(12 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

گوشہء نور کی کرنیں ۔ (41)کچھ یادیں کچھ باتیں .(بابا جی یاسین)۔

گوشہء نور کی کرنیں۔۔41
کچھ یادیں کچھ باتیں .(بابا جی یاسین)۔۔
1..باباجی بلیوں والے
2۔۔۔۔۔۔۔”بھیرے کے پیر صاحب”
مغرب سے کچھ پہلے کا وقت تھا ۔رخصت ہوتی شام بچھڑنے سے پہلے آ خری دیدار بڑی دلفریبی سے اپنے میں مسحور ہونے والوں کو کروا رہی تھی۔
اسلام آباد کی شامیں اگست کے آ خیر میں اپناپیرہن بدلنا شروع کر دیتی ہیں۔
گرمی کی شدت ساون بھادوں کی بارشوں سے ٹوٹ جاتی ہے ۔ہر طرف سبزہ اونچی نیچی سڑکوں پر گاڑیوں میں آ تے جاتے مسافروں کو اپنی دلکشی سے محظوظ کرتا ہے ۔
ایسی ہی ایک شام تھی۔بلکل ڈوبنے کے قریب۔
نمازی اس کے حسن سے دامن چھڑا کر مغرب کی تیاری میں تھے۔میں بھی نماز کی تیاری میں مصروف تھی کہ گوشہء نور کے انباکس میں ایک انجانے میسج نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔
قارئین عام طور پر دن کے پہلے حصے میں پوسٹ پڑھنے کے بعد انباکس کر تے ہیں اس وقت میسج نے مجھے متوجہ کیا۔
یہ بابا یاسین کی وفات کا میسج تھا انجانی آ ئی ڈی سے۔
ایک شفیق ہستی ۔
ایک شفیق انسان۔
محبتوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے من میں سموئے وہ عجیب کشش اپنے اند رکھنے والے ایک انسان تھے۔
میں بہت برسوں ان سے رابطے میں تھی۔ہر ملاقات پر یوں لگتا اس بار کسی نئے باباجی یاسین سے ملاقات ہوئی ہو۔
روحانیت کے موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے وہ اپنا مدعا ہمیشہ صوفیاء کرام کی شاعری میں پیش کرتے۔
کلام بڑی روانی سے سناتے پھر آ خیر میں مسکرا کر پوچھتے سمجھ آ یا؟
اور جہاں مجھے کچھ ابہام رہ جاتا میں بلا جھجھک پوچھ لیتی۔
ان کے لہجے پر سرائیکی رنگ غالب تھا ۔جس کی وجہ سے انداز میں ایک شرینی گھلی ہوتی۔
پوری دنیا میں ان کی بیٹیاں اور بیٹے پھیلے ہوئے ہیں۔
بہت سے گوشہء نور کے قارئین بھی ان سے متعارف ہوئے اور ان سے رابطے میں رہے۔
ان کے جانے کے بعد ان کی بہت سی بیٹیوں نے مجھ سے بھی رابطہ کیا یو ں تعزیت کی کہ میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ شاید میرے اپنے والد صاحب کی تعزیت کرنے والوں کی تعداد اس سے کم تھی۔
ہم پریشان ہوتے یا کوئی معاملہ درپیش ہوتا دھیان فوراً بابا جی کی طرف جاتا۔
اصل میں تو امتی کی بیقرار ی میں توجہ اٹھتی ہی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب ہے۔پھر جب ہماری نگاہ مدینہ منورہ جاتی ہے تووہاں موجود ڈیوٹی پر مامور ہم پر توجہ فرماتے ہیں ۔یہ بڑے راز کی باتیں ہیں۔
وہاں کے کبوتر ہوں بلیاں ہوں یا فضا میں اڑنے والے پتنگے سب خاص ہیں۔
سب پر اسرار ہیں۔
کون سے راز کس پر کھلیں یہ اوپر والا ہی بہتر جانتا ہے۔
کبھی کبھی میں ان سے ان رازوں کی بابت پوچھتی ۔کریدتی تو وہ خاموش ہو جاتے ماضی میں ڈوب سے جاتے پھر کوئی قصہ کوئی واقعہ سناتے ۔ہم بھی بڑی توجہ سے سنتے اور کوشش کرتے اس کو اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیں۔
انہوں نے برس ہا برس دیار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سر زمین پر گزارے بہت سے غلامان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میزبانی پر مامور رہے ۔اور ان کے اسرار ان پر کھلے۔
یہ” اللہ والے “ان اسراروں کو ںہت سینت سینت کر رکھتے ہیں۔یہ بیک وقت دو دنیائوں کے باسی ہوتے ہیں ۔
ایک مادی دنیا جہاں گھومتے پھرتے ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہمیں یہ نظر آ تے ہیں مگر دراصل یہ لوگ کسی اور جہاں کے مقیم ہوتے ہیں ۔
ان کا شمار شاید ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے رب کی رضا اس طرح حاصل کرلی کہ دوئی ختم ہوگئی۔
اب ان میں ان کی زات کی خواہش کہیں نظر نہیں آ تی وہ تو بس تسلیم ورضا کا ایک چلتا پھرتا پیکر ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باباجی بلیوں والے۔
باباجی یہ بلیوں والے باباجی کون تھے ؟
ایک دن میں نے موقع پا کر باباجی سے سوال کیا؟
آ پ کیسے جانتے ہیں ان کو انہوں نے اپنا شفیق سا چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔
بس ان کے بارے میں کہیں پڑھا تھا۔صوفی صاحب سے بھی دریافت کیا وہ کہ رہے تھے آ پ کے ساتھ بڑی دوستی تھی ان کی۔
وہ میری بات سن کر جیسے ماضی میں ڈوب گئے۔مجھے یوں لگا جیسے وہ مسکرا کر باباجی بلیوں والے کی خدمت میں پہنچ گئے ہیں اور ہم بھی ان کے ہمراہ ہیں اور وہ ان سے ہمارا تعارف کروا رہے ہوں۔
بڑا پیار ا انسان تھااور میرا بہت پیارا دوست ۔
گنبد کے سامنے جنت البقیع والی سائیڈ پر پرانا پاکستان ہاؤس ہوتا تھا اس کے سامنے ان کی بیٹھک تھی۔وہ وہیں بیٹھاکرتے ۔
لوگ ان سے دعا کروانے آ تے ۔ایک مرتبہ ایک بندہ ان کے پاس آ یا ایک لکھا ہوا خط لے کر کہنے لگا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لکھا ہے میں نے سنا ہے آ پ کا ان سے رابطہ ہے مجھے اس خطکا جواب چاہیے۔
وہ لجاجت سے منتیں کر رہا تھا اس کی منت سماجت اور بیقرار ی دیکھ کر باباجی نے خاموشی سے وہ خط پکڑ لیا
پھر ؟
میں نے برجستگی سے سوال کیا۔
پھر کیا بیٹا وہ تو لجپالوں کے لجپال نبی رحمت ہیں ۔ان کے دامن کو پکڑ نے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔باباجی بات مکمل کرکے خاموش ہو گئے۔
ایک دن بلیوں والے باباجی نے ہمیں بتایا کو خواب میں انہیں آ قاکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔
(وہ صدر ضیاء الحق کا دورِ حکومت تھا)۔
“سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ضیاء الحق سے کہ دو کہ ڈنڈے کو مضبوط پکڑیں اور پرانی مساجد تعمیر کرائیں۔”
تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وہ بہت اعلیٰ درجے پر تھے۔روزانہ شام کو مدینہ منورہ کی ساری بلیاں اکٹھے ہوکر ان کے پاس آ جاتیں ۔وہ ان کے کھانے پر ا چھی خاصی رقم خرچ کرتے تھے۔کبھی کبھی اگر بلیوں کے گوشت لینے کے لیے اس کے پاس پیسے ختم ہوجاتے تو مجھ سے ادھار لے لیتا ۔
باباجی ہمیں ان کی باتیں بتا رہے تھے اور ہم ہوں جیسے گنبدِ خضرا کے سامنے دھیمی دھیمی چال چلتی خاموش باادب بلیوں کو بابا کے اردگرد دیکھ رہے تھے ۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
بھیرہ شریف کے پیر صاحب۔
بلیوں والے باباجی کی باتیں کرتے کرتے ان کی یادداشت میں بھیرہ شریف کے ایک پیر صاحب آ گئے اور وہ ہمیں ان کے بارے میں بتانے لگے۔
پاکستان بھیرے سے ایک پیر صاحب حج کرنے تشریف لائے ۔بڑے متقی پرہیز گار شخصیت تھے ۔
۔مسلسل دس سال سے روزے رکھنے والے باریش روشن چہرے والے پیر صاحب۔
وہ بھی باباجی بلیوں والے کے ڈھونڈ تے حرم نبوی میں ان کی بابت پوچھتے نظر آ ئے ۔پھر وہ ان سے ملنے ان کے گھر بھی گئے۔
بھیرے والے پیر صاحب بھی کمال غلامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرتبے پر تھے۔
مجھے بھی ان کی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی۔ایک دن مجھے کہنے لگے غلام یاسین مجھے مکہ مکرمہ آ پ چھوڑ کر چھوڑ آ وگے ؟
میں نے کہا جی جناب غلام حاضر ہے جب حکم فرمائیں گے ۔انہوں نے فرمایا کل چلیں گے ان شاءاللہ۔
میں اگلے دن گیا تو انہیں خاموش پایا۔
سمجھ گیا کہ ابھی اجازت نہیں ملی۔
اسی طرح 5,6,دن میں جاتا رہابولے اجازت نہیں مل رہی تھی۔
پھر مجھے حکم دیا گیا کہ رات باب اسلام پر بسر کرو
میں نے گذشتہ رات وہیں گزاری تو اجازت مل گئی ہے چلو اب چلتےہیں۔
میں ان کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوا۔عمرہ کی ادائیگی کے بعد ہم حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بلی بڑی مستانہ چال چلتی ہوئی ان کی جانب آ ئی جیسے وہ انہی سے ملنے آ ئی ہو اور انہیں پہچانتی ہو
یوں قریب آ کر جھک کر اس نے ادب سے گویا سرجھکالیا ۔تھوڑی دیر بادب رہی پھر پیر صاحب کی گود میں ان بیٹھی ۔انہوں نے بھی بازوؤں میں پھر کر اسے گود میں بٹھا لیا سینے سے لگایا میں یہ منظر دیکھ رہا تھا مجھے اس وقت یوں لگااس میں بھی ایک خاص راز تھا۔
پیر صاحب نابینا تھے لیکن محسوس نہیں ہوتاتھا کہ قدرت نے ان سے آ نکھوں کی روشنی لے لی ہے۔
میں مکہ میں ان کی خدمت میں لگا رہتا۔اور فکرمند بھی تھا کہ انہیں جدہ پہنچانا ہے ائیر پورٹ اور جہاز میں سوار کروانا تھا۔75سالہ نابینا بزرگ کے یہ تمام انتظامات مجھے مشکل لگ رہے تھے۔میں ان کے لیے فکرمند بھی تھا۔
لیکن قدرت اپنے خاص الخاص مہمان ایسے ہی تھوڑی چھوڑتی ہے۔
اگلے روز ہم حرم صحن میں بیٹھے تھے شام کا وقت تھا۔
کعبے پر ہر روز ایک نئی شان نئی تجلیات کا ظہور ہوتا ہے۔
میری آ نکھیں کعبے کے دیدار میں مست تھیں ۔پیر صاحب کی صحبت میں وہ سین بلکل بدل سے گئے تھے ۔مجھے یوں لگتا جیسے کسی بادشاہ کے گھر کوئی خاص مہمان آ یا ہو اور میں اس مہمان کی خدمت گاری کی بدولت خاص ہوگیا ہوں۔
عجیب سا پروٹوکول مجھے ہر وقت ان بزرگوں کی معیت میں محسوس ہوتا۔
اتنے میں ایک شخص ہاتھ میں افطاری کی ٹرے سجائے ہماری جانب آ تا ہو مجھے دیکھائی دیا۔
اس نے ادب سے پیر صاحب کو سلام عرض کی ۔افطاری پیش کی ۔
پھر وہ ان کو لے گیا کوئی خاص ملاقات تھی جو اذان گاہ کے نیچے ہوئی۔
جب واپس آ ئے تو مجھے بتایا واپسی کا انتظام ہوگیا ہے ۔یہ شخص پی آ ئی اے کا پائیلٹ ہے جو جہاز کل پاکستان جانا ہے اس میں ۔
یہ اب مجھے لے جانے گا اپنے ساتھ ۔غلام یاسین تمھاری ڈیوٹی اب ختم ہوگئی ہے۔۔۔۔
تحریر کیسی لگی اپ ی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔
پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس ڈے آ گاہ ہوسکیں۔شکریہ گوشہء نور۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔
http://goshaenoor.com

Related Posts

Leave a Reply