خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ6)

گوشہء نور کی کرنیں ۔ 24جون

گوشہء نور کی کرنیں۔۔
24جون۔
یہ جون کی 23 تاریخ تھی۔امی جان کو ہاسپٹل کے آئی سی یو میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا ۔
بظاہر ان کا ہشاش بشاش چہرہ کسی تکلیف کی غمازی نہیں کر رہا تھا ۔
وہ عارضہ قلب میں چند سالوں سے مبتلا تھیں۔
بازو میں درد ہونے کی وجہ سے جب انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تو ان کے دل کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ڈاکٹرنے انہیں آئی سی یو اے میں داخل کر لیا۔
22 جون کووہاں پر موجود ڈا کٹر جو میرے بھائی کے دوست تھے انہوں نے ہمیں رات کھانے کے لیے اپنے ساتھ ہاسپٹل کے کیفے ٹیریا میں مدعو کیا بے ۔
کھاناکھانے کے بعدوہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں ہم سے مخاطب ہوئے بولے مجھے آپ دونوں سے ایک اہم بات کرنی ہے ہمیں ہمہ تن گوش پا گویا ہوئے۔
ایک ڈاکٹر کے لئے اس کا مریض اور اس کی جان بہت اہم ہوتی ہے اور آپ کی ماں مجھے اپنی ماں کی طرح عزیز ہے۔اپ کی امی جان کی روپوٹس بتا رہی ہے کہ ان کا دل بلکل ختم ہو چکا ہے وہ اب اس دنیا میں مہمان ہیں۔
یہ کیسے ممکن ہے ؟
امی جان جان بالکل ٹھیک نظر آ رہی ہیں۔
میں آپ کی بات پر کیسے یقین کر سکتی ہو ں؟
وہ بظاہر بالکل ٹھیک ہیں کل ہی مجھے کہہ رہی تھی کہ اب تو مجھے کوئی درد بھی محسوس نہیں ہوتا ان شاءاللہ مجھے یہاں سے جلد ہی چھٹی مل جائیں گی پھر ہم گھر چلے جائیں گے میں نے نے ڈاکٹر صاحب کی بات سن کر تڑپ کر کہا۔
اس بات پر ہم بھی حیران ہیں کہ بظاہر اتنی فریش کیسے ہیں؟
پھر میرے بھائی سے مخاطب ہو کر بولے جو خود بھی میڈیکل کے شعبے سے وابستہ تھے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب آپ تو جانتے ہیں ہم فیصلہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہی کرتے ہیں آپ ان کی رپورٹ دیکھ لیں ان کے زندہ رہنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ۔
ایک عجیب بات ہے کہ ان کی رپورٹ کو دیکھیں اور ان کے چہرے کو تو ہم خود حیران ہو جاتے ہیں کہ وہ اتنی ہشاش بشاش کیسے ہیں ؟
ڈاکٹر صاحب میرے بھائی سے بات کر رہے تھے لیکن اب میں شاید وہاں نہیں تھی میری روح جیسے میرے جسم سے پرواز کر چکی تھی۔۔۔
راتوں رات بھائی نے باقی بہن بھائیوں کو فون پر صورتحال بتا دی جو دوسرے شہروں میں مقیم تھے۔
اگلے دن سب اسلام آباد پہنچ گئے گئے ۔
یہ 23 جون کی رات تھی۔ پچھلے تین دن سے میں ہر لمحہ امی جان کے ساتھ تھی اس رات میں نے بھائی سے کہا ہاں آج آپ گھر نہ جاؤ ادھر ہی رک جاؤ ۔۔
لیکن آئی سی یو میں اے دو لوگوں کو رہنے کی اجازت نہیں تھی۔اللہ کریم جزا خیر دے ڈاکٹر صاحب کو جنہوں نے بھائی کو ڈاکٹرز روم میں ٹھہرایا۔۔۔
23 اور 24 جون کی رات میری زندگی کی ایک ایک عجیب رات تھی۔۔
ایک مشکل ترین رات۔۔
امی بظاہر بالکل ٹھیک تھیں۔ میں نے ان کے بالوں میں کنگھی کی چٹیا بناتے ہوئے انہیں بتایا کہ کل دوسرے بہن بھائی بھی اسلام آباد رہے ہیں ۔
سن کر بہت خوش ہوئیں پھر بولی آج تمہارا بھائی گھر نہیں گیا؟
جی آج میرا دل گھبرا رہا تھامیں نے روک لیا ۔میں نے آ ہستہ سے جواب دیا
وہ سن کر مسکر ائیں۔ میں ان کی اتنی جاندار مسکراہٹ دیکھ کر سوچا سچ کیا ہے؟
یہ تو کہیں سے بھی بیمار نہیں دکھ رہیں پھر ڈاکٹر صاحب کیوں پریشان کر رہے ہیں۔۔
آئی سی یو میں امی کے بلکل قریب زمین میٹرس ڈالےمیں آ نکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی بظاہر سو رہی تھی لیکن نیند میری آ نکھوں سے کوسوں دور تھی کہ مجھے کمرےمیں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا میں نے فوراً آ نکھیں کھولیں تو دیکھابھائی امی کے بیڈ کے بلکل قریب کھڑا کچھ پڑھ کر امی پر دم کر رہا ہے۔
یہ کیا؟
ڈاکٹر تو دم پر بیلیو ہی نہیں کرتے وہ تو ہمیں ہر بات سائینسی۔ انداز میں سمجھا رہا ہوتا تھا پھر یہ کیا؟
آ ج یہ خود دم کر رہا ہے۔۔
وہ پڑھ کر امی جی پر پھونک رہا تھا جیسے امی ہم پر پھونکا کرتی تھیں۔۔
میں نے ماں اور بیٹے کیے اس تخلیہ میں مداخلت مناسب نہ سمجھی اور دم سادھے دوسری جانب کروٹ بدل لی۔۔۔
اگلے روز سب بہن بھائیوں نے آ نا تھا امی بہت خوش تھیں۔
ڈاکٹرز راؤ نڈ کے لیے آ ئے تو انہوں نے مجھے کمرے سے باہر جانے کو کہا ۔۔۔
جب میں واپس آئی تو امی نے مجھے کہا دیکھو یہ مجھے کیا لگا کر گئے ہیں گردن کے ذرا نیچے ایک ایک ڈریپ نما آ لہ تھا جو وہ لگا گئے تھے اور شاید امی جان کو اس سے الجھن محسوس ہو رہی تھی کہنے لگی آگے دیکھو یہ کیا ہے ؟
اور کیوں لگایا ہے؟
وہ شاید انہیں تکلیف دے رہا تھا۔
میں امی کی بات سن کر چپ رہی اپنے آنسو چھپانے کی میرے وجود میں شاید اب جگہ ختم ہو رہی تھی ۔۔
شام تک سب پہنچ گئے۔
رات کو مجھے کہنے لگیں آج آ پ گھر چلی جاؤ آ ج رات یہ میرے پاس رہے گی میری بہن کی طرف اشارہ کر کے بولیں۔
اتنے دن ہاسپٹل میں رہ کر تم تھک گئی ہوگی آ ج گھر جا کر آ رام کر لو۔پھر آ گے ہو کر مجھے گلے لگایا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی بوجھل قدموں سے چل پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں امی جان کے پاس موجود تھا کہنے لگی سورت یاسین کی تلاوت کرو۔
مجھے سناؤ میں نے یا سین کی تلاوت شروع کی مجھے امی جان کی حالت کچھ بدلی بدلی لگ رہی تھی ۔میں نے آگے بڑھ کر ان کا سر اپنی گود میں رکھا ۔۔
میں یاسین اونچی آواز میں پڑھ رہا تھا ابھی یاسین شریف مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجھے محسوس ہوا امی جان کی روح اپنے خالق حقیقی کے پاس پرواز کر چکی ہے ۔
میرا دوسرا بھائی جو حافظ قرآن تھا وہ نم آ واز میں ان کی رحلت کے بعد ایک دن بیٹھا مجھے بتا رہا تھا۔
(گوشہء نور ).
ایک التماس۔
اج24 جون ہے اگر قارئین ان کے ایصال ثواب کے لئے ایک بار سورہ فاتحہ اور قل شریف پڑھ کر ایصالِ ثواب کر دیں اور دعا مغفرت بھی فرما دیں ۔ نوازش ہوگی

Related Posts

One thought on “گوشہء نور کی کرنیں ۔ 24جون

Leave a Reply