(9 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

گوشہء نور کی کرنیں۔ 49 طالب مدینہ منورہ۔ قسط۔۔12 “نعت سنو”

گوشہء نور کی کرنیں۔ 49
طالب مدینہ منورہ۔…..قسط۔۔12
“نعت سنو”
وہ سادات گھرانے سے تھے۔دبئی میں رہائش پذیر تھے۔بن لادن دبی میں سٹور انچارج تھے۔
۔عربی لباس پہنے چہرے پر ریش مبارک سجائے وہ بلکل مقامی باشندے دکھائی دیتے۔چہرہ بلا کا حسین تھا۔
وہ ریاض الجنہ میں جالیوں کے قریب آ کر مراقب ہو کر بیٹھ جاتے اور گھنٹوں سر جھکائے اردگرد سے بے نیاز بیٹھے رہتے ۔
اس دن بھی وہ یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ یکدم اٹھ کھڑے ہوئے۔اور باب جبریل امین کی طرف بڑھے اور باہر صحن کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔
بائیں جانب جنت البقیع کی جانب مڑے اور وہاں کھڑے ہوئے اور وہاں لوگوں سے پوچھنے لگے” محمد نذر اسحاق کون ہیں؟
وہ اس دیوار کے ساتھ ایک شخص بیٹھا نعت پڑھ رہا ہوگا اور بند آ نکھوں سے اس کے آ نسو رواں ہو ں گے وہاں کھڑے ایک شخص نے جواب دیا۔
وہ شخص تیزی سے آ گے بڑھا قریب ہی اسے ایک درمیا نی عمر کا شخص نظر آ گیا جو دھیمی آ واز میں بہتی آ نکھوں سے بیٹھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثنا بیان کر رہا تھا دنیا ما فیھا سے بے خبر۔۔
سب سے بے نیاز۔۔
دھیمی آ واز اپنی ہی دھن میں مست وہ نعت پڑھ رہے تھے ۔
۔
“”ہر پاسے رحمت وسدی اے ہتھ بنھ کے بہاراں کھلیاں نیں”
اس شخص نے لمحہ بھر کیلئے انہیں دیکھا پھر نہایت عقیدت و احترام سے ان کے قریب جا کر سلام کیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ یوں جیسے وہ ریاض الجنہ میں مراقب ہو کر بیٹھا کرتا تھا۔
وہ صاحب نعت پڑھتے جا رہے تھے اور یہ بیٹھا سن رہا تھا۔۔
نعت پڑھنا ان کا جنون تھا۔
شوق تھا ۔
وہ ایک ایک نعت کو کئی کئی سال پڑھا کرتے ٹھے۔
سننا تو لفظ شاید اس کی کیفیات کو بیان کرنے کے لیے چھوٹا پڑ جائے وہ اس وقت یوں تھا جیسے اس کا پورا وجود ہی کان بن بن گیا ہو اور وہ اس دھیمی آ واز کو اپنے اندر سمونے میں کوشاں ہو ۔۔
وہ “ظہوری ” کی نعت تھی۔
ہوئی دونی مہک فضاوا ں دی
گئی قسمت جاگ ہواواں دی
جب وہ اس شعر پر پہنچے تو انے والے شخص نے بھی ساتھ لقمہ دیا۔اس نے نے دوبارہ پڑھا۔
انہوں نے پھر لقمہ دیا۔۔
انہوں نے پھر سے پڑھا۔
یوں بار کے بار وہ مجھ سے یہ شعر پڑھاتے رہے۔
اور وہ دھراتے گئے۔
بار بار دھراتے رہے۔
ہر پاسے رحمت وسدی اے
ہتھ بنھ کے بہاراں کھلیاں نیں۔
ہوئی دونی مہک فضاوا ں دی۔
گئی قسمت جاگ ہواواں دی
انج لگدا اے دھول مدینے دی
جیویں سر وچ پالئی کملیاں نے۔
کوئی روکو یار ظہوری نوں
دعویٰ نہ کرے محبت دا
اس عشق دے پننڈے و۔ چ وڑ کے
بھل گیا ں بڑیاں بڑیاں نے ۔
نماز کا وقت قریب تھا ۔انہوں نے اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی ثناء خوانی کا سلسلہ منقطع کیا تو گویا وہاں بیٹھے لوگوں کی یہ کیفیت لگ رہی تھی جیسے وہ کسی اور جہاں سے ہو کر واپس یہاں آ ئے ہوں۔
وہ شخص اپنے آ نسو خشک کرکے ان سے مخاطب ہو ا اور کہنے لگا اپنا تعارف کروا ئیں۔
میں نے اپنا نام بتایا۔
پھر وہ بولا میں بن لادن کمپنی میں ملازم ہوں دبئی میں ڈیوٹی پر مامور ہوں۔ سر کار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔الحمداللہ ۔
میری عادت ہے جب بھی آ تا ہوں ریاض الجنہ میں سرکار دوعالم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مراقب ہو کر بیٹھا رہتا ہوں۔
آ ج میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔اور میرے لبوں پر جناب ظہوری کی نعت جو ابھی آ پ پڑھ رہے تھے بہت مچل رہی تھی۔
بہت جی چاہ رہا تھاکہ میں یہ نعت پڑھوں سرکار کی خدمت میں لیکن جیسا کہ آ پ کو معلوم ہے وہاں پر موجود شرطے ایسا کرنے نہیں دیتے۔
لیکن دل تو دل ہے۔
جب یہ مسلسل نعت کے لیے مچل رہا تھا ۔اسی اثناء میں میری سماعت میں میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف یہ حکم پہنچایا گیا باہر جاؤ باب جبریل سے سیدھے ہاتھ جانا وہاں ایک شخص جس کا نام محمد نذر اسحاق ہے بیٹھا ہوا یہ نعت پڑھ رہا ہے اس سے جاکر یہ نعت سنو ۔۔
وہ بات کر رہا تھا اور وہاں بیٹھے سب لوگ رو رہے تھے۔
ڈار صاحب جب یہ واقعہ بیان کر رہے تھے تو مسلسل ان کی آ نکھیں بہہ رہی تھیں ۔
کیا میرے آ قا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے امتی کی نعت جب وہ آ پ کی خدمت میں پیش کررہا ہوتا ہے تو سن رہے ہوتے ہیں؟
کیا جب کوئی دل آ پ کی یاد میں تڑپ رہا ہوتا ہے آ پ اس کی تڑپ سے آ گاہ ہوتے ہیں۔
اس کی تڑپ کا مداوا بھی کرتے ہیں میرے کریم آ قا۔۔
اپنی امت سے اتنا پیار کرتے ہیں۔
اتنے شفیق آ قا۔
اتنے کریم آ قا۔
میرے رب کے حبیب اور امت کے کریم آقا۔
تحریر پسند آئے تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔چاہیں تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ ۔۔۔۔گوشہءنور
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔

Related Posts

Leave a Reply