کچھ باتیں” امین ڈار “کے بارے میں

کچھ باتیں” امین ڈار “کے بارے میں
اسلام علیکم
” امین ڈار” مضمون پوسٹ کرنے کے بعد جو لوگوں کی طرف سے اس مضمون کو پذیرائی ملی آپ لوگوں کے محبت بھرے کمنٹس میسیجز سب کا انفرادی طور پر جواب دینا نا ممکن ہے۔ اس لیے آپ لوگوں سے مخاطب ہوں۔
امین ڈار صاحب نے اپنی تمام زندگی آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت میں سرشار گذاری۔ ان کے شہر اور ان کے دربار سے وابستہ تبرکات اکٹھے کرنے میں صرف کی اور یوں زندگی بھر ان بے شمار تبرکات کو ایک “تبرک ہاؤس “میں سجانے کی تمنا ان کے دل میں پنپتی رہی ۔
نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد اللہ کریم نے انہیں تبرک ہاؤس بنانے کا موقع دیا اور یوں انہوں نے پاکستان میں اپنا” تبرک ہاؤس” بنانا شروع کیا..
یہ ایک مشکل کھٹن اور صبر آزما کام تھا ۔جس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خطیر رقم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت تھی۔ لیکن جب نیت سچی ہو محبت خالص ہو اور سب سے بڑھ کر کر ا قا علیہ الصلاۃ و السلام کی نظر کرم ہو تو کوئی کام ناممکن نہیں رہ جاتا ۔
ا مین دار نے تن تنہا اس خدمت کو سر انجام دینے کا بیڑا اٹھایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یہ سفر کی سالوں پر محیط ہے مدینہ منورہ کے ایک دیوانے کو اتنا عرصہ اس سر زمین سے دور رہنا کسی صورت بھی گوارا نہیں ہوتا لیکن سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے یہ تبرک ہاؤس بنانا بھی شاید ان کی ڈیوٹی کا ایک حصہ تھا ۔
اس دوران میں نے انہیں بہت مرتبہ مدینہ کے لئے تڑپتے دیکھا وہ بہت خوبصورت نعتیہ کلام بھی کہتے ہیں ان کے نعتیہ اشعار ان کے جذبات کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں ۔
تبرک ہاؤس اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے آج کل وہ اپنی تبرک ہاؤس کی تزئین و آرائش میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد اس تبرک ہاؤس کو زائرین کے لیے کھول دیا جائے گا۔
میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا ہر امتی جس کے
دل میں ایمان کی شمع روشن ہو آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت کا سورج چمک رہا ہو وہ دل آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے وابستہ لوگوں کی باتیں سن کر بے قرار ہو جاتا ہے۔ اور ان سے ملنے ان سے دعا کروانے اور ان کو دیکھنے کی تمنا اس دل میں مچلنے لگتی ہے ۔
اور ایسا ہی یہ مضمون پڑھنے کے بعد ہوا ۔اور لوگوں نے ان سے ملنے کی خواہش اور ان کا رابطہ نمبر لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہاں میں یہ بات واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ اللہ والے نمودونمائش کو پسند نہیں کرتے ریا اور تکبر سے دور بھاگتے ہیں انہیں معلوم ہے یہ سب چیزیں اگر دل میں پیدا ہوجائیں تو ایمان دھیرے دھیرے دل سے نکلنے لگتا ہے۔
میں نے اس سے پہلے بابا جی یاسین کے بارے میں بھی لکھا ۔جنہوں نے ان سے دعا کروانے کے لیے کہا تھا ان کے پیغامات میں نے بابا جی یاسین تک پہنچا دیے۔ اور آئندہ بھی انشاءاللہ ایسے لوگوں کی باتیں ان دلوں تک پہنچانے کا عزم رکھتی ہو ں جو یہ باتیں سننا چاہتے ہیں اللہ کریم میری نیت کی حفاظت فرمایے اور ریاسے محفوظ رکھے آمین ۔
جب بھی ہم امین ڈار سے ملاقات کے لیے جاتے ان کی شخصیت ان کی خدمات سے بہت متاثر ہوتے۔ دل میں خواہش پیدا ہوتی کہ ان چھپے ہوئے ستاروں کی روشنی ان دلوں تک پہنچائی جائے جن کی دھڑکنیں گنبد خضرا سے وابستہ ہیں ۔
اسی خواہش کا اظہار میں نے کئی مرتبہ ان سے کیا لیکن یہ لوگ اس معاملے میں بہت محتاط ہوتے ہیں ۔ دنیا سے دور بھاگتے ہیں اور دور رہنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب کی محبتیں سر آنکھوں پر آپ لوگوں کے تمام میسیجز جو آپ نے مجھے کیے ان کو پڑھ کرمیں آپ لوگوں سے درخواست کرتی ہوں آپ جو کچھ ان سے کہنا چاہتے ہیں کمنٹ کریں۔ آپ کے کمنٹس وہ یقینا پڑھ لیں گے ۔
یہاں ایک اور بات واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ ان کا حقیقی نام ” امین ڈار”نہیں ہے۔ وہ یقینا کسی اور نام سے ہمارے آس پاس موجود ہیں ۔
امین ڈار کی زندگی اور زندگی میں پیش آنے والے ایمان افروز واقعات میں ان شاء اللہ قلم بند کرنے کی کوشش کروں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ان سے بات کرنا بہت ضروری سمجھتا ہے تو مجھے بتائیں میں ان کی اجازت سے ان کا واٹس ایپ نمبر اس سے شیئر کرنے کی کوشش کروں گی۔ ابھی وعدہ نہیں کرتی اگر ان کی اجازت ہوئی تو نمبر آپ کو مل جائے گا ۔بہت شکریہ آپ سب کی محبتوں کا۔
اللہ کریم گوشہء نور کے تمام ممبران کو ہمیشہ سلامت رکھے ۔ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبتوں کی لطیف ڈوری میں باندھے رکھے۔امین۔ سب ایک دوسرے سے جڑے رہیں ۔ سب ممبران سے دعا کی درخواست ہے۔اللہ کریم ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے ۔

آمین۔
سب ممبران کے لئے دعا گو

Related Posts

Leave a Reply