(9 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

گوشہء نور کی کرنیں۔امین ڈار ۔۔قسط۔ ۔ 7

گوشہء نور کی کرنیں۔
امین ڈار ۔۔قسط۔۔۔7

“حرم نبوی شریف کا پہلا تبرک،”
یہ 1976, کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں مسجد نبوی شریف کا صحن جہاں آ جکل چھتریاں لگی ہوئی ہیں کچا ہوتا تھا۔ اور صرف ریاض الجنہ سے ملحق برامدوں میں پکا فرش تھا جس پر قالین بچھے ہوتے تھے۔
عصر کے بعد کا وقت تھا ۔حرم مدینہ منورہ میں بہت چہل پہل تھی۔نمازی نماز کے فارغ ہو کر اپنے اپنے ضرور ی کام کرنے نپٹانے میں تھے۔چائے کے شائقین مغرب سے پہلے مدینہ منورہ کی کی معطر فضاؤں میں گرم گرم چاۓ کی گھونٹ پھرتے ہوئے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر کی میزبانی پر شکر گزار نظر آ رہے تھے ۔
کوئی مغرب کی ادائیگی سے قبل بازار کا رخ کرتا اور اپنے پیاروں کے لیے مدینہ منورہ کے بازاروں سے تحائف خریدنے میں مصروف نظر آ تا۔
زم زم سے سیراب ہونے والے زم زم پیتے ہوئے نظر آتے۔
کھجوروں کی دکانوں میں بھی عصر کے بعد بھیڑ میں اضافہ ہوجاتا۔
لیکن شمع رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروانے ہر خواہش سے بے خیر ہر ضرورت سے مبرا گنبد خضریٰ کے اردگرد پتنگوں کی طرح اس نور کی روشنی میں اپنے وجود کو گم کرنے کی سعی میں اپنی خاموش توانائیاں صرف کر رہے ہوتے۔
میں ویاں قالین پر بیٹھا فضا میں موجود اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی خوشبو کو حتی الامکان اپنے من میں سمونے کی کوشش میں مصروف تھا کہ صفائی کا وقت ہوگیا ۔
اس زمانے میں جھاڑو سے صفائی کی جاتی تھی ۔ آ جکل کی طرح مشینیں استعمال نہیں ہوتی تھیں ۔پانج چھ افراد قطار باندھے قالین پر جھاڑو لگا رہے تھے۔
نہایت مستعدی سے اور نہایت ادب سے ۔۔
ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ کوئی آ سمانی مخلوق ہوں جو اردگرد کی ہر شے سے بے خبر یوں اپنے کام سر انجام دے رہی ہو جس میں ایک عجیب وارفتگی تھی۔
میں یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ میری نظر چند تنکوں پر پڑی جو جھاڑو سے ٹوٹ کر زمین پر گر گئے تھے ۔میں نے آ گے بڑھ کر جھٹ سے انہیں اٹھا لیا پھر کیا تھا وہ جھاڑو لگارہے تھے آ گے پڑھ رہے تھے میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جہاں کوئی تنکا گرتا جھٹ سے اٹھا لیتا۔
۔
میرے ساتھی میری اس حرکت پر حیرانگی سے مجھے تک رہے تھے لیکن اپنے آ قا کی دھرتی سے محبت کی دھن مجھے ہر شے سے بیگانہ رکھے ہوئے تھی۔
جھاڑرو لگانے والے اپنی ڈیوٹی انجام دے کر چلے گئے اور میں وہاں ان محبت سے چنے ہوئے تنکوں کو سنبھالنے میں تھا۔
جیب سے ایک چھوٹا سا ٹشو پیپر ڈھونڈ کر ان تنکوں کو اس میں لپیٹ کر میں نے اپنی جیب میں واپس رکھ لیا۔
یہ آ پ کیا کر رہے ہو سائیں ان کو کیوں سنبھال کر رکھ رہے ہیں؟
میرے پاس بیٹھے سندھی شخص نے جو مسلسل میرا مشاہدہ کر رہا تھا حیرت سے پوچھا۔
انہیں سنبھال کر رکھوں گا میں نے محبت سے جواب دیا۔
یہ بھی کوئی سنبھال کر رکھنے کی چیز ہے سائیں وہ میری طرف دیکھ کر ہنسا۔
میرے لیے ہے میں نے جیب پر یوں گرفت مضبوط کرکے کہا کہ مبادا میری قیمتی اثاث کہیں ادھر ادھر نہ ہوجائے۔
بس یہی ابتدا تھی میری اس پاک دھرتی سے منسلک متبرک اشیاء اکٹھی کرنے کی۔
وہ ماضی میں ڈوبی ہوئی آ واز میں بولے۔
وہ پانچ تنکے تھے۔
پانچ ککھ۔۔۔۔
لیکن وہ میرے لیے بہت اہم تھے میں انہیں اپنے ساتھ طائف لے گیا ۔
تنہائی کے لمحوں میں چپکے چپکے انہیں نکال کر انہیں دیکھ کر دل ٹھنڈا کر لیتا۔۔۔
وہ ان پانچ ککھوں کی برکت تھی کہ میرے من کی کیفیت بدلی بدلی سی رہنے لگی۔
نواز نے والے نے نوازنا شروع کیا تو میرے دامن کو بھرتے ہی چلے گئے۔۔
الحمدللہ۔۔ الحمدللہ ۔۔آلحمدلللہ۔
پھر اللہ کریم نے بہت کچھ عطا فرمایا ۔۔
دس سال میں ہر چالیس دنوں کے بعد طائف سے مدینہ منورہ جاتا ۔
دھیرے دھیرے تبرکات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا سوچتا جب پاکستان جاؤ ں گا تو وہاں ایک کمرہ بناؤ ں گا جس میں یہ سب تبرکات سجاؤ ں گا۔
انہیں سیٹ کرکے رکھوں گا۔۔
ان لوگوں کو اس کی زیارت کرواؤ ں گا جو اان سے محبت رکھنے والے ہوں گے۔
آ س امید اور یقین ۔۔۔
بس یہ تین الفاظ تھے جنہیں میں نے مضبوط پکڑے رکھا۔۔
اور آ ج یہ ” تبرک ہاؤ س ” بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں ان کے لہجے میں اپنا مقصد حیات حاصل کر لینے کی ایک عجیب سر شاری تھی۔
یہ تبرکات اکٹھے کرنے سے تبرک ہاؤس بنانے تک کا سفر تقریبا چالیس سالوں پر محیط ہے۔
میں دس سال طائف میں رہا۔
پھر بن لادن کمپنی کو مدینہ منورہ میں توسیع کاکام مل گیااور مجھے بھی اس کام کے میں مدینہ منورہ پوسٹ کر دیا گیا ۔
یہ 1985۔۔شوال کی ایک پربہار شام تھی جب میں مدینہ منورہ میں مکین ہونے ان پاک فضاؤں میں سر کو قدم بنائے باادب موجود تھا۔
حرم نبوی شریف کی توسیع کاکام تھا یہ سب سرنگیں ان میں بجلی پانی کاکام سب ہماری کمپنی کہ ذمہ داری تھی۔
وہ مٹی جس نے میرے محبوب آ قا علیہ الصلواۃ السلام کے قدمین کو بوسے دیئے ۔۔۔
ان قدموں کو چوم کر وہ اتنی معتبر ہوگئی کہ اس میں میرے رب نے مریضوں کے لیے شفاء رکھ دی۔ اس مٹی کی کھودا ئی میری آ نکھوں کے سامنے ہوتی تو میں ان اڑتے ہوئے ذروں میں اپنے آ قاکے قدموں کی دھول ڈھونڈ تا رہتا۔
آ ج بھی ان سرنگوں سے ان پلوں سے گزرنے والا محسوس کر سکتا ہے کہ یہ سب تعمیرات عاشقوں نے اپنی محبتوں کے کن جذبوں کو اس ریت مٹی میں گوندھ کر لی ہے۔
حرم شریف میں پرانی چیزیں تبدیل ہوتیں تو میں کسی نہ کسی طریقے سے پرانی چیزیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔جیسے حرم شریف میں رکھے ہوئے پرانے زم زم کے کولر قرآن مجید رکھنے والی ریلیں دیوار و۔ پر لگے ہوئے سٹینڈ پرانی خطاطی کے نایاب فریم زمین پر بچھے ہوئے قالین غرض کوئی شے جسے حرم نبوی شریف کی ہوا نے چھوا ہوتا میرے لیے قیمتی ہوتی۔
ہر آ نے والا دن میرے اس شوق میں اضافہ کر رہا تھا۔
گنبد خضراء پر رنگ کرنے کا مرحلہ آ یا مجھے معلوم ہوا فلاں لوگوں کی ڈیوٹی ہے میں ان کی خدمت میں لگ گیا۔
چمڑے کے موزے ہاتھوں میں ربڑ کے دستانے پہنے اوپر جاکر گنبد خضراء پر رنگ کرتے اور میں وہ استعمال شدہ موزے دستانے ان سے لے کر سنبھالیتا غرض گنبد خضریٰ پر رنگ کرنے والے برش ہوں یاں وہاں سے اترنے والے پرانے رنگ ننھے ننھے ٹکڑے میرے لیے یہ سب چیزیں قیمتی ہوتیں۔
وہ لوگ مجھ پر ہنستے مذاق کرتے لیکن میری دھن میرا عشق ان سب باتوں سے بے نیاز اپنے کاموں میں تھا۔
میری شوق دیوانگی کا یہ عالم تھا کہ میں حجرہ مبارک کے روشندانوں کی صفائی کرنے والوں کی خدمت میں لگ جاتا وہ جب ان کی صفائی کرنے وہاں کا گردوغبار وہ مجھے لاکر تھما دیتے ۔گویا میرے آ قا علیہ الصلواۃ السلام کسے وابستہ ہر چیز میرا مقصد حیات بن چکی تھی۔
اور محبت میں آ تش عشق سے محبوب بے خبر نہیں ہوتا اور میرا تو محبوب ہی کائنات کا ارفع عظیم اور رحمتہ للعالمین تھے۔
وہ شفیق وہ رحیم وہ کریم ہستی جو اپنی یاد میں بہنے والی ہر آ نکھ کے آنسو کی کی تعداد سے واقف ہے ہے جو اپنی یاد میں میں تیرتی ہوئی آنکھ کی اس نمی سے بھی بے خبر نہیں ہے جو ابھی آ نسو بن کر باہر نہیں ڈھلکی ہوتی۔
وہ مجھ دیوانے سے کیوں کر بے خبر ہوسکتے تھے۔
ان کی نظر کرم ان کی عنایات نعت ہر آنے والے دن میں میرے نصیبوں اپنے کرم کی عنایات فرما رہے تھے۔(جاری ہے).
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔اپ ی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں پوسٹ کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ ۔گوشہ نور۔
“امین ڈار”کی قسط نمبر 6پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://www.facebook.com/104763384584903/posts/237517981309442

Related Posts

Leave a Reply