Home

گوشہء نور کی کرنیں مہمان سے میزبان کا سفر( حصہ دوم )+( آ خری حصہ) باباجی یا سین۔

گوشہء نور کی کرنیں
مہمان سے میزبان کا سفر( حصہ دوم )+( آ خری حصہ)
باباجی یا سین۔
ہم ایک کشادہ کمرے میں کھڑے تھے یہ ایک وسیع و عریض حال نما کمرہ تھا جس کے چاروں طرف سعودی سٹائل میں مجلس لگی ہوئی تھی ۔مجلس سعوی زبان میں زمین کے ساتھ جڑا ہوا صوفہ ہوتا ہےجس کی بیک سائیڈ دیوار کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ مقامی لوگ لوگ زمین پر قالین بچھا کر بیٹھتے ہیں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ یہ مجلس ہوتی ہے ۔
مقامی گھروں میں مجلس کا رواج عام ہے۔ کمرے کے تینوں طرف دیواروں کے ساتھ ساتھ مجلس تھی۔ اور ایک دیوار کے ساتھ ایک تخت بچھا ہوا تھا ۔تخت بالکل سادہ تھا۔لیکن اس پر ایک عجیب شان و شوکت تھی۔ یوں جیسے یہاں کوئی بادشاہ بیٹھ کر اپنا دربار سجاتا ہو۔
اس وقت اس کمرے میں ہمارے سوا کوئی نہیں تھا تھا بابا جی ہمیں بتا رہے تھے کہ یہ بزرگوں کے بیٹھنے کا کمرہ ہے یہی پر بزرگ بیٹھ کر وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے ۔اور اپنے عقیدت مندوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سمجھایا کرتے تھے۔ جو ایک دفعہ ان بزرگوں سے مل لیتا اس کا سینہ اسلام کے لئے روشن ہو جاتا۔وہ مستجاب الدعوات تھے لوگ دور دور سے ان کے پاس دعا کروانے آتے تھے۔یہ کمرہ ایک چھوٹے سے بارعب دربار کا منظر پیش کر رہاتھا۔
ایک دن بزرگ یہاں تشریف فرما تھے اور اس بلڈنگ کے مالک کے والد صاحب ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی حضور اور میرے لئے دعا فرمائیں میرے بیٹوں کا مسکن اللہ تعالی مدینہ منورہ کو بنا دے اور ان کے روزگار کا انتظام یہیں پر ہوجائے باباجی نے شفقت سے ہاتھ اٹھائے آنکھیں موند کر انتہا ئی جذب کے عالم میں دعا دی۔
سب نےحاضرین محفل نے” آ مین” کہا ۔۔۔۔
پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اسی شخص کے دونوں بیٹوں کو اللہ کریم نے بابا جی کی دعا کے صدقے اتنا نوازا کے آج مدینہ منورہ میں ان کا بہت بڑا بزنس سیٹ ہے۔ انہوں نے یہی پوری بلڈنگ لے رکھی ہے اور اس بلڈنگ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمانوں کے لیے وقف کر دیا ہے ۔
ان بزرگوں کی خوشبو برسوں بیت جانے کے باوجود آج میں فضا میں رچی بسی محسوس ہو رہی تھی خالی کمرا یوں لگ رہا تھا جیسے یہاں بہت سی نورانی ارواح ابھی بھی موجود ہو ں اور باادب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں گلدستہ ہاءے درود بھیج رہی ہوں۔درود کے پھولوں کی خوشبو فضا کو معطر کئے دے رہی تھی اور فضا میں ایک خاص قسم کی طمانیت اور ادب آج بھی موجود تھا جو ہمیں عام طور پر اللہ والوں کی محفلوں میں نظر آتا ہے ۔
چلیں نماز کا ٹائم ہونے والا ہے حرم چلتے ہیں آپ لوگ تیاری کر لیں میں بھی وضو کر کے آتا ہوں بابا جی یاسین یہ کہہ کر کر اپنے کمرے کی طرف چل دیئے۔ اور ہم اپنے کمرے میں آکر حرم جانےکی تیاری میں لگ گئے ۔
جب ہم وضو کر کے نیچے آئے تو ایک سیاہ رنگ کی بڑی سی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر باباجی کسی مستعید ڈرائیور کی طرح موجود تھے۔
بابا جی یاسین سفید داڑھی سفید توپ (مقامی زبان میں اس لمبے سے چوغے کو کہتے ہیں جو سعودی لوگ پہنتے ہیں) سفید رومال انہوں نے مقامی لوگوں کے سٹائل میں سر پر لیا ہوا تھا ۔سر سے پاؤں تک سفید لباس سفید داڑھی اور سفید رنگت والے نورانی شخصیت کے مالک باباجی یقینا زندگی کی ستر کی دہائیوں کو عبور کر چکے تھے ۔ اتنی زیادہ عمر ہونے کے باوجود باباجی انتہا ئی مستعد تھے میں حیران رہ گئی کہ وہ اس عمر میں بھی اتنی اچھی ڈرائیونگ کر رہے تھے۔
وہ ہمیں لے کر مدینہ منورہ کے جانے پہچانے راستوں سے ہوتے ہوئے مسجد نبوی کی طرف رواں دواں تھے۔ ان کی عمر ان کی ڈرائیونگ اور ان کی کی پھرتی اور مہمانوں کے لیے اس عمر میں اتنی خدمت گزاری کا جذبہ یقینا کوئی عام بات نہیں تھی ۔مہمانداری تو اہل مدینہ کو وراثت میں ملی ہے۔اس شہر نے مہمان داری کی اتنی اعلی درجے مثالیں دیکھی ہیں جن کو رہتی دنیا تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
ہم مسجد نبوی کی پارکنگ میں موجود تھے جو کہ حرم کے صحن کے نیچے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔گاڑی سے نیچے اترنے کے بعد وہ ہمیں ہدایات دینے لگے کہ واپسی پر ہمیں کس جگہ ان کا انتظار کرنا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کہ واپسی پر کس جگہ ہمیں انتظار کرنا ہےآپ لوگ یہاں پہنچ جائیں گے اور ایک دوسرا ساتھی آ پ کو بلڈنگ پر واپس لے کر جائے گا۔ جب کہ باباجی لیٹ واپس آئیں گے۔انہوں نے ساری بات ہمیں سمجھا دیی ۔
ہم حرم سے واپس بلڈنگ پہنچ چکے تھے اور میرے دل میں بابا جی کے بارے میں بہت کچھ جاننے کی خواہش تھی میں نےاپنی کزن سےپوچھا ہم اب باباجی سے کب مل سکتے ہیں باباجی لیٹ واپس آتےہیں بلڈنگ کے سب سے اوپر والے فلور پر ان کا کمرہ ہے جب وہ آجائیں گے تو ہم وہاں جا کر ان سے مل سکتے ہیں اس نے جواب دیا


آ خری حصہ۔
خاک شفاء کا پیالہ۔
رات کافی بیت چکی ہے ابھی تک بابا جی نہیں آئے میں نے پوچھا آپ فکر نہ کریں جب وہ آ جائیں گے تو ملا قات ہوجائے گی میری کزن نے میری بے قراری دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ۔ہاں آپ روز ان سے ملتی ہیں میں نے اس سے سوال کیا جی وہ مسکرائی ہم رات کو انتظار میں رہتے ہیں جب وہ آتے ہیں تو پھر ہم کمرے میں ان سے ملنے پہنچ جاتے ہیں ان کی خوبصورت نصیحت آموز باتیں سنتے ہیں ۔ اس نے تفصیلی جواب دیا ۔ میں نے اپنی بے چینی کو کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی چلو ایسا کرتے ہیں ہم چھت پر چلتے ہیں اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اپنی کزن سے کہا کیوں؟ اس نے پوچھا .آپ نے کہا ہے نہ کہ ان کا چھت پر کمرہ ہے تو ہم باہر چھت پر ان کا انتظار کریں گے جونہی وہ آئینگے ہم ان سے مل لیں گے۔میں نے اسے کہا بتایا۔وہ ہنسنے لگی چلے چلتے ہیں اور ہم دونوں چھت پر آگئے ۔
ہم دونوں کے گھر والے اپنے اپنے کمروں میں دن بھر کی تھکاوٹ کے باعث سو چکے تھے لیکن میری آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہ تھا میں ان بابا جی کی شخصیت کے سحر میں گرفتار تھیں اور ان کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ سفر کی تھکاوٹ اور اتنی رات کے گزرنے کے باوجود بھی میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی یوں ہم بلڈنگ کی چھت پر آگئے ۔
فضا میں ہلکی ہلکی ٹھنڈ تھی گنبد کو چھو کر آتی ہوئی ہوائیں ہمیں یوں گلے مل رہی تھی کہ دل میں ایک ٹھنڈک سی پڑ رہی تھی۔ بلڈنگ ایسی جگہ واقعہ تھی کے ایک طرف مسجد نبوی تھی۔ تو دوسری طرف احد کے پہاڑ یہاں سے بہت قریب تھے ۔
خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور چھت کا دروازہ کھلا رات کے اندھیرے مدھم تاروں کی روشنی میں باباجی کا سفید سایہ نمودار ہوا ۔انہیں دیکھ کر ہم دونوں خوشی سے ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
سارے دن کی مشقت اور بے آرامی نے بابا جی کے چہرے پر کوئی بھی اثرات نہیں چھوڑے تھے وہ حسب معمول تروتازہ اور مسکرا رہے تھے ۔میری بیٹیاں ابھی تک جاگ رہی ہیں ؟انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا جی بابا جی ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے ۔
میں نے چھت کے اوپر اپنا کمرہ اس لیے منتخب کیا تھا کہ میں رات سونے سے پہلے اور صبح اٹھنے کے بعدچاہتا تھا کہ میری آنکھیں گنبد کا دیدار کریں یہ کہہ کر وہ مسجد نبوی کی سائیڈ والی دیوار کی طرف بڑھے پھر ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بتانے لگے کہ یہاں سے گنبد بہت واضح دکھائی دیتا تھا۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی یہ بلند وبالا بلڈنگ بن گی ہیں جس کی وجہ سے اب گنبد دکھائی نہیں دے رہا ان کے لہجے میں اداسی چھا سی گئی تو کیا ہوا بابا جی آپ تو ابھی بھی دن رات حرم جاتے ہیں ۔آپ کو کیا مشکل۔ مشکل تو پردیسیوں کے لئے ہےمیری کزن انہیں تسلی دیتے ہوئے بولی ۔
آئیے اندر چلتے ہیں یہ کہہ کر وہ کمرے کی طرف بڑھے یہ ایک کشادہ کمرہ تھا جس کے اندر داخل ہوتے ہی سامنے چھوٹی سی فریج پڑی ہوئی تھی اور زمین پر صاف ستھرا قالین بچھا ہوا تھا سامنے والی دیوار کے ساتھ چھوٹی سی مجلس پڑی تھی انہوں نے ہمیں وہاں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اور بولے بچے کہاں ہیں؟ ہم نے کہا بچے تو سو چکے ہیں وہ بولے میں نے تو ان کے لیے آئس کریم لاکر فریج میں رکھی تھی پھر وہ آئس کریم اور جوس اٹھالائے ہمیں تھماتے ہوئے بولے اب آپ لوگوں کو یہ کھانی پڑے گی اور بچوں کو میں صبح دوں گااور جوس کے ڈبے انہیں واپس تھما دیے بابا جی ہمیں جوس نہیں پینا ہم صرف آئسکریم کھائیں گے وہ بولے ٹھیک ہے پھر کہنے لگے تھوڑا رک جاؤ ایک طرف گئے اور پھر وہ کمرے کے دوسرے کونے کی طرف بڑھے وہاں احتیاط سے ایک چھوٹا سا جگ پڑا ہوا تھا۔ اسے اٹھا کر ہمارے سامنے لائے اب انہوں نے اس جگ سے تھوڑا تھوڑا پانی ڈال کر ہم دونوں کو دیا بولے ۔یہ وہ زمزم ہے جس سے میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا” موۓ مبارک” مس ہوا ہوا ہے۔
یہ کہہ انہوں نے وہ پانی ہم دونوں کے ہاتھوں میں تھما دیا میں نے اس کا ایک گھونٹ پیا اور باقی پانی احتیاط سے پکڑ لیا ۔کیا انہوں نے اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے کہا بیٹا آپ سارا پانی دیے کیوں نہیں دے رہی بابا جی یہ پانی میں اپنے باقی گھر والوں اور پیار کرنے والوں کے لئے لے جاؤں گی ۔ آپ یہ پی لیں ان کے لیے میں اور دے دوں گا یہ کہہ کر وہ وہ کونے میں پڑی ہیں ایک پانی کی خالی بوتل اٹھا لائے اور بڑی احتیاط سے موئے مبارک والا زمزم اس میں ڈال دیا پھر مجھے تھماتے ہوئے بولے بیٹا یہ پانی آپ لے جائے اور جس کو چاہیں اس میں سے پلائیں لیکن جو آپ کو دیا ہےوہ پی لیں۔…
میں نے شکریہ ادا کیا اور بوتل ان کے ہاتھ سے لے لی۔ باباجی آپ کب اسے مدینہ منورہ میں ہیں؟ میں نے سوال کیا۔
جب میں شعور کی دہلیز پر آ ن پہنچاذندگی کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے روزگار کا مر حلہ آ یا تو میری نگاہون کی امیدمدینہ منورہ شہر کے قدموں سے لپٹ گئی ۔یہ تو لجپالوں کا شہر ہے ۔اس شہر کی طرف طرف کی جانے والی دل کی سرگوشیوں کی لاج تو میرا رب رکھتا ہے اور میری سرگوشی بھی رب العالمین کے ہاں مقبول ہو گئی ۔اور یوں میرانام بھی مدینہ منورہ کے باسیوں میں لکھ دیا گیا۔
میں اواءیل جوانی میں ہی یہاں آگیا اور سار ی زندگی یہی گزاری۔
آپ کی بیوی؟
میری کھو جی طبعیت نے پھر سوال کیا وہ بہت نیک خاتون تھیں ۔یہاں بہت خوش تھی میرے سے بھی زیادہ عقیدت مند اور سرکاردو عالم کی محبت میں سرشار۔ اللہ تعالی نے ہمیں میں بیٹے بھی دیئے ۔اور ایک بیٹی بھی۔
کیسی عورت تھی وہ؟ اب میں بابا جی کی بیوی کے بارے میں جاننا چاہتی تھی وہ بہت نیک عورت تھی بڑی اللہ والی بابا جی نے جواب دیا پھر جیسے وہ ماضی میں کھو گئے اور کہنے لگے میں نوکری کرتا تھا جو میری تنخواہ کے پیسے خرچہ سے بچ جاتے ہم وہ سارے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمانوں کی خدمت پر خرچ کر دیتے۔ وہ بہت خدمت کا جذبہ رکھنے والی عورت تھی ۔سعودی عرب میں رہنے کے باوجود وہ کبھی ابھی سنا ر کی دکان میں داخل نہیں ہوئی تھی اس نے کبھی کوئی زیور نہیں خریدا میرے اصرار پر بھی نہیں وہ کہتی مجھے سونا چاندی نہیں چاہیے مجھے مدینہ مل گیا بس مجھے سب کچھ مل گیا ۔میں اس سونا چاندی کی محبت میں نہیں پڑنا چاہتی۔۔۔
وہ اپنا سب کچھ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمانوں پر خرچ کرکے خوش ہوتی تھی۔
یہی اس کی خوشی تھی اور ایک ہی اس کی خواہش کے اسے جنت البقیع مل جائے اور اللہ نے اس کی خواہش پوری کر دی وہ جنت البقیع میں آرام کر رہی ہے۔
بابا جی کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیرنے لگی جسے وہ ہم سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اور آپ کی بیٹی؟؟
میں نے پوچھا بیٹا وہ بھی مجھے چھوڑ کر اپنی ماں کے پاس چلی گئی۔بابا جی کی آواز جیسے رندھ سی گئی۔ اس کے جانے کے بعد میں بہت اداس رہنے لگ گیا میرے بیٹے اللہ ان کو زندگی دے اپنے اپنے روزگار پرسیٹ ہوگئے میں بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے نوکری سے ریٹائر کر دیا گیا۔ مدینہ منورہ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ لیکن یہ شہر تو میرے لیے آکسیجن کی مانندتھا۔یہاں رہتا تو سانس بھی آتی جاتی رہتی اس دھرتی کو چھوڑنے کا تصور ہی میری سانس کو روکنے کے لیے کافی تھا۔
میرا اقامہ ختم ہو چکا تھا نوکری سے بھی ریٹائرمنٹ۔ اب قانونی طور پر مجھے اس شہر کو چھوڑنا لازمی تھا لیکن میں دل کا کیا کرتا میرا دل کسی صورت یہ شہر چھوڑنے پر تیار نہ تھا ۔
اسی پریشانی میں ایک دن میں حرم شریف میں بیٹھا ہوا تھا کہ اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ میرا نام غلام یاسین ہے اور مجھ میں غلامی کی صفت پائی جاتی ہے میرے اس شہر میں رہنے کا بندوبست کر دیں میں آخری سانس تک آپ کے مہمانوں کی خدمت کروں گا اور ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔
مجھے قبول کر لیاگیا۔
مجھے ان صاحب سے ملوادیا۔ انہوں نے یہ بلڈنگ مہمانوں کے لیے وقف کر رکھی تھی اور اس کی منیجمنٹ کے لیے انہیں کسی شخص کی ضرورت تھی۔ اور یوں میرا مدینہ منورہ میں رہنے کا بندوبست ہوگیا۔ بابا جی یاسین اپنی داستان بیان کر کے خاموش ہو گئے اور مجھے بہت سارے سوالوں کے جواب مل گئے۔
بابا جی اپنی بات مکمل کر کے کے لمحے بھر کو رکے گویا ماضی سے حال میں اپنی سوچوں کو اور اپنے آپ کو منتقل کر رہے ہو ں۔
پھر ایک گہری سانس لی اور مسکرائے بولے میری بیٹیاں آئی ہیں میں انہیں ایک خوبصورت اور یاد گار تحفہ دوں گا جو نہ پیسے سے خریدا جا سکتا ہے نہ بازار میں بکتا ہے ۔
جب سے میری بیٹی دنیا سے گئی ہے اللہ نے مجھے بہت ساری بیٹیوں سے نواز دیا ہے ۔ایسی بیٹیاں جو دل میں میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی محبتوں کا سمندر اپنے سینوں میں سموئے ہوئے ہیں ۔
ان کی آنکھیں بہتی ہیں تو میرے آقا کے لئے ۔
۔ان کے لبوں کی مسکراہٹ محتاج ہے تو آقا کے ذکر کی۔
ایسی پیاری اور بے لوث محبت کرنے والی بیٹیاں جنہوں نے مجھے اپنی بیٹی کا غم بھلا ۔
رات کے اس پہر تک میری بیٹیاں میرا انتظار کر رہی تھی۔آج سے تم دونوں بھی میری بیٹیاں ہو ۔۔
غلام یاسین کی بیٹیاں۔
یہ تم لوگوں کا تحفہ ہے۔ انہوں نے دو پیکٹ ہم دونوں کو تھما دیئے۔اس میں پانی پیناہے۔
انہوں نے کہا۔
لیکن یہ کیا ہے بابا جی ؟
ہم نے پوچھا بیٹا یہ خاک شفا سے بنے ہوئے مٹی کے پیالے ہیں ہمارا ایک دوست جو کہمٹی کے برتن بنانا جانتا ہےمدینہ منورہ کا رہائشی ہے اس نے بنائے ہیں۔
جب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی خاص مہمان چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں آپ کی خدمت میں آنے کا قصد کرتا ہے تو یہاں مقیم بزرگوں کو اطلاع مل جاتی ہے۔
اور وہ اس کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کو دینے کے لیے تحائف کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ایسے تحائف جو نہ بازاروں میں بکتے ہیں نہ خریدے جا سکتے ہیں ۔
ایسے ہی ایک مہمان بزرگ نے مدینہ منورہ آنے والے ہیں۔ ان کو تحفہ دینے کے لیے ہم خاک شفا رات کے اندھیرے میں وہاں سے زمین کھود کر بوری میں ڈال کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے کر آئے تھے۔ اس کے پیالے بنائے ان بزرگوں کو تحفہ دینے کے لیے ۔
ان میں سے یہ دو پیالے اب میری بیٹیوں کا تحفہ ہے۔میری بیٹیاں میرے پاس آئیں ہیں انہیں خالی تو نہیں لو ٹاؤن گا باباجی مسکرائے ۔
اس پیالےمیں پانی پینا اور اپنے بابا کے لیے دعا کرنا کہ اسے جنت البقیع میں مل جائے گا جی یہ کہہ کر چپ ہو گئے اور جیسے ہمارے لیے سارے لفظ چپ ۔۔۔۔۔
تحریر پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔شکریہ۔
اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔۔۔۔۔۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply