خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ6)

گور پیا کوئی ہور ۔ (سبق نمبر 9)

گوشہ ء نور کے سالکین۔
گور پیا کوئی ہور۔..۔۔(۔سبق نمبر 9)
ایک بات جو مسلسل مجھے پریشان کئے دے رہی تھی وہ پچھلی نشست میں مجھ سے پوچھا گیا سوال تھا۔
جس منزل کا میں ٹکٹ خریدنا چاہتی اس منزل کے بارے میں کیا جانتی ہوں؟؟
بظاہر مختصر نظر آنے والا سوال اپنے اندر ایک وسیع مفہوم سمیٹے ہوئے تھا ۔
حسب توفیق ظاہری علوم کے جتنے معرکے میں نے سر کیے تھے وہ سب میرا جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ۔۔۔۔۔۔
اس کا مطلب ہے یہ کوئی الگ راستہ ہے ؟؟؟
کوئی الگ منزل ہے ؟؟؟
جس کی جستجو میں جانے سے پہلے مجھےاس منزل اور اس منزل کے مسافروں سے آگاہی ضروری ہے ؟؟؟
میرے اندر ایک نئی جنگ شروع ہو چکی تھی …
اب تک میں یہ سمجھتی تھی کہ شاید کوئی ایک وظیفہ کوئی ایک ورد مجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاص مقرب بنا دے گا اور میری زندگی کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔۔۔
کوئی ایک اللہ کا ولی مجھے مل جائے گا ۔۔۔۔
اورمیں عام سے خاص ہو جاؤں گی۔
اس کی ایک نگاہِ کرم اور دعا سے میرے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
اور میں ولایت کا ایک ایسا اعلی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ ں گی کہ ادھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور جھٹ سے میری خواہش پوری ہوگی۔۔۔
لیکن ان کے اس جملے نے میری سوچ کو کچھ نیا سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔
اف ابھی تو اگلا مرحلہ آنا ہے.
یہ روح کی پاکیزگی۔۔
من کی صفائی ۔۔
۔یہ سب کون سی اصطلاحات ہیں ؟
۔۔ مطلب ابھی سفر شروع نہیں ہوا ؟؟؟
لیکن میں تو اسے کامیابی کی آخری منزل سمجھ بیٹھی تھی؟؟؟؟؟
میرا ذہن مجھ سے مسلسل سوال پر سوال کئے جا رہا تھا۔۔۔۔
میں اس سوال کو اٹھائے سے ادھر ادھر اس کا جواب تلاش کرنے میں سر گرداں تھی۔
“انسان کی قیمت صرف اس کا رب ہے ۔”
اس کے سوا انسان کی کوئی قیمت ہو ہی نہیں سکتی ۔
۔بابا جی کی بات نے میرے اندر کلبلاتے ہوئے سوالات کو شانت کیا اور میں ہمہ تن گوش ہوگئ۔
اس دنیا میں انسان کی کوئی قیمت ہو ہی نہیں سکتی۔
اس کو اللہ نے اپنے لیے بنایا ہے اور صرف وہی اس کی قیمت ہے۔
انسان کا” جسم” اسکے “رب “اور” روح” کے درمیان حجاب ہے۔
وہ روانی سے بول رہے تھے۔
بعض اوقات انسان پے در پے مشکلات اور آزمائشیں سہتاہے۔
زندگی کو آ سان اور پر تعیش بنانے کی تگ و دو میں پیش آ نیوالی تکالیف اسے رب سے خائف کر دیتی ہیں۔
وہ رب سے شکوہ کرتا اور روتا دھوتا نظر آ تا ہے۔
میری ساری زندگی معصیبتوں میں گزری۔
مجھے سکھ چین نصیب نہ ہوا اس قسم کے فقرے ہر ہمدرد دوست کے سامنے وہ دکھ سے بیان کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ارے بیٹا اگر یہ چند برسوں میں انسان پر تعیش زندگی گزار بھی لے تو کیا یہ حاصل؟
روح کا سکون اور حقیقی خوشی تو صرف اور صرف انسان کو یاد الٰہی میں ہی ملتی ہے۔
نفس پرستی یعنی جسمانی ضروریات اور پر تعیش زندگی انسان کی روح کو قرار نہیں دے سکتے۔
بظاہر پر تعیش اور آ سانیوں بھری زندگی گزارنے والے بزارو ں لوگ آ پ سکون کے متلاشی نظر آ تے ہیں۔
لیکن باباجی جی پھر حقیقت کیا ہے؟
ایک انسان ان جو روشن دل رکھتا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا ہے ان سے بے لوث محبت کرتا ہے۔ پھر اس کی زندگی میں حقیقی منزل کون سی ہے ؟
میں ان کی باتیں سن کر گو ماگوں کیفیت میں جا رہی تھی۔
مجھے حقیقت سمجھ نہیں آرہی تھی۔
ایک انسان کی قیمت اللہ کیسے ہو سکتا ہے ؟
دیکھو بیٹی انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے ۔
اس کا جسم اس کی روح اور رب کے درمیان حجاب ہے۔
جیسا کہ کہا گیا ہے۔۔
“موتو قبل موتکم “
مر جاؤ مرنے سے پہلے۔
گویا یہاں مرنا سے مراد ہے خواہشات نفس کا مرنا۔
روح کو موت نہیں۔
جسم کو موت ہے۔
جب ہم طبعی موت سے پہلے اسے مار دیتے ہیں تو پھر روح امر ہوجاتی ہے ۔
صوفیاء کرام کی زندگیوں میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔
صوفیاء کرام جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر وہ امر ہو جاتے ہیں۔
جان لو جسم کو موت ہے روح کو موت نہیں ۔۔
نفس کشی اختیار کر نے کےبعد صوفیاء کرام اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کی روح کمانڈنگ پوزیشن سنبھال لیتی ہیں اور وہ امر ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ بابا بلھے شاہ نے فرمایا تھا ۔
بھلے شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور۔۔۔۔
(گوشہءنور)
ہماری یہ کاوش اپ کو پسند آئے آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجیے۔۔۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ہے۔۔ اگر آپ چاہیں تو اسے شیر کریں ۔۔اور اس اس کار خیر میں ہمارے معاون بنیں۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔ گوشہ ءنور
سبق نمبر 8پڑھنے کے لے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں شکریہ
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/379307913797114/
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

Related Posts

Leave a Reply