گوشہء نور کی کرنیں۔۔۔۔38

گوشہء نور کی کرنیں۔۔۔۔38

گوشہء نور کی کرنیں ۔ 38
تیسرا روزہ افطاری ھدیہ بخدمت سیدہ کائنات۔۔
میرے سے تو اپنے بچوں کا کھانا پینا نہیں پورا ہو رہا اور آ پ مجھے کہ رہے ہیں کہ میں تیسرے روزے کی افطاری کا اہتمام کروں۔میں نے اپنے غصے سے کو دباتے ہوئے کہا۔
میں اپنے معاشی حالات کی وجہ سے بہت پریشان رہتی تھی میری پریشانیاں دیکھ کر میری سہیلی مجھے ایک بزرگ جو سید زادے تھے ان کے پاس لے گئیں تاکہ ان سے دعا کروائیں یا کوئی ورد وظیفہ پو چھیں تاکہ ہمارے مسائل حل ہو سکیں۔
انہوں نے میرے مسائل سنے اور نرمی سے کہنے لگے رمضان المبارک کی آ مد ہے آ پ تیسرے روزے افطاری کا اہتمام کریں اور ایصال ثواب بیبی صاحبہ خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا کی خدمت میں کریں آ پ کے مسائل ان شاءاللہ حل ہو جائے گے ۔
ان کا جواب میرے گمان کے مطابق نہیں تھا سو میں یہ سن کر سٹپٹا گئی ۔اور یہ جواب دیا۔
وہ اپنے بوڑھے نورانی چہرے پر ماضی کی یادوں کی پرچھائیاں سجائے مجھے بتا رہیں تھیں۔
ان کے ہاں تیسرے روزے کی افطاری کا اہتمام بڑے وسیع پیمانے پر ہوتا تھا باقاعدہ کیٹرنگ والے بلائے جاتے اور دعوت عام ہوتی۔سینکڑوں لوگ افطاری کرتے اور اپنے ساتھ بھی کھانا لے جاسکتے تھے۔
وہ مجھے اپنے تیسرے روزے کی دعوت افطاری کا قصہ سنا رہی تھی ۔ کہ یہ انہوں نے کیسے شروع کی ؟
اور اب یہ اہتمام کہاں تک پہنچ چکا ہے۔
میرا جواب سن کر وہ وہ بولے ۔۔
اپنے بچوں کو تو کھانا کھلاتی ہو جو کھانا انہیں کھلاؤ اس پر نیت کر لینا کہ اے اللہ اس کا ثواب میں خاتون جنت کو ہدیہ کرتی ہوں ۔۔
میرے اللہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیاری بیٹی کے صدقے میری جھولی میری مرادو ں سے بھر دے ۔۔
میری زندگی میں جو مشکلات درپیش ہیں مجھے ان سے نکال دے۔۔
خیروبرکت اور اپنے رزق کے دروازے ہم پر کھول دے۔ یہ تو کر سکتی ہو ؟
انہوں نے میرے غصے سے کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا۔
ان پاک لوگوں کے وسیلے سے مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی.
اللہ تمہاری پریشانیاں دور فرمائے گا ان شاءاللہ۔
ان کی باتیں سن کر میں بوجھل سا دل لے کر اپنے گھر آ گئی۔
پھر تیسرا روزہ آیا جو روکھی سوکھی افطاری میں نے اپنے بچوں کے لئے تیار کی اسے سامنے رکھ کر ان بزرگوں کی ہدایت کے مطابق دعا کی۔۔
ان بزرگوں نے فرمایا تھا کہ ایسا کرنے کے بعد تم دیکھنا تمہارے حالات بدل جائیں گے پھر اگلے سال تم اپنے حالات کے مطابق افطاری کا انتظام اور اہتمام کرنا ہر سال جوں جوں استطاعت بڑھتی جائے گی اہتمام بھی بھائے جانا۔
اللہ کریم نے ان سادات بزرگ کے لفظوں کی لاج رکھ لی۔
وقت نے بھی حیرت زدہ ہو کر میرے آ نگن میں آ نیوالی اس تبدیلی کو دیکھا۔۔
غر بت نے دھیرے دھیرےاپنے پر میرے گھر سے سمیٹنے شروع کر دیئے ۔۔
پاک وسیلہ میرے لیے رحمت کی نوید بن گیا ۔۔
اگلا رمضان اس سے اگلا رمضان آج برسوں بیت گئے میرے حالات بہترین سے بہترین ہوتے چلے گئے ۔۔
اللہ کریم نے روزگار کے دروازے کھول دئے اور آج میرے بچے الحمدللہ اس مقام پر ہیں کہ سینکڑوں لوگوں کو کو تیسرے روزے کی افطار ی کراتے ہیں۔۔
اور آ ج بھی ہم اس کا ہدیہ پاک بی بی سیدہ کائنات کی خدمت میں ہر سال پیش کرتے ہیں بات کرتے کرتے ان کے چہرے پر ایک خوشی کی چمک تھی بلکل ایسے جیسے کوئی غریب آ دمی کسی بادشاہ کو کوئی تحفہ پیش کرے اور اس کا تحفہ مسکراہٹ کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔
آ پ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔
پسند آ ئے تو شیر کریں۔شکریہ ۔

گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply