سر زمین حجاز ۔ یادیں ۔ 5

گوشہء نور کی کرنیں۔۔۔44 امین ڈار ۔قسط۔۔8. “مسجد سبق کا مینار”

گوشہء نور کی کرنیں۔۔۔44
امین ڈار ۔۔قسط۔۔۔8.
“مسجد سبق کا مینار”
۔مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصلاحات نافذ کیں وہاں مسلمان فوج کی باقاعدہ تربیت کا انتظام بھی کیا گیا جس کے لیے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر انتخاب میدان سبق پر پڑی۔
“جسے میدان سبق “کہا جاتا تھا۔اس میدان میں میرے آ قا علیہ الصلواۃ السلام مدینہ منورہ کے نوجوانوں کو جنگ کی تربیت دیتے انہیں گھڑ سواری سکھائی جاتی تیر انداز ی کی مشقیں اور مختلف جسمانی مشقیں کرائی جاتیں ۔
یہ میدان سبق مدینہ منورہ جہاں پہلے پرانا ٹیکسی سٹینڈ تھا اس کے قریب واقع تھا۔اس جگہ ایک قدیم مسجد تھی جس کا نام مسجد سبق تھا ۔یہ مسجد 1222ھجری میں تعمیر ہوئی اور 1427 ھجری میں اسے ڈی مالش کیاگیا۔
یہ ایک تاریخی مسجد تھی جس کا ذکر قدیم کتب میں بھی ملتا ہے۔
پرانے طرز تعمیر پر بنی یہ خوبصورت مسجد تقریباً دو سو سال مدینہ منورہ کی فضاؤں میں سانس لیتی رہی۔ اس کے کا ایک مینار تھا جس پر ایک خوبصورت چاند تارہ بنا ہرا تھا۔
نجانے کیوں مجھے وہ چاند تارہ بہت بھاتا۔
میرا گزر جب بھی وہاں سے ہوتا میں رک جاتا اس مسجد میں جاکر نفل ادا کرتا اور پھر اس چاند تارے کو بیٹھا تکتارہتا۔
وہ چاند تارہ جو مینار کے بلکل اوپر بڑی خوشی خوشی دوسو سال سے براجمان وہاں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو اپنے اندر سمونے میں مگن تھا۔
پھر ایک دن بن لادن میں خبر پھیلی کہ مسجد سبق کو گرانے کا حکم ہے۔میری آ نکھوں میں وہ جھلملاتا ہوا چاند تارہ آ گیا اور مجھے یوں لگا جیسے اگر یہ مینا ر یہ چاند تارہ مجھے نظر نہ آ ئے تو؟؟
اس سے آ گے میں نہ سوچ سکا۔
دل میں بار یہ خیال مجھے پریشان کر رہا تھا کہ اگر یہ چاند تارہ نہ ہوا تو؟؟
میں اسے کہاں تلاش کروں گا؟
اب میرے کان اس ہر اس خبر کے منتظر رہتے جو مجھے مسجد سبق کے بارے میں ملنی تھی۔میں اس کے گرانے کی تفصیلات اور احکامات کے بارے میں کں سوئیاں لے رہا تھا۔
ایک دن دن مجھے معلوم ہوا کہ سوڈانی آ فیسر ہے جسے اس مسجد کو ڈی مالش کرنے کے کاکام کا انچارج بنا یا گیا ہے۔
میں نے اسے تلاش کیا اور اس تک پہنچ گیا۔ ڈار صاحب ماضی میں ڈوبے ہمیں مسجد سبق کی کہانی سنا رہے تھے او ر ہم مدینہ منورہ کی پاک فضاؤں میں بیٹھے ان پوتر کا ایک ایک جھونکا آپنے من میں سموئے ماضی میں مسجد سبق پہچے ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلوم نہیں کیسے اس میدن میں تشریف لاتے ہوں گے؟
گھوڑے پر؟
اوننٹنی پر؟
یا شاید پیدل ؟
میں چودہ صدیاں پیچھے پہنچ کر اپنے محبوب آ قاکو اس میدان میں تلاش کرنے لگی۔
پھر وہیں میر ی چشم تصور میں سفید لباس میں ملبوس مدینہ کی زیر لب نعت پڑھتی ہوئی فضاؤں میں اپنی لہراتی ہوئی گھنگھریالی زلفوں کو ایک جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوئے نوجوان صحابی کو تیر اندازی کے گر سکھاتے ہوئے آ ن موجود تھے۔
کسی نوعمر صحابی کو تلوار چلانے کے طریقے سکھا رہے تھے تو کسی کو گھوڑے کی ایڑ لگا کر دشمن پر حملہ آ ور ہونے کا فن ۔
میں یہ سب منظر دیکھنے میں پوری طرح محو تھی۔
وہ کتنےخوش قسمت نوجوان تھے ۔جن کے رہبر عالم کا رہبر تھے۔
بے مثال ۔
اور کیا حسن وجمال کا پیکر ۔
مہربان شفیق اور اپنے فن میں یکتا رہنما استاد سپہ سالار۔۔۔
جن کے حسن نے ۔۔۔
جن کی شخصیت کے سحر نے اس پورے میدان سبق کو کیا پوری کائینات کو اپنے حصارمیں لیے ہوئے تھا ؟
میں شاید اس میدان سبق کے اس دل افروز منظر کے سحر میں پوری طرح کھوئی ہوئی تھی کہ ڈار صاحب کی آ واز مجھے لمحہ موجود میں واپس لے آ ئی۔
وہ سوڈانی بہت پیارا انسان تھا ۔اس نے میری بات کو سمجھا اور میری خواہش کی تکمیل میں میرے ساتھ تعاون کی یقین دھانی کرائی ۔
یہ 29رمضان المبارک تھا رات کا پچھلے پہر تھا موسم سرما نے مدینہ منورہ ٹھنڈک کی چادر اوڑھا دی تھی۔
میں گرم چادر لپیٹے سوڈانی کی بتلائی ہوئی سمت جا کھڑا ہوا۔
سودان کے لوگوں کے ایمان بھی ہم پاک وہند کے لوگوں کی طرح آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی محبت اور ان سے محبت کرنے والوں کی محبت میں بھیگے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ بہت محبت والے لوگ ہیں ۔وہ میری اس پاک دھرتی سے محبت اور عقیدت دیکھ کر مجھ سے بہت پیار کرنے لگا۔سوڈان سے اس کے افسران اور اعلی عہدے دار آ تے تو وہ انہیں لے کر میرے گھر آ یا میں نے انہیں اپنے جمع شدہ تبرکات کی زیارت کروائی اور گنبد خضریٰ کے رنگ مبارک کے ٹکڑے انہیں تحفے میں دیئے۔وہ لوگ بہت خوش ہوئے فرط جذباھت سے ان کی آ نکھیں بھیگ گئیں۔
جب بھی قدیم مساجد یا عمارات وغیرہ ڈی مالش کروائی جاتی ہیں تو آ دھی رات کا وقت مقرر کیا جاتا ہے۔
یہ کام نہایت محتاط انداز میں اور رازداری سے کیا جاتا ہے ۔عوام الناس صبح اٹھ کر دیکھتی ہے تو کل جہاں مسجد تھی اب وہاں ایک ہموار میدان خاموش پڑا اپنی اداسی اور بے بسی سے دیکھنے والوں کو اپنی داستان سناتا ہوا نظر آتا ہے۔
بہر حال مجھے سوڈانی نے بتایا تھا کہ فلاں سمت مسجد کا مینار گرے گا آ پ گاڑی لے کر وہاں پہلے سے موجود ہوں گے جونہی گرے وہ آ پ اٹھا کر لے جانا۔
ہمیں تو سارا ملبہ ڈسپوزاف ہی کرنا ہوتا ہے۔اپ عقیدت و محبت والے ہیں آ پ لے جائیں لیکن یہ کام بہت حساس ہے اسے انتہائی رازداری اور مستعدی سے سر انجام دینا ہے۔
ڈار صاحب ماضی کی باتیں ہمیں یوں بتا رہے تھے کہ ہمیں محسوس ہوررہا تھا کہ رمضان المبارک کی اس نصف شب ہم بھی ان کے آ س پاس ہی دم سادھے مینار گرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اپ یہاں اس وقت کیا کر رہے ہیں؟
ایک سعودی پولیس نے قریب آ کر سرد لہجے میں مجھ سے مخاطب تھا۔میں نے جواب میں اپنا بن لادن کمپنی کا کارڈ دکھایا اس نے آ گے بڑھ کر بن لادن کی گاڑی کی نمبر پلیٹ چیک کیاور خاموشی سے چلا گیا۔
پھر ایک دھڑام کی آ واز نے ماحول میں پھیلے ہوئے سکوت کو توڑا اور ہر طرف گرد و غبار کے گہرے بادل چھاگئے ۔
مسجد کو ڈی مالش کر دیا گیا تھا اور انکی کی پلاننگ کے مطابق گردوغبار کے بادلوں میں ڈھکا وہ مینار عین اس بتلائی گئی جگہ پر آ ن موجود تھا۔۔
میرے ساتھ دو اور دوست بھی تھے ۔ ہم نے اللہ کانام لیکر اس غبار کے بادل میں داخل ہوگئے کچھ بھی ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اندازے سے مینار تک پہنچے مٹی دھول کی پروا نہ کرتے ہوئے مینار کو ٹٹولا اور تینوں نے مل کر اسے اٹھایا بلا دن کی ڈبل کیبن گاڑی کے پچھلے حصے میں اسے رکھا اور اور تیزی سے سے وہاں سے نکل کھڑے ہوئے گویا کہ ایک قیمتی خزانہ تھا جو ہمارے پاس تھا اور ہمیں فوراً اسے محفوظ مقام تک پہنچا نا تھا۔
اسکے حصول کے بعد اسے پاکستان پہنچانا بھی ایک اہم مرحلہ تھا۔ اس مینار کی اونچائی تقریباً چھ فٹ تھی ۔میں نے اسے بحری کارگو کے ذریعے پاکستان بھیجنے کا پروگرام بنایا۔اس کے لیے اس کے سائز کے مطابق ایک لکڑی کا صندوق تیار کروایا اس میں اسے اچھے طریقے سے پیک کروا کر میں نے اسے سنبھال کر اپنے گھر میں رکھ لیا اور پھر جب میں سالانہ چھٹیوں میں پاکستان آ یا تو اپنے ساتھ سامان میں بک کروا لایا
کر وا دیا۔
اور یوں چھ فٹ لمبا اینٹوں اور گارے سےبنا یہ بھاری بھر کم مینار اپنے سر پر چاند تارے کا تاج سجائے گوجرانولہ پہ۔چ گیا اور اب میرے تبرک ہاؤس کی زینت ہے الحمدللہ ۔ڈار صاحب کی آ واز میں ایک احساس تفاخر تھا۔۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے ا گاہ ہوسکیں ۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے شکریہ۔۔گوشہ نور۔

۔

Related Posts

Leave a Reply