گوشہء نور کی کرنیں ۔ 39

گوشہء نور کی کرنیں ۔ 39

گوشہء نور کی کرنیں۔۔39
اسماء اصحاب بدر۔۔
چو بیس پچیس برس کا نوجوان نگاہیں جھکائے میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رو رہا تھا اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو ؤ ں کی جل تھل ہر طرف شور پرپا کئے ہوئے تھی۔
مجھے معاف کر دے پلیز مجھے معاف کر دے وہ بے قراری سے ایک ہی جملہ بولے جا رہا تھا۔۔
پھر وہ قراری سے زمین پر میرے قدموں میں گر کر لوٹ پوٹ ہونے لگا ۔
مجھے معاف کردیں۔۔۔۔
میں بہت تکلیف میں ہوں خدارا مجھے معاف کر دیں وہ یوں تڑپ رہا تھا جیسے بہت اذیت میں ہو۔
میں اس وقت پرنسپل کے آفس میں کھڑی تھی اور یہ صورتحال میری سمجھ سے بالاتر تھی۔۔
میں اس لڑکے کو قطعاً نہیں جانتی تھی ۔ پھر یہ مجھ سے کیوں اس طرح رو رو کر معافی مانگ رہا تھا ؟
پر نسپل بھی میری حالت دیکھ کر خاموش تھی اور اس سب صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
میں نے بے بسی سے پرنسپل کی طرف دیکھا تو وہ بولی میں اس کو نہیں جانتی یہ میرے پاس آیا آپ کا نام لیا اور درخواست کی کہ اسے کسی بہت ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے ملنا ہے ۔
سو میں نے آپ کو بلوا دیا میری سوالیہ نگاہوں اور چہرے کے تذبذب کو پڑھتے ہوئے پرنسپل میں ایک ہی فقرے میں وضاحت کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ1988کی بات ہے ۔ میں اور میرا بھائی یونیورسٹی فائنل ائیر میں تھے ۔ سٹوڈنٹس یونین کے الیکشن سر پر تھے۔ میرا بھائی الیکشن لڑ رہا تھا اور ہم صبح و شام کمپین میں دل وجان سے لگے ہوئے تھے۔
نوجوانی کے ایام تھے ہار جیت کو ہم نے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا تھا۔۔
ہر حا ل میں جیتنے کی لگن میں اپنی سہیلیوں کے ہمراہ کمپین میں جتی ہوئی تھی۔
الیکشن کا دن آ ن پہنچا ۔۔
کوششیں منتیں مرادیں اور دعائیں رنگ لے آ ئیں میرے بھائی نے اپنے مدمقابل کو واضح اکثریت حاصل کرکے پچھاڑ دیا۔۔
کامیابی میرے بھائی کے خوبصورت چہرے پر اپنے حسین رنگ بکھیر رہی تھی اور میں بھی خوشی میں نہال یونیورسٹی میں تتلی کی طرح ہواکے دوش پر خوشیوں کے ہنڈولے میں بیٹھی اپنے بھائی کی فتح کا جشن منا رہی تھی۔اور دامن میں مبارکباد وں کے ڈھیر سارے گل سمیٹنے میں مصروف تھی۔۔
میرے چہرے سے فتح کی خوشیوں کے رنگ نوچنے
جیت کی کلیاں اچکنے کے لیے اذیت کے آ نسو کہیں میرا اور میرے گھر والوں کا خاموشی سے تعاقب کر رہے تھے۔
آ ج گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے فضا میں ایک عجیب سی تبدیلی محسوس کی یوں جیسے بہت سی سیاہ رنگ کی چمگادڑ یں دن کے اجالے میں میرے سر سے چادر نوچنے کو میری گھات میں بیٹھی ہوں ۔
یہ کیا؟
آ ج کا روشن دن اپنے اندر اتنی سیاہی سمیٹے ہوئے کیوں ہے؟
میرے من میں کوئی خوف سے سر گوشی کر رہا تھا۔
میں نے حسب معمول اپنا بیگ اپنے کمرے میں رکھ کر باورچی خانے کی جانب قدم بڑھائے لیکن یہ کیا؟؟؟
آ ج حسب معمول امی کچن میں موجود نہیں تھیں ۔۔۔
میری آ نکھیں کھانے کے برتن ڈھونڈ رہی تھیں لیکن یہ کیا ؟
کھانا تو برتنوں میں موجود تھا لیکن آ ج گھر کی بدلی فضاؤں کا اثر شاید کھانے نے بھی محسوس کر لیا ہوا تھا میری بھوک کی شدت بھی کھانے کے بدلے انداز دیکھ کر ٹھندی پڑ چکی تھی میں نے اس عجیب صورت حال سے خجل سی ہوکر امی کو آ واز دی ۔۔
امی کے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔میں اب تک پریشان ہو چکی تھی اب میرے قدم امی جان کے کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے۔
امی امی جی کہاں غائب ہیں یہ کہتے ہوئے میں ان کے کمرے میں داخل ہوئی …
کمرے میں مکمل ل خاموشی تھی اور ملگجے سے اندھیرے نے امی کے کے روشن چمچماتے کمرے کی ممتا بھری مٹھا س کو مجھ سے اوجھل کر دیا ہوا تھا۔۔
امی جی ۔۔۔۔
امی جان آپ کدھر ہیں؟
یہ کہتے ہوئے میرے ہاتھ بے قراری سے لائٹ کے بٹن کی جانب بڑھے اور میری پریشانی نگاہیں امی کو تلاش کرنے لگیں۔۔
امی ایک کونے میں چپ چاپ دوپٹے کی بکل میں لپٹی بیٹھی تھیں۔۔
ہاتھ میں تسبیح ۔۔
شاید وہ اپنی کسی پریشانی کو تسبیح کے دانوں کو اپنے اذکار کی گنتی کے ساتھ گھماتے گھماتے ختم کرنا چاہتی تھی..
کچھ عرصہ قبل جب سے میرے ابا جی کا انتقال ہوا تھا امی کے انداز و اطوار یکسر بدل سے گئے تھے۔۔
ان کے چہرے کی خوشی اور اطمینان اب فکر اور ذمہ داری کی بھاری چادروں میں کہیں چھپ سے گئے تھے۔
ان کے پر اعتماد چہرے پر اب جوان بچوں کو دیکھ کر عجیب سی فکروں کے سائے لہرانے لگتے۔
ان کی ممتا جوان بیٹیوں کو دیکھ کر عجیب سے خوف کی چادر میں لپٹ جاتی۔اور ان کی انگلیاں ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانوں پر مضبوط ہو جاتیں۔
صبح سویرے جب ہم بہن بھائی اپنی یونیورسٹی کے لیے گھر سے نکلتے تو امی جی کے لب تیزی سے اذکار پڑھتے ہوئے دور ہی سے ہمارے وجود کا حصار باندھ رہے ہوتے۔۔
یہ دیکھو میری بہن نے ایک خط میری جانب بڑھایا۔وہ میری آ وازیں سن کر کمرے میں پہنچ چکی تھی۔
یہ کیا ہے؟ میں نے پوچھا۔۔۔
خود ہی پڑھ کر دیکھ لو ۔اس کا لہجہ یکسر بدلا ہوا تھا۔
میں خط پڑھتی جا رہی تھی۔مجھے یوں لگ رہا تھا بہت اونچے پہاڑ سے کسی نے یکدم مجھے نیچے دھکیل دیا ہو اور میں بڑی بڑی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکراتی لڑھکتی زمین پر آ رہی ہو ں۔۔
غصے اور غم کی آ گ نے مجھے مکمل طور پر اپنی لپٹ میں لے لیا تھا۔
میری ہر لمحہ بولنے والی زبان گویا گھنگ ہوگئی میں نے بے بسی سے بہن کی طرف دیکھا پھر جاکر اپنی ماں کے قدموں سے لپٹ گئی۔
امی جان یہ کیا ہے؟
یہ سب جھوٹ ہے بکواس ہے میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی آپ میرا یقین مانیے میں ان کے پاؤں سے لپٹ کر جانے کیا کیا بولے جا رہی تھی ایسے خط محلے کے ہر گھر میں آئے ہیں ۔
لوگ آ کر ہمیں صبح سے دیکھا رہے ہیں میری بہن کی آواز میرے کانوں میں کہیں دور سے آتی لگ رہی تھی۔
کیا تھا اس خط میں ؟
میں نے اپنی دوست فرح سے پوچھا ۔۔
فرح میری بہت پیاری سہیلی تھی ۔چھوٹے سے قد اور گندمی رنگت والی فرح۔۔۔
کالے سیاہ گھنگھریالے بالوں کو وہ بات کرتے کرتے بار بار سر سے سرکتے ہوئے ڈوپٹے سے ڈھانپتی بہت اچھی لگتی تھی۔
اسلام آباد کے اونچے اونچے درختوں میں گھرے واکنگ ٹریک پر ہم دونوں واک کیا کرتے تھے۔
وہ اسلام آباد کے حسن کی دیوانی تھی مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں بڑے غرور سے سر اُٹھائے بیٹھا یہ خوبصورت شہر اسلام آباد اسے بہت پسند تھا ۔۔
وہ پنجاب سے بیاہ کر اسلام آباد آئی تھی اور یہاں کی خوبصورتی نے اس کی خوش مزاجی کو مزید نکھار دیا تھا۔۔
ہم دونوں لمبی واک کرتے اور ڈھیروں باتیں کرتے۔۔
آج مجھے وہ اپنی آپ بیتی سنا رہی تھی ۔ اس کی کہانی اس موڑ پر پہنچی تو اس کی رفتار سست پڑ گئی ۔۔۔
پھر وہ میرا ہاتھ تھام کر قریب پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
وہ لمبے لمبے سانس لے کر اپنی اپنی طبیعت کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں نہایت اشتیاق اور دل چسپی سے اس کے بولنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔
اسلام آباد کی دلکش شام اپنے حسین پر سمیٹے مارگلہ کے دامن میں چھپنے کو تیار تھی۔
سورج غروب ہونے سے پہلے ہمیں اپنی واک مکمل کرکے گھر پہنچنا تھا۔
میں اس کی کہانی کے مکمل ہونے کے لیے اب بے قرار ہو رہی تھی۔
میری اس بے قراری کو اس نے محسوس کیا وہ مسکرائی اور بولی چلو اٹھو چلتے ہیں ۔ جب تک ٹریک مکمل ہو گا میری کہانی بھی پوری ہو جائے گی میں ذرا ماضی میں الجھ گئی تھی یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ہم پھر اپنی معمول کی رفتار پر چلنے لگے۔
وہ خط کیا تھا۔ ناپاک اور گندے الفاظ کا ایک مجموعہ۔۔
جس میں میرے کردار پر بہت بری طرح کیچڑ ملا گیا تھا۔۔۔
اور یہاں تک لکھا ہوا تھا اس کے اور میرے ناجا ئز تعلقات اب اس دنیا میں ایک ناجائز وجود کی آمد کا سبب بن چکے ہیں ۔۔
اور کیا بتاؤں؟؟
وہ بڑی کوشش سے اپنے آپ کو نارمل رکھے ہوئے تھی ۔
پھر یہ خط تواتر سے ہمارے گھر اور محلے میں آنے لگے ۔۔
مجھے اپنی ماں اور اپنے گھر والوں کا مکمل اعتماد حاصل تھا ۔
محلے میں بھی میرے ابو امی کی نیک نامی کا ہر کوئی گواہ تھا ۔ ان کی شرافت اور اخلاقیات کی وجہ سے انہیں محلے میں انہیں ایک باعزت مقام حاصل تھا۔
میری زندگی ابھی مکمل طور پر بدل چکی تھی ہمارے گھر میں گویا یا ہر کوئی ہنسنا مسکرانا بھول چکا تھا دکھ اور غم کی یہ بادل تو ان بادلوں سے بھی زیادہ گہرے تھے جب میرے ابو فوت ہوئے تھے۔۔
میری ماں کا بوڑھا چہرہ برسوں کا سفر دنوں میں طے کر رہا تھا۔
زندگی بظاہر معمول پر تھی لیکن سب کچھ بدل چکا تھا ۔ پھر یہ خط یونیورسٹی میں بھی پہنچ گئے۔گویا جیسے ہمارے لئے اب سانس لینے کی آ کسیجں بھی کم پڑ گئی تھی۔۔
ہم نہیں سمجھ سکتے تھے ہمارا دشمن کون ہے۔؟؟
اور اس کا مقصد کیا ہے؟.
مجھ سے فرح کی یہ حالت اب دیکھی نہیں جاتی بھائی جان کیا کوں میری مدد کریں۔
امی کی آ واز میرے کانوں سے ٹکرائی۔وہ ماموں بات کر رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم وسطی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچ چکے تھے۔ماموں نے ان بزرگ کے پاس جانے کے لیے امی سے کہا تھا۔
میں امی اور بھائی اب ان کے پاس موجود تھے۔
یہ ایک کچا گھر تھا چھپڑ کی چھت تھی ایک طرف چارپائی بچھی ہوئی تھی ۔۔
جس پر ایک بزرگ تشریف فرما تھے ۔ان کے نو رانی چہرے اور طلسماتی وجود نے ہمارےدکھی اور بے چین دلوں کو جیسےشانت کر دیا۔۔
امی نے نے ان کی خدمت میں اپنا مسئلہ بیان کیا۔۔
ان گمنام خطوط کے بارے میں بتایا ۔انہوں نے نہایت توجہ اور شفقت سے ہماری بات سنی ۔ پھر ہم سب نے ان کی ہاتھ پر بیعت کی ۔ انہوں نے ہمارے لئے دعا فرمائی۔۔۔
ایک کتابچہ دیا فرمانے لگے یہ آسماء اصحابِ بدر ہیں۔ جن صحابہ کرام نے غزوہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی ان کا مرتبہ و مقام اس کائنات میں اللہ کریم نے بہت معتبر اور بلند کر دیا ہے ۔ ان کے ناموں کی بڑی فضیلت ہے ۔
ان کے ناموں کو پڑھنا اور ان کی واسطے اور وسیلے سے اللہ کریم سے مدد مانگنا تمہاری دعا قبول ہو گی انشاء اللہ۔
میں نے وہ اسماء مبارک ان بزرگوں کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق پڑھنے شروع کر دیے ۔۔
پھر جیسے ایک ایک کر کے گرہیں کھلتی چلی گئی۔ امتحانات ختم ہوتے ہی مجھے ایک اسکول میں جاب مل گئی تھی اور اب یہ شخص میرے سامنے زمین پر ہاتھ باندھے کھڑا معافیاں مانگ رہا تھا۔
ہہ میں ہی تھا جس نے یہ جرم کیا ہے مجھے پلیز معاف کر دو۔۔۔
وہ خط لکھ لکھ کر کر ہر جگہ میں پوسٹ کرتا تھا ۔
وہ بول رہا تھا اور میں حیرت زدہ سن رہی تھی۔۔
میں تمہارے بھائی کے مقابلے میں الیکشن پر کھڑا تھا ۔
میں ہار گیا شکست کی آگ مجھے جلانے لگی۔۔
میں ایسا بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔
ایسا بدلہ جس میں تمھارے بھائی اور اس کے خاندان کو دکھی اور غمزدہ دیکھ سکوں۔۔
حسد اور انتقام کی آگ سے مجبور ہو کر میں نے یہ گھٹیا قدم اٹھایا ۔۔
مجھے پلیز معاف کر دو ۔۔۔
میرا ضمیر جاگ چکا ہے ۔۔۔۔
میں پوری رات چیخیں مار مار کر روتا ہوں ۔۔۔
احساس جرم کی آگ مجھے 24 گھنٹوں میں ہر لمحہ جھلساتی ہے پلیز خدا کے لیے۔۔۔
آ پ کو اپنی پاکیزگی اور پاکدامنی کا واسطہ مجھے معاف کردو وہ ہیجانی کیفیت میں اپنے سر کے بال نوچ رہا تھا۔۔
مجھے سکون نہیں ہے ۔۔۔
بہت تکلیف میں مبتلا ہو ں۔۔
پلیز مجھے معاف کردیں ۔۔
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں شکریہ۔۔
اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے شکریہ۔۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply