیدی کے بنجر میدان میں امید کیے ننھے ننھے پھول کھلنا شروع ہو رہے تھے۔
یہ بات اٹل ہے۔
اپنے رب کی تجلی اور اس کے نور معرفت کے جلوے کا ایک بار نظارہ کر لینے کے بعد پھر یہ دنیا۔
اس کی رنگینیاں۔
اس کی آسائشیں ۔
بے حیثیت ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ میرے رب نے فرما دیا ۔
۔
دنیا کی حقیقت میرے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
پھر اس بے توقیر چیز کی کیا حیثیت؟
لیکن یہ سب کیسے ہو سکتا ہے ؟
روح اپنی ہم جولیوں سے کیسے مل سکتی ہے ؟
ریوڑ سے بچھڑی بھیڑ اپنے ریوڑ کو کہاں تلاش کرے؟
آسمان کی وسعتوں میں ایک ناتواں کوک اپنی ڈار کیوںکر ڈھونڈ سکتی ہے۔۔؟
میرے سوال پھر مجھے پریشان کر رہے تھے …؟؟؟
انہیں سن کر وہ دھیمے سے مسکرائے پھر فرمانے لگے لگے جس رب نے پیدا کیا یا روح کو جسم دے کر دنیا میں بھیجا وہ اسکی ضروریات سے کیسے غافل ہو سکتا ہے۔
اس نے اپنے بندوں کے لیے اپنا” محبوب رحمۃ للعالمین” صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنا کر بھیجا۔
ان سے تعلق پختہ ہو تو سارے رستے آ سان ہو جاتےہیں۔
وہ آپ ہی سارے انتظامات کر دیتے ہیں ۔۔۔
جن کے لیے وہ سوہنا آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشک بہا بہا کر ان کے دنیا میں آنے سے پہلے دعائیں کرتا رہا۔۔۔وہ ان کے دنیا میں آ نے کے بعد ان سے غافل کیسے رہ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔(جاری ہے) گوشہءنور۔
تحریر پسند آئے اور آ پ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔
شیر کریں تاکہ اس کارخیر میں ہمارے مددگار ثابت ہو ں ۔شکریہ۔

گوشہءنور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

ڈار سے بچھڑی کوک ۔ (سبق نمبر 13)
.

Related Posts

Leave a Reply