گوشہء نور کی کرنیں ۔ 39

گوشہء نور کی کرنیں۔46 امین ڈار…10 موئے مبارک کی عطاء۔2

گوشہء نور کی کرنیں۔46

طالب مدینہ منورہ

موئے مبارک کی عطاء۔…2

ان کے چہرے کومدینہ منورہ کے حرم نبوی شریف میں میں میں اکثر آ تے جاتے دیکھتا تھا۔

ان کی چہرے کی کشش اور شخصیت کی جاذبیت مجھے ہر وقت ان کی جستجو میں رکھتی۔
ان میں کچھ ایسا خاص تھا کہ میری روح ان کی جانب کھچتی چلی جاتی۔

جی چاہتا ان کے قریب جاؤ ں۔۔

ان سے باتیں کروں ۔

یہ کون ہیں؟

ان سے میرا کیا رشتہ کیا تعلق ہے؟

میں ان کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔

مجھے معلوم ہوا کہ وہ وہ ایک سید زادے تھے۔خاص سعودی لباس میں ملبوس وہ حرم نبوی شریف میں کسی اعلیٰ عہدے پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

میں کسی نہ کسی طریقے سے ان سے راہ ورسم بنانے میں کامیاب ہو گیا۔رفتہ رفتہ میری ان سےعقیدت،محبت اور خدمت نے مجھے ان کے بہت قریب کر دیا۔

اب میں ان کی شفقت محبت اور دوستی میں ان کے کافی قریب آ چکا تھا۔

میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے گھرانے کا یہ چشم وچراغ یقینا ان کی آ ل کی بہت سی قیمتی چیز وں کا وارث تھا۔

ڈار صاحب ماضی میں ڈوبے ہمیں بتا رہے ٹھے ۔

ہم مدینہ منورہ میں ان کے پاس بیٹھے ان سے روداد نہایت دلچسپی سے سن رہے تھے۔

ان کا کیا نام تھا؟

میں نے اپنی معلومات بڑھا نے کے لئے پوچھا۔

میری بات سن کر وہ سنجیدہ ہو گئے۔پھر آ ہستہ آ واز میں بولے معزرت خواہ ہوں میں آ پ کو ان کا نام اور ان کی ذات کے بارے میں نہیں بتا سکتا۔

میں جب بھی پاکستان آ تا اپنی حیثیت کے سے بڑھ کر ان کے لیے ان کےبیوی بچوں کے لیے تحائف لے کر جاتا۔
میرا جی چاہتا میں اپنے وطن کی ہر قیمتی چیز اٹھا کر ان کے قدموں میں جا کر ڈال دوں۔

یہ سادات گھرانہ جانے کیوں ہر آ نے والے دن مجھے عزیز تر ہوتا جا رہا تھا۔

یہ بتاتے ہوئے ان کے لہجے میں ایک عجیب وارفتگی اور جوش تھا۔

میں ان کی باتیں سن کر چشم تصور میں سفید براق لباس میں ملبوس ان پاک بی بی ملکہ بہشت کے خانوادے کے چشم چراغ کو حرم شریف میں ڈھونڈ رہی تھی۔

وہ امام حرم تھے؟

موذن تھے؟

یا کسی اور دفتری کام پرمامور؟

میں خیال میں انہیں حرم نبوی شریف میں دیکھ رہی تھی۔
ان کا گھرانہ جنہوں نے چودہ صدیاں اسی سرزمین پر بیتائیں۔

سادات گھرانے پر ، اہل بیت پر جو مشکلات آ ئیں وہ تاریخ کے کاغذوں پر آ ج بھی پڑھنے والوں کے دلوں کو تڑپا دیتی ہیں۔

زیادہ تر لوگ ہجرت کرکے دور دراز علاقوں میں چلے گئے اور بہت کم مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں باقی رہے۔

اف ان کے پاس ۔۔

ان کے گھروں میں۔۔۔

کیا کیا نشانیاں ہوں گی ان کے آباؤ اجداد کی۔

یہ گھرانہ سینہ بہ سینہ کتنے راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہوگا۔
کتنی باتیں ہوں گی جو ہر نئی بننے والی ماں اپنے بچے کو روز سناتی ہو گی۔

ماں اپنے بچوں کو گود میں لئے یہ ضرور سوچتی ہوگی میرا بیٹا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی نسل سے ہے۔

میری بیٹی کی نانی بہشتوں کی ملکہ ہے۔

شہزادی کونین سے میری بیٹی کی نسبت ہے۔

میرے بچو آ پ کو معلوم ہے آ پ کے نانا کون تھے؟

ہر ماں سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہہ آ نکھوں میں چھپائے اپنے بچوں سے سرگوشی میں پوچھتی ہوگی۔

میں خیال میں اس خانوادے تک پہچ چکی تھی ۔

اس خاندان کے بچے بچے کی آ نکھوں میں اپنی پاک بی بی فاطمہ الزہرا کو ڈھونڈنے لگی۔

میں نے سنا تھا کہ ماں باپ کبھی نہیں مرتے۔

وہ اپنی اولاد میں زندہ رہتے ہیں۔

نسل کا ہر بچہ اپنے آباؤ اجداد کے وجود کی کوئی نہ کوئی شبیہ اپنے وجود میں لئے پھر رہا ہوتا ہے۔
کوئی ان کی آ نکھیں لے لیتا ہے کوئی قد اور کوئی مسکرہٹ کا انداز چرا لیتا ہے۔

عادتیں اور چال ڈھال رکھ رکھاؤ نسلوں کا پتہ دیتے ہیں۔میں اس گھرانے کے چہروں میں ان کے آباؤ اجداد کو تلاش کر رہی تھی۔

میری بیوی اکثر مجھ سے پوچھتی میری خواب کب پوری ہوگی؟ڈار صاحب ذرا توقف سے گویا ہوئے۔

اس لاہور والے بندے نے تو کہا تھا جسے خواب میں عطاء ہو جائے اس پر حقیقت میں بھی کرم ہوجاتا ہے۔
آ پ یقین مانیں مجھے اپنا خواب حرف بہ حرف یاد ہے ۔
بلکل کلیئر اور واضح اس کی جستجو اس کی لگن اس کی اپنی تعبیر پانے کے لیے بیقرار ی مجھے بھی تڑپا دیتی۔
بیگم مدینہ منورہ میں اپنے شہر میں رکھا ہوا ہے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۔
کوئی بھی شخص اس دھرتی کا مکین اسوقت تک نہیں بن سکتا جب تک سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پر خاص نظر نہ ہو۔
وہ تو اپنے ہر امتی کے احوال سے باخبر ہیں پھر تمھاری چاہت بیقرار ی ان سے پوشیدہ کیسے تہ سکتی ہے میں نے اسے تسلی دی۔

یہ بات بلکل درست ہے ۔ دنیا میں کسی بھی شخص کی محبت دوسرے شخص تک اپنی حدت ضرور پہنچا تی ہے۔پھر یہاں تو معاملہ ہی فرق ہے۔

آ متی اور رحمتہ للعالمین کا معاملہ۔۔

جو اپنی امت قیامت تک آ نے والی امت کو پہچانتے ہیں۔جانتے ہیں اور ان سب سے محبت بھی کرتے ہیں ۔

بے پناہ محبت ۔

اس امت کی بخشش اور مغفرت کے لیے دعا ئیں بھی کرتے رہے ہیں۔

وہ آ قا۔۔۔

وہ میرے کریم آ قا علیہ الصلواۃ والسلام۔۔

ایک دن مجھے ان سید زادے نے بلایا اور فرمانے لگے کل مجھے بعد از نماز عصر مسجد نبوی شریف میں فلاں جگہ ملنا۔

اور ہاں اپنے ساتھ سونے کی انگوٹھی وغیرہ رکھنے کے لیے جو چھوٹی چھوٹی ڈبیا استعمال ہوتی ہیں وہ لے کر آ نا۔

ایک گول اور ایک چوکور۔

وقت اور جگہ بتا کر وہ رخصت ہوگئے اور میں بیقرار ی سے گھڑیاں گننے لگا۔
انہوں نے دونوں ڈبیاں میرے ہاتھوں سے لے لیں پھر ایک شفقت بھری نگاہ میرے چہرے پر ڈالی اور فرمانے لگے کل اسی وقت اسی جگہ آ نا۔

ڈات صاحب کی آ واز بات بتاتے ہوئے کہیں دور سے آ تی ہوئی ۔محسوس ہو رہی تھی۔
پھر اگلے روز کیا کہا انہوں نے میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
اگلے روز ۔۔۔وہ ذرا توقف سے بولے۔

اگلے روز میں نہا دھو کر تیاری کرکے عاجزی کی تصویر بنا اس جگہ وقت مقررہ سے پہلے ہی حاضر تھا۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں چلتے ہوئے میری جانب آ رہے تھے۔
قریب پہنچ کر میری جانب عجیب نظروں سے دیکھا۔اج وہ مجھے بدلے بدلے سے لگ رہے تھے۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں نے ادب سے کہا۔
وعلیکم اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حبیبی انہوں نے جواب دیا۔
پھر ایک چھوٹا سا لفافہ میری جانب بڑھایا اور فرمانے لگے گول ڈبیہ میں میرے آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کا موئے مبارک ہے اور چوکور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کا۔

یہ آ پ کو خود بتلائیں گے کہ یہ اصلی ہیں۔
اگر کوئی شک ہو تو آ کر مجھ سے اس کی سند لے لینا۔اور ہاں ایک بات میری دھیان سے سن لیں اور اس پر عمل لازم کرنا وہ کیا میں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
آ ج کے بعد مجھ سے دوبار ہ کبھی بھی ملنے کی کوشش نہ کرنا ۔
نہ میرے بارے میں کسی سے ذکر کرنا ۔
نہ کبھی آ پ کی زبان پر میرا نام آ ئے۔
کبھی بھی نہیں ۔
اب اپ جاؤ اللہ کریم آپ کا حامی وناصر ہو۔
خدا حافظ۔(جاری ہے)
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہوسکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ۔۔

Related Posts

Leave a Reply