درود شریف (سبق نمبر 4)

گوشہء نور کی کرنیں۔ امین ڈار ۔۔9۔ موئے مبارک کی عطاء۔

گوشہء نور کی کرنیں۔

امین ڈار ۔۔9۔

موئے مبارک کی عطاء۔

مدینہ منورہ میں ڈار صاحب کے گھر بیٹھے تھے ان کا گھر حی الروضہ میں واقع تھا جو سڑک حرم نبوی شریف صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جبل احد کی طرف جاتی ہے وہی رستہ ان کے گھر کی طرف جاتا۔

اس رستے پر چلتے چشم تصور ہمیں ماضی میں لے جاتی۔۔

کبھی احد کی تیاری کر کے تیر تلوار سے لیس صحابہ کے دستے میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی معیت میں جاتے ہوئے نظر آتے اور کبھی میرے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی خاموشی میں احد کے قبرستان میں میں اپنے چچا سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے دیکھائی دیتے۔

باجی آ پ لوگوں کو موئے مبارک کیسے عطاء ہوا ؟
کبھی کبھی جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی تڑپ بہت بڑھ کاتی تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت کرنے ہم ان کے گھر پہنچ جاتے ۔میں ڈار صاحب کی مسز سے مخاطب تھی۔

وہ ایک گھریلو خاتون تھیں ۔اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنے شوہر کی طرح۔

میں نے ان کے گھر بیٹھے ہوئے ان کے گھر کی خوش بختی سے مرعوب ہو کر پوچھا۔

میری بات سن کر ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری ۔کہنے لگیں بہت پرانی بات ہے۔
ہم چھٹیا ں گذارنے میں پاکستان گئے ہوئے تھے۔
ایک دن میرے شوہر بہت خوش گھر آ ئے اور مجھے بتایا کہ میں کل لاہور جا رہا ہوں؟

کیوں خیریت ہے؟میں نے پوچھا

لاہور میں کسی صاحب کے پاس موئے مبارک ہے ان سے اس کی زیارت کا وقت لیا ہے۔ ہم وہاں جائیں گے یہ بتاتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک انوکھی خوشی کی کرنیں بکھر گئیں۔

اور میں؟

میں نے بڑے شوق سے پوچھا۔یہ خاموش ہوگئے بلکل چب ۔

بتائیں ناں ؟

میں نے بیقرار ی سے پوچھا۔

یہ ممکن نہیں ہے انہوں سر کو جھکا لیا۔

مجھے معلوم ہے تمہیں بہت دکھ ہوگا لیکن میں نے ان پوچھا تھا وہ خواتین کو زیارت نہیں کرواتے۔

یہ انہوں نے اپنا اصول بنایا ہوا تھا۔

انہوں نے سر جھکا کر ساتھ جواب دیا۔

میرے دل میں ایک چھنکا کے کی آ واز آ ئی ۔

جیسے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔

یہ موئے مبارک کی زیارت کرنے جا چکے تھے ۔

رات کا وقت تھا ۔ میں ان کے جانے کے بعد میں بہت اداس تھی۔

اور دکھی بھی ۔۔۔

بے بسی سے میری آنکھیں بار بار بھیگ جاتیں۔۔

میں دل کو سنبھالے ہوئے درود پاک کے ورد میں تھی۔

اور اسی طرح روتے روتے میری آنکھ لگ گئی۔۔

اگلے دن میں اپنے شوہر سے سے بڑے شوق سے موئے مبارک کی زیارت کا احوال سن رہی تھی میں نے ان سے کہا ہاں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ آپ ان صاحب سے پوچھتے کہ کسی بھی شخص کو موئے مبارک کیسے عطا ہوتا ہے ؟

میری بات سن کر کر یہ مسکرائے اور کہنے لگے میں نے ان سے پوچھا تھا انہوں نے کہا جسے عطاء ہونا ہوتا ہے پہلے اسے خواب میں بشارت دی جاتی ہے۔

میں خوشی سے سے جھوم گئی اور اور جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں میری زبان سے نکلا کہ رات کو مجھے یہی خواب آیا ہے اور بشارت دی گئی ہے کہ ہمارے گھر میں بھی موئے مبارک آئے گا ۔

کر میرے شوہر بہت خوش ہوئے اور اٹھ کر فورا فون کا نمبر ملانے لگے۔

دوسری جانب سے لاہور والے صاحب کی آ واز سن انہوں نے میری خواب انہیں سنائی کہ رات ہی میری بیوی کو خواب میں موئے عطاء ہونے کی نوید دی گئی ہے ۔

اور آپ نے یہی کہا تھا اب میرے لیے کیا حکم ہے؟

یہ اپنی بات مکمل کرکے جواب کے منتظر تھے۔
میں دم سادھے اپنے آ نسو روکے ان کی باتیں سن رہی تھی ۔میری خوش بختی کا فیصلہ کیا ہونا تھا؟میں منتظر تھی۔

لیکن دوسری طرف سے ملنے والے جواب نے مجھے انتظار کی چھٹی تھما دی ۔

اب میری بیقرار ی کا امتحان تھا۔

ابھی کتنا پننڈا باقی تھا؟

وہ کہ رہے تھے جناب یہ خواب یک طرفہ نہیں ہوتا ۔

دینے والے کو بھی خواب میں بتایا جاتا ہے نشاندہی کی جاتی ہے پھر ہم اسے دیتے ہیں اس لیے آپ لوگوں کو انتظار کرنا پڑے گا کہ ہمیں بھی خواب میں حکم ہو جائے۔(جاری ہے).
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی شخص کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply