(12 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

گوشہء نور کی کرنیں۔47. “طالب مدینہ منورہ ” قسط 11

گوشہء نور کی کرنیں۔۔47.
“طالب مدینہ منورہ ” ۔۔۔قسط 11
“وارنے کے سکے” اور خاک حجرہ عائشہ صدیقہ۔
روضہ مبارک اس جگہ پر ہے۔یہاں اس کے بلکل ساتھ حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا حجرہ مبارک ہو ا کرتا تھا۔اور اس کے دوسری جانب تمام ازدواج مطہرات کے حجرے لائین میں ہوتے تھے ۔ایک انڈین خاتون اپنے خالص ہندوستانی لہجے میں دوسری کو بتا رہی تھی وہ درمیانی عمر کی ایک روایتی نقش ونگار والی ہندوستانی عورت شوق و عقیدت کی تصویر بنی آنکھوں میں بے پناہ محبت سمیٹنے اس کی جانب پورے تن من سے متوجہ بہت بھلی دکھ رہی تھی۔
یہ ایک روشن صبح تھی۔خواتین کی زیارت کا وقت تھا۔ابھی عمرہ زائرین کارش نہیں شروع ہوا تھا ۔ریاض الجنہ میں بھی کوئی خاص ہجوم نہیں تھا ۔میں زیارت کے لئے ریاض الجنہ میں موجود تھی کہ اس خاتون کی باتوں نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
اس کی ساتھی خاتون یقینا وزٹ پر آ ئی ہوئی تھیں جنہیں وہ مسجد نبوی شریف کی زیارت ایک منجھے ہوئے گائیڈ کی طرح کروا رہی تھیں۔ہم بھی ابھی نئے نئے آ ئے تھے اس لیے میں بھی اس کی باتیں غور سے سننے لگی۔
مجھے متوجہ دیکھ کر وہ بولیں آ پ وزٹ پر آ ئی ہیں؟
میں نے کہا نہیں ہم یہاں اقامہ پر ہیں لیکن نئے آ ئے ہیں۔
وہ دو ستانہ آنداز میں مسکرا ئی۔یہ وزٹ پر آ ئی ہیں انڈیا سے پہلی مرتبہ آ ج مدینہ منورہ میں حاضری دی ہے۔مجھے تو بہت برس بیت گئے ادھر نئی نئی شادی ہو کر آ ئی تھی اب تو بچے جوان ہیں ماشاءاللہ۔
پھر وہ اپنی رشتہ دار کی جانب متوجہ ہو کر بولیں۔
اپ کو معلوم ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ بیاہ پر سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد کے بعد آ پ کے ہاں تشریف لائیں تو اپ نے ان کے لیے یہاں اس جگہ حجرہ تعمیر کروایا۔اس کی چھت کھجور کے تنے اور شاخوں سے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ڈالی۔اور وہی چھت آ ج تک موجود ہے۔ اس کے اوپر وقت کے ساتھ گنبد تعمیر ہوئے لیکن اس چھت کو کوئی تبدیل کر نے کی جرات نہیں کر سکا۔
۔پھر وہی حجرہ مبارک آ پ کی آ خری آ رام گاہ بنا۔
اس حجرہ مبارک کی چھت دیوار یں اور دروازے انہیں وقتوں کے ہیں ۔اس کے بعد اس کے اردگرد تعمیرات ہوئیں لیکن اس اصل تعمیر جوں کی توں موجود ہے۔وہ عورت آ ہستہ آ واز میں بتا رہی تھی۔
اس کے دروازے کی لکڑی کا ایک چھوٹا سا پیس میرے شوہر کو کسی وطنی (وطنی مقامی زبان میں سعودی عرب کے باشندوں کو کہاجاتا ہے۔) نے دیا تھا۔یہ سب بھی اس نے بتایا۔اب ایک سائیڈ پر آ کر ہمیں بتا رہی تھی۔
وہ ننھا سالکڑی کا ٹکرا اس کے پاس نسل در نسل منتقل ہو تا ہوا پہنچا تھا۔وہ کسی صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ان لوگوں کے پاس بہت سی قدیم اشیاء ہوتی ہیں جو نسلا ان کے ہاں چلی آ رہی ہوتی ہیں ۔اگر کسی خارجی سے ان کی دوستی ہوجائے یہ اس پر مہربان ہو جائیں اور اس کی عقیدت و احترام اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پرکھ لیں تو اسے ان میں سے کچھ نہ کچھ عطاء کر دیتے ہیں وہ سر گوشیوں میں ہمیں بتا رہی تھی۔ان کے آباؤ اجداد تو بے حد عقیدت و محبت والے لوگ تھے ۔ان کے پاس بہت قیمتی تاریخی نایاب ورثہ موجود ہے لیکن یہ کسی کو عام بتاتے نہیں ظاہر بھی نہیں ہونے دیتے ہاں جس پر مہربان ہو جائیں۔۔
یا یوں کہو جس کی تڑپ آ قا کے دربار میں منظور ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔میرے ذہن میں اس انڈین خاتون سے سنی ہوئی یہ باتیں محفوظ تھیں میں نے ان کی بابت ڈار صاحب سے پوچھا کہ کیا ایساواقعتا ہوتا ہے؟
وہ مسکرا ئے پھر بولے جی ہاں یہ سچ ہے۔
کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا کوئی واقعہ ہوا؟
ایسی کوئی متبرک شے آ پ کے حصے میں بھی آ ئی ہو؟
میرا سوال سن کر وہ چپ ہوگئے۔شاید وہ فیصلہ کر رہے تھے اس بارے میں انہیں بات بھی کرنی چاہیے یا خاموشی اختیار کریں۔
پھر بولے بہت برسوں پرانی بات ہے میرے ایک بہت پیارے دوست تھے جن کانام افضل تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور عقیدت میں بے حد سرشار ۔۔۔
کسی بھی بیت اطہار کے فرزند کے بارے میں انہیں معلوم ہوتا تو دل وجان سے اس کی خدمت میں لگ جاتے۔سادات سے اس کی عقیدت دیکھ کر رشک آ تا ۔
ایک دن وہ بے حد خوش تھا۔اور بہت پر جوش بھی مجھے اپنے گھر بلایا اور کہنے لگا آ ج می بہت خوش ہو ں۔اج تو افضل پر کرم ہو گیا۔۔
آقا علیہ الصلاۃ السلام کی مجھ پر نوازش ہوگئیں ۔
کیا ہو گیا؟
کچھ مجھے بھی تو بتاؤ میں اس کی حالت دیکھ کر متجسس تھا۔
وہ کہنے لگا میرا ایک پاکستانی دوست تھا جس کا تعلق رحیم یار خان سے تھا ایک سعودی کے ہاں ڈرائیور تھا۔ ایک دن مجھے کہنے لگا کچھ ہے مینٹیننس کا کام ہے اگر آ پ کرنا چاہو تو مناسب معاوضہ ملے گا بہت اچھے لوگ ہیں ۔میں نے حامی بھر لی۔
ان کے ہاں کام کام شروع کیا۔وہ ایک جوان لڑکا تھا جو مجھ سے کام کروا رہا تھا۔
ایک دن میں نے اس سے پوچھا آ پ کے والد صاحب کیا کرتے ہیں ۔کہنے لگا وہ زائرین کو زیارات کرواتے ہیں۔
پھر وہ میرے ساتھ باتیں کرنے لگا ۔
باتوں میں اس نے مجھے بتایا کہ ان کا تعلق اہل بیت سے ہے۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ کوئی عام گھرانہ نہیں ہے ۔
مجھے اس گھر سے ایک عجیب سی کشش محسوس ہو رہی تھی جسے الفا ظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
میں بیقرار تھا اس کے والد صاحب سے ملنے کے لیے۔میں نے اس سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا۔وہ ٹال گیا۔
میرا کام ختم ہو گیا تو اس نے مجھے پچاس ریال مزدور ی دی۔ ۔میں نے کہا مجھے مزدور ی نہیں چاہے۔
وہ حیران تھا کہ آ خر میں کیوں بضد ہوں ۔
میں اس کے والد صاحب سے کیوں ملنا چاہتا ہوں ؟
اس کے والد صاحب کا نام رفعت بکری تھا ۔وہ باب عثمان کے باہر صفرا لگاتے تھے۔اور وہی ان کا پکا ٹھکانہ تھا۔ہمیشہ وہیں بیٹھے سر جھکائے عبادت میں مشغول نظر آ تے۔
یہ سب اسے سمجھ نہیں آ رہاتھا۔میرے اصرار پر
آ خر کار وہ مان گیا اور اس نے حامی بھر لی۔مجھے میری مزدور ی کے پیسے پکڑائے اور اپنے والد صاحب کو بلا لایا۔
تقریباً چار یا ساڑھے چار فٹ قد کے ایک دمکتے چہرے والے بزرگ کمرے میں داخل ہونے۔سفید براق سعودی لباس میں ملبوس تھے انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ مصافحے کے لیے میری طرف بڑھایا ۔میں نے محسوس کیا کہ جیسے میرے ہاتھ نے ریشم کو چھو لیا ہو ۔بلکل نرم ملائم اور شفقت بھرے ہاتھ نے مجھے ایک ایک عجیب سے سکون کا احساس دیا۔میں نے بوسہ دیا۔ان کے وجود کی خوشبو مجھے ان کی نسلوں تک لے گئی.
میں نے آ گے بڑھ کر ان کی قدم بوسی کی ۔عقیدت کے آ نسو تھے کہ میری آ نکھوں کیا میرے چہرے کو بھی بگھو چکے تھے۔
وہ میری تڑپ میری عقیدت و محبت سے پریشان تھے.
بار بار نرم لہجے میں کہ رہے تھے .
ایش مشکل؟
ایش مشکل؟
(کیا مسئلہ ہے؟)
انت مجنوں؟
)کیا تم دیوانے ہو)
میں انہیں کیا بتاتا کہ میرا مسئلہ کیا ہے؟
۔بلکل نرم ملائم اور شفقت بھرے ہاتھ نے مجھے ایک ایک عجیب سے سکون کا احساس دیا۔میں نے بوسہ دیا۔ان کے وجود کی خوشبو مجھے ان کی نسلوں تک لے گئی ۔
میں نے گے بڑھ کر ان کی قدم بوسی کی ۔عقیدت کے آ نسو تھے کہ میری آ نکھوں کیا میرے چہرے کو بھی بگھو چکے تھے۔
میں نے وہ ریال ان کے قدموں میں ڈال دئیے اور التجا کی عالیجاہ مجھے ریال نہیں چاہیے۔
۔مجھے آ پ نواز دیں ۔
مجھے اپنے اعلیٰ خاندان کی کوئی نشانی کوئی خیرات دیں ۔
حضورمجھے آ پ کی کسی خد مت کا کوئی معاوضہ نہیں چاہے۔
میں ان کے سامنے عقیدت کی تصویر بنا ہوا تھا۔
تم کل مجھے جمتہ کے دن” باب بلال ” کے باہر ملنا۔ انہوں نے لمحہ بھر کے توقف کے بعد کہا۔
شاید وہ میرے دل کی آ رزو پڑھ چکے تھے۔
جمعہ المبارک کا انتظار میں نے بہت بیقرار ی سے کیا۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور میں نہا دھو کر اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں درود شریف پڑھتا ہوا وہاں موجود تھا۔
مقررہ وقت پر وہ تشریف لائے اور دو چیزیں مجھے عطا فرمائیں۔
پرانے وقتوں میں جب شمع رسالت کے پروانے آ پ علیہ الصلواۃ والسلام کی خدمت میں دورر دراز سے آ تے تو اپنی عقیدت ومحبت کی وارفتگی کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے۔
اور آ پ کی لحد مبارک پر سونے کےسکے نچھاور کئے جاتے تھے۔
یہ سکے مقامی لوگ اٹھا لیتے اور سنبھال کر برکت کے لئے اپنے پاس محفوظ کر لیتے کہ یہ سکے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے “وارنے ” کے ہیں۔
چند سکے انہوں نے مجھے عطاء فرمائے اور خاک حجرہ مبارک کی تھوڑی سی مقدار بھی مجھے دی۔
بات کرتے کرتے فرطِ جذبات سے اس کی آ واز رندھ سی گئی۔
تحریر کیسی لگی؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔ آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔ شکریہ۔
(گوشہء نور )

Related Posts

Leave a Reply