گوشہء نور کی کرنیں ۔طالب مدینہ  مدینہ منورہ تقرری.

گوشہء نور کی کرنیں ۔

طالب مدینہ۔18

   مدینہ منورہ تقرری.

دس سال طائف میں رہا الحمدللہ۔پھر 1986,میں مدینہ منورہ مقیم ہونے کی سعادت ملی۔

میرے بچپن میں دیکھے گئے خواب ایک ایک کرکے سچ ہو رہے تھے۔

دس برس طائف سے تقریباً 1800کلو میٹر سفر طے کر کےباقاعدگی سے میں مدینہ منورہ حاضری دیتا رہا۔اور ہر بار بوجھل دل لئے اس شہر سے رخصت ہوتا تھا۔لیکن دوبارہ آ حاضری کی امید مجھے ہمیشہ تسکین دیئے رکھتی ۔

اخر کار منظور ی ہو گئی اور8619ء سے اب میں مدینہ شریف کا باسی بن چکا تھا۔اپنی قسمت پر نازاں فرحان۔۔۔

روزانہ دو ٹائم حرم شریف میں حاضری دیتا۔

صبح فجراور پھر مغرب عشاء یہی میری روٹین تھی۔

حرم کی فضاؤں میں بیٹھ کر بے شمار نعتیہ کلام لکھے۔

اور یاد مدینہ میں تڑپتے ہوئے پاکستانی دوستوں کو خطوط ارسال کئے۔

میرا ایک عزیز جس کا تعلق گجرات سے تھا۔اقا کریم سے بے پناہ محبت رکھنے والا۔۔

حاجی عمران ظفر ۔۔

سابق ایم پی اے اور ملک اظہار احمد صاحب انہیں میں اکثر گنبد کے سامنے بیٹھ کر اسے خط لکھا کرتا۔۔

اس نے وہ تمام خطوط سنبھال کر رکھے اور پھر انہیں کتابی شکل میں “مکتوبات مدینہ منورہ” کے عنوان سے چھپوایا۔میں چھٹی پاکستان گیا تو اس نے وہ مجھے تحفے میں کتاب دی میں نے دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگا۔

ان خطوط میں حرم کی ہواؤں کی خوشبو تھی۔مدینہ کی یاد تھی میں انہیں بار بار پڑھتاجھے یوں لگتا جیسے میں مدینہ شریف پہنچ گیا ہوں۔ سوچا انہیں چھپواؤں تاکہ یہ محفوظ ہو جائیں اور میرے جیسے یاد مدینہ منورہ میں تڑپتے دل اس سے فیض یاب ہو سکیں۔

ڈار صاحب کی بات سن کر میں سوچنے لگی یہ بات بلکل درست ہے ۔الفاظ میں اللہ کریم نےبڑی قوت رکھی ہے۔یہ دل میں اٹھنے والے ہر جذبے کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں وہ جذبہ چاہے محبت کا ہو یا نفرت کا۔

لفظ نہ صرف جذبوں کو اپنے اندر سمونے کی قوت رکھتے ہیں بلکہ یہ اس ماحول اور تاثر کوبھی چپکے سے اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں جہاں ںیٹھ کر یہ لکھے جائیں ۔

صوفیاء کرام کی شاعری ہو یا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نعتیہ کلام۔۔

زبان پنجابی ہو،اردو ہو یا فارسی ۔۔

الفاظ سننے والے کے دل پر اثر کرتے ہیں۔اور بعض اوقات زبان سمجھ میں نہ آ نے کے باوجود بھی سامعین کی کیفیات بدل جاتی ہیں۔اس ضمن میں جامی رحمتہ اللہ علیہ کا کلام۔۔

    “تنم فرسودہ جاں پارہ،زہجراں یا رسول اللہ”

ایک بہترین مثال ہے۔

ایک مرتبہ میں ایک محفل میلاد میں موجود تھی جہاں یہ کلام پڑھا جا رہا تھا۔پڑھنے والی عورت بھی کمال کی نعت خواں تھیں اور پورے جذبہ عشق ومحبت میں سر شار وہ کلام پڑھ رہی تھیں۔ خواتین پر رقت طاری تھی کچھ خواتین جھوم رہیں تھیں اور کچھ اپنی بھیگی پلکوں کو بار بار ٹشو پیپر سے صاف کر رہی تھیں۔

کلام ختم ہوا محفل میں ایک خاص کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ایسے میں میں نے حاضر ین سے پوچھا بتائیے کیا آ پ کو کلام سمجھ میں آ یا ہے؟

سب نے نفی میں جواب دیا۔یہ عجیب بات تھی ایک لفظ سمجھے بنا سب اس کلام سے محظوظ ہونے کا شرف حاصل کر چکے تھے۔بس یہی کیفیات ہوتی ہیں جو الفاظ اپنے ساتھ اٹھا لیتے ہیں اور پھر گزرتے ہوئے ماہ وسال ان کی چاشنی اور تازگی پر کوئی اثر نہیں چھوڑتے۔یہ جذبات اور ماحول جتنا شدید ہوگا الفاظ اتنے ہی طاقتور ہوتے جائیں گے۔

                ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

مدینہ منورہ کی پاک دھرتی پر میں اپائینمٹ ہو کر آ گیا۔ میرا دفتر مسجد علی رضی اللہ عنہ کی جانب حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلکل سامنے تھا۔دفتر کی کھڑکی سے گنبد کا نظارہ میری برسوں کی تڑپ کا انعام تھا ۔

میں نے اپنے میز کرسی کی سیٹنگ اس طرح کروائی کہ گنبد کا نظارہ بلکل میرے سامنے تھا۔

بن لادن کمپنی کومدینہ شریف میں بہت بڑے بڑے تعمیراتی منصوبہ جات ملے تھے ۔پورا مدینہ شہر جدید طرز پر تعمیر کیا گیا۔ڈار صاحب بتا رہے تھے۔

1990ء میں میں نے اپنی فیملی کو بھی مدینہ منورہ بلا لیا۔میری ننھی ننھی بیٹیاں فجر کے وقت میرے ساتھ حرم میں نماز پڑھنے آ تیں۔اس زمانے میں ریاض الجنہ میں رش نہیں ہوتا تھا۔نماز کے بعدہم میاں بیوی اپنے اذکار میں مشغول ہو جاتے اور وہ اپنے ننھے ننھے قدموں سے چلتے ہوئے سنہری جالیوں کے پاس پہنچ جاتیں اور جب اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے جالیوں کو پکڑ کر اندر جھانکنے کی کوشش کرتیں وہاں بیٹھا ہوا نیند میں ڈوبا پہرے دار کن اکھیوں سے ان کی جانب دیکھتا اور شی کی آ واز نکال کر ہاتھ سے انہیں دور ہونے کا اشارہ کرکے پھر سر جھکا کر نیند میں ڈوب جاتا۔

یوں میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ اب مدینہ شریف کا مقیم تھا۔اپنی قسمت پر نازاں فرحان۔زندگی کی مہربانی پر ہر سانس پر اللہ کا شکر گزار تھا۔

ریٹائرمنٹ سے پہلے آ خری دوسال نجران میں گزرے۔کمپنی کو ایک ںہت بڑا پراجیکٹ وہاں ملا تھا۔جب مجھے وہاں ٹرانسفر کرنے کی بات آ ئی تو میں اپنے افسران کے پاس آ کر بہت منت سماجت کی کہ مجھے مدینہ شریف سے دور مت بھیجیں۔انہوں نے کہا پراجیکٹ بہت بڑا ہے اور وہاں آ پ جیسے تجربہ کار بندے کی بہت ضرورت ہے۔ہاں کمپنی آ پ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی ۔اپ کا گھر بچے مدینہ شریف ہی رہیں گے ہر تین ہفتوں بعد آ پ ایک ہفتہ مدینہ شریف گذار سکیں گے۔گاڑی ڈرائیور آ پ کو دیا جائے گا پراجیکٹ مکمل ہونے پر آ پ کو واپس مدینہ منورہ بلا لیا جائے گا۔اور یوں میں بادل ناخواستہ جزان چلا گیا۔

محبوب ہستی  سے جدائی کی بھی اپنی لذت ہوتی ہے۔

جدائی ہو۔۔

تنہائی ہو۔۔

تو شوق محبت لفظوں میں ڈھل کر امر ہوجاتا ہے۔وہاں میں نے بہت سے نعتیہ کلام لکھے۔

شامیں مدینہ منورہ کی یاد میں آ نسو بہاتے نعت پڑھتے یا نعت لکھتے ہی گذرتی تھیں۔ڈار صاحب کی آ واز اپنی کہانی سناتے ہوئے رندھ سی گئی۔

2016ءمیں نجران قیام کے دوران میری طبیعت خراب ہو ئی اور ڈاکٹر ز نے کہا کہ فوری طور پر دل کا بائی پاس آ پریشن کرنا پڑے گا۔ وہ ماضی کے اوراق پڑھ  کر ہمیں اپنی کہانی سنا رہے تھے۔

میں فوری طور پر مدینہ منورہ جانا چاہتا تھا۔ڈاکٹرز نے بہت مشکل سے سفر کی اجازت دی اور آ خر کار میں شانت گھنٹے کا سفر طے کر کے مدینہ منورہ پہنچ گیا۔

میرے بائی پاس کی تیاری مکمل تھی۔

دار ہسپتال میں مجھے ایڈمٹ کروا دیا گیا۔یہ ہسپتال حدود حرم میں تھا۔گھر والے پریشان تھے ۔لیکن میں یوں مطمئن تھاجیسے بچہ ماں کی آ غوش میں اپنے آ پ کو محفوظ تصور کرتا ہے۔

میری میڈیکل رپورٹس اچھی نہیں تھیں۔میری بیوی بھی رو رہی تھی میں نے اسے کہا فکر نہ کرو اگر جنت البقیع مل گئی تو وارے نیارے ہو جائیں گے۔اور اگر زندگی ہے تو صحت مل جائے گی۔دونوں آ پشن ہی مجھے منظور ہیں۔شکر الحمدللہ۔

میرے دوستوں نے مشورہ دیا کہ اس ہسپتال میں آ پریشن نہیں کروانا چاہئے ۔یہ چھوٹا ہسپتال ہے اور سہولیات بھی کم ہیں۔اس کے لئے سعودی جرمن ہسپتال بہتر ہے۔وہاں بین الاقوامی سطح کی سہولیات بھی میسر ہیں اور ڈاکٹر ز بھی بہت قابل ہیں۔

لیکن میں نے سے جانے سے انکار کردیا۔کیونکہ وہ شہر سے باہر تھا اور وہ جگہ حدود حرم میں شامل نہیں ہے۔میرا ایمان تھا زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے۔شفاء دینے والی ذات بھی وہی ہے پھر میں حدود حرم چھوڑ کر کیوں جاؤ ں۔مجھے تو آ قا کے حرم کے جوار سے دور جانا گوارا نہیں تھا۔(جاری ہے)

تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔

اس مضمون کے بارے میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔شکریہ ۔۔(گوشہء نور)

Related Posts

Leave a Reply