گوشہءنور کی کرنیں۔..33امین ڈار ۔۔(پارٹ۔۔6)والد ین کا حج

گوشہءنور کی کرنیں۔..33
امین ڈار ۔۔..(پارٹ۔۔6)
والد ین کا حج
اللہ کریم کا میرے اوپر بےحد فضل و کرم تھا ۔مسلسل دس برس تک میں یوں ہی مدینہ منورہ حاضری دیتا رہا۔
بن لادن کی طرف سے مجھے گاڑی ملی ہوئی تھی۔
میں ہر پانچ ہفتے بعد چھٹے ہفتے میری مدینہ منورہ حاضری ہو جاتی۔۔
میں محنت اور لگن سے ترقی کی منازل دھیرے دھیرے طے کرتا چلا گیا۔
سب سے پہلے قرض اتارا پھر والدین کے حج کے لیے پیسے جمع کرنے شروع کیے۔
اب میری تمنا اپنے والدین کو حج کروانا تھی۔۔
جب پیسے پورے ہو گئے تو میں نے حج کے لئے درخواست دی اور پیسے جمع کروا دیے ۔۔ڈار صاحب اپنی کہانی روانی سے بیان کر رہے تھے۔
اس وقت میرے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔۔
دو کمروں کا کچا گھر تھا جس کی کی چھت لکڑی کے پرانے شہتیروں کی تھی۔جن کی حالت بے حد ابتر تھی۔
ت ڈھے چکی تھی اور صرف شہتیر باقی تھے۔
اور نئی ڈالنے کی ضرورت تھی۔
جب میرے والد صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ گھر کی چھتیں ٹوٹ پھوٹ چکی تھیں صرف لکڑی کے شہتیر کھڑے قرضے اترنے کا انتظار کر رہے تھے۔ابھی تک اپنی تمام آ مدنی میں نے قرض اتار نے پر صرف کی تھی اور اب پہلا کام جو میں کرنا چاہتا تھا اور جس کام کے لیے میں نے ایک ایک پیسہ بچا کر رکھنا شروع کیا تھا وہ والدین کا حج تھا۔۔
اور جونہی حج کے اخراجات کے لیے پیسے پورے ہوئے میں نے جھٹ سے جمع کروا دئے۔
میرے والد صاحب شاید اس وقت اس بات کے لیے تیار نہیں تھے۔اور ان کی سوچ بھی شاید درست بھی تھی گھر کی مرمت اس وقت یقینا اہم تھی ۔۔
لیکن میں اپنے دل میں اٹھنے والے وسوسوں کے ہاتھوں مجبور تھا۔
والد صاحب کی بیماری اور پڑھاپا مجھے انجانے اندیشوں میں دھکیل دیتا۔
سوچتا ان دنیاوی ذمہ داریوں میں پڑ گیا اور والد صاحب کی ذندگی اگر دغا دے گئ تو میں کبھی سکون نہیں پا سکوں گا ۔یہی سوچ کر میں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔
اس سب صورتحال کو شاید والد صاحب نہیں سمجھ رہے تھے یا پھر شاید سمجھنا نہیں چاہتے تھے انہیں اپنی ذات سے زیادہ میرے بیوی بچوں کی ضروریات کی فکر لاحق تھی سو وہ برہم تھے
تم سارے پیسے حج کے لئے جمع کروا چکے ہو ۔۔۔
پہلے گھر کو تعمیر کرو۔۔۔
اس کے بعد ہم حج بھی کر لیں گے۔۔۔
یہ زیادہ ضروری ہے ۔۔
وہ مجھےسمجھا رہےتھے۔
لیکن میں اپنے والد صاحب کی صحت اور ان کے بڑھاپے کو دیکھ کر کر دل ہی دل میں خوف زدہ تھا کہ زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں ۔
لیکن وہ اس بات پر تیار نہیں تھے ۔۔۔
اس صورتحال میں میں بہت پریشان ہوا۔۔
پھر اپنے ایک رشتہ دار سے رابطہ کیا جنہوں نے جا کر میرے والد صاحب کو سمجھایا کہ اب وہ پیسہ گورنمنٹ کے خزانے میں جمع ہو چکا ہے اور واپس ملنا ممکن نہیں لہذا آپ حج کی تیاری کر لیں ورنہ گورنمنٹ اس پیسے سے کسی اور کو حج پربھیج سکتی ہے۔۔
یوں میرے والد ین حج کے لیے تیارہوئے۔
وہ بے حد بوڑھے اور بیمار تھے۔ انہیں ہم نے بڑے پروٹوکول کے ساتھ حج کروایا۔ میں اور میرے دوستوں نے ان کی ملکر بہت خدمت کی ۔
بہت خوش تھے بیت اللہ شریف میں طواف کیا تین چکر لگانے کے بعد تھک گئے۔ ہم انہیں لے کر ایک طرف بیٹھ گئے ۔
میں نے کہا ویل چیئر لے کر آتا ہوں بولے نہیں مجھے تھوڑا آرام کرنے دو میں اپنے قدموں سے چل کر خود پورا کر لوں گا۔۔
میرے دوستوں نے میرا بہت ساتھ دیا ۔ہم دوست مل کر طواف کے دوران اور رش والی جگہوں میں اپنے بوڑھے اور کمزور والدین کے اردگرد ایک دائرۃ سا بنا لیتے ۔نور سلطان ، سلیم اور سید اشرف حسین یہ اسوقت میرے ساتھی تھے دوست تھے انہوں نے میرا اس خدمت میں بہت ساتھ دیا ۔ہم نے اپنے والدین کو بڑے پروٹوکول سے حج کروایا۔
والد صاحب بیماری کی وجہ سے کبھی تھک جاتے تو ہم انہیں کہتے کہ آ پ کو ویل چیئر لے دیتے ہیں لیکن ان کا جذبہ ہمیشہ ان کی بیماری پر حاوی ہوتا وہ تھوڑا سستاتے اور ایک نئے جذبے کے ساتھ پھر سے ارکان کی ادائیگی میں تندہی سے مصروف ہو جاتے۔
پھر صفا مروہ کی باری آئی اور صفامروہ بھی انہوں نے آہستہ آہستہ چل کر اپنے قدموں سے پورا کیا۔۔
میدان عرفات میں بھی ان کا بوڑھا وجود سفید احرام میں ملبوس کسی فرشتے کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
بار بار مجھے دعائیں دے رہے تھے ۔اپنی صحت اور اپنی طاقت سے بڑھ کر وہ ارکان کی ادائیگی بڑے خشوع سے ادا کر رہے تھے ۔حتی کے حج کا طواف زیارت بھی اپنے قدموں سے چل کر کیا۔۔
حج کے تمام ارکان خوش اسلوبی سے ادا ہوگئے۔ اللہ کریم نے بے حد آسانیاں فرمائیں۔
میں نے جی کھول کر اپنے والد ین کی خدمت کی اور ان کی دعائیں سمیٹیں۔
وہ قیمتی دعائیں جو آج دن تک میرے سر پر رحمت کی ایک مضبوط چادر لیے سایہ فگن رہتی ہیں۔۔۔(جاری ہے)۔

Related Posts

Leave a Reply