سیدالقاسمین(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔(سبق نمبر ۔ 8)

گوشہء نور کی کرنیں۔….48 نوکری درود شریف کی

گوشہء نور کی کرنیں۔….48
نوکری درود شریف کی ۔
بی بی جی مجھے کام کی بہت سخت ضرورت ہے۔میں ہر کام کر لیتی ہوں ۔جھاڑو پوچا برتن کپڑے جو بھی کہیں جی سب کر لوں گی وہ بوڑھی عورت مسلسل میری منتیں کر رہی تھی۔میں ضرورت مند ہوں گی بی بی جی مجھے نوکری کرنی ہے وہ میرے رویے سے بے نیاز پر امید لہجے میں کہ رہی تھی۔
میں اس کے بڑھاپے اس کی صحت کو دیکھ کر اندازہ لگا چکی تھی کہ یہ عورت میرے کام کی نہیں ہے ۔ ویسے بھی وہ میرے گھر میں کام کے لئے نوکرانی کی ضرورت نہیں تھی میرے پاس میڈ موجود تھی۔
میں اس سے پیچھا چھڑوا رہی تھی لیکن وہ مسلسل طرح طرح کی دلیلیں کر مجھے قائل کر رہی تھی۔
وہ عمر کے اس حصے میں تھی کہ اب اس سے خدمت کروانا ویسے بھی مجھے کچھ غیر مناسب لگ رہا تھا۔
اماں جو تمھاری مدد میں کر سکی کر دوں گی لیکن میں تمھیں نوکری پر نہیں رکھ سکتی۔میں نے سنجیدگی سے بات کو حتمی انداز میں ختم کرتے ہوئے کہا۔
ناں ناں بی بی میں کوئی خیرات مانگنے نہیں آ ئی میں تو نوکری کروں گی محنت کر کے حق حلال کا رزق کھانے والی ہوں ۔مجھے خیرات نہیں نوکری چاہیے بڑھیا نے میری بات سن کر تھوڑا ناراض لہجے میں جواب دیا۔
میرے شوہر قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے بظاہر وہ میری اور اس بڑھیا کی باتوں سے بے نیاز نظر آ رہے تھے لیکن شاید سب کچھ سن رہے تھے۔
اماں جی آ پ کو کتنے پیسوں کی نوکری کرنی ہے مطلب اگر ہم آ پ کو کام پر رکھیں تو آ پ کیا امید کرتی ہیں کہ آ پ کو کتنی تنخواہ ملے گی اور آ پ کتنے گھنٹے کام کریں گی۔
انہوں نے ا اچانک اماں سے مخاطب ہوکر سنجیدہ لہجے میں کہا۔
ایک برتن دھونے میں ہی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور آ پ کو معلوم ہے جو ریٹ چل رہا ہے آ پ مجھے دے دیں وہ خوشی سے بولی ۔میں اپنے شوہر کے اس انداز پر حیران تھی
اور کچھ خفا بھی کیونکہ گھر کے کام کاج کے لے میڈ رکھنا یہ میری ذمہ داری تھی۔غصہ میرے چہرے سے عیاں تھا۔
ا نہیں ان کاموں میں کوئی تجربہ تھا نہ ہی انہوں نے کبھی دخل انداز ی کی تھی۔ میں ان کے اس فیصلے پر ناخوش تھی ۔ لیکن وہ میری محسوسات سے مکمل بے نیاز اماں کی جانب متوجہ تھے۔
اماں جی آ پ نے درودشریف پڑھنا ہے ۔اتنی دیر جتنی آ پ سمجھتی ہیں کہ اتنی دیر آ پ کام ختم کرلیا کریں گی اس کی تنخواہ میں آ پ کو دوں گا ہر مہینے آ کر اپنی تنخواہ لے جانا۔
میرے سامنے بیٹھی خاتون مجھے بتا رہی تھی اپنی کہانی۔
یہ کیا ہے باجی کیا درود شریف پیسے دے کر پڑھایا جا سکتا ہے؟
جب میں نے یہ بات اپنے شوہر سے پوچھی تو وہ کہنے لگے اگر تم پہسے دے کر اپنے گھر کے کام کروا سکتی ہو تو میں پیسے دے کر اپنا من پسن کام کیوں نہیں کروا سکتا؟
اور میں دلچسی سے سن رہی تھی۔اور سوچ رہی تھی کہ یہ کیسی نوکری ہے؟
یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
واقعتاً اگر ہر کام پیسے دے کر کروایا جاسکتا ہے تو پھر اپنا پسندیدہ کام جس میں جی چاہے ہر لمحہ ہم مشغول رہیں وہ کام کیوں کر پیسے دے کر ہم نہیں کروا سکتے۔؟
میں سوچ رہی تھی۔اور وہ خاتون اپنی بات مکمل کرکے میری جانب متوجہ تھی۔اور میری رائے کی منتظر تھی۔
اور میں اس کے شوہر اور اماں کی اس عجیب ڈیل کے بارے میں سوچتی جا رہی تھی۔۔۔گوشہء نور۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں ۔شکریہ۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے شکریہ۔گوشہء نور

Related Posts

Leave a Reply