(part 1) سلوک اور خواتین۔

گوشہء نور کی کرنیں ۔ 43ڈاکٹر جاوید احمد۔(سورہ رحمن والے)۔”ہسپتال میں آ ستانہ”

گوشہء نور کی کرنیں۔..43
ڈاکٹر جاوید احمد۔۔(سورہ رحمن والے)۔
“ہسپتال میں آ ستانہ”
میرے بھائی کو ڈاکٹرز لا علاج قرار دے چکے تھے وہ پھیپھڑوں کی بیماری میں تقریباً ڈیڑھ سال سے مبتلا تھے۔میڈیکل سائنس کی جدید یت سے زندگی کے چند سال مانگنے وہ سعودی عرب سے کینڈا روانہ ہوگیئے ۔لیکن سعودی عرب ہو پاکستان ہو یا کینڈا
میڈیکل کی زبان ایک ہی ہوتی ہے۔
تم آ جکل پاکستان میں ہو ناں ؟
جی جی میں نے جواب دیاہم چھٹی گزار نے آ ئے یوئے ہیں پاکستان آ جکل میں نے بھائی کی محبت میں بھیگے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
اس کی نقاہت بھری آ واز بمشکل فون کی حساس ریز ہزاروں میل سے مجھ تک پہنچا رہیں تھیں۔
میرا ایک کام کر سکتی ہو؟
اس نے رکی رکی آ واز میں کہا۔ڈیرھ سال سے وہ مسلسل آ کسیجن پر تھا اور بات کرنے میں اسے بہت مشکل پیش آ تی تھی۔یہ کرونا وائرس کی آ مد سے پہلے کی بات ہے۔
جی جی بتائیں میں فرمابرداری سے بولی۔
لاہور میں ایک ڈاکٹر جاوید ہیں وہ سورہ رحمان سے لا علاج مریضوں کا علاج کرتے ہیں کسی نے ان کی یو ٹیوب پر وڈیو مجھے بھیجی ہیں میں نے اسے دیکھ کر اس طرح پریکٹس کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نا کام رہا ہوں۔اپ پلیز لاہور ان کے پاس جاؤ میرے لیے دعا کراؤ اور میرا مسئلہ ان سے ڈسکس کر وپلیز ۔
ٹھیک ہے میں جلد ہی لاہور جانے کا پروگرام بنا تی ہوں ۔
میں نے اسے تسلی دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری عادت تھی کہ اکثر گھر کے کام کلاج کرتے ہوئے میں کوئی نہ کوئی بیان وغیرہ لگا لیتی کام بھی ہوجا اور کچھ ذہنی خوراک بھی میسر آ جاتی۔اج بھی میں ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی سبزی صاف کر رہی تھی قریب ہی میرے موبائل پر ڈاکٹر جاوید احمد کا پروگرام چل رہاتھا وہ غالبا لائیو دعا سیشن تھا میرے ہاتھ اور آ نکھیں اپنے کام میں مصروف تھے جبکہ کان سننے میں ایک دم مجھے یوں لگا جیسے انوارات کی بارش برسنے لگی ہو ماحول میں ایک عجیب سی تبدیلی آ گئی ہو ۔یہ رات کا وقت تھا سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں تھے۔اس سناٹے میں یوں یکدم رمضان المبارک کی راتوں والی نورانی کیفیات۔۔۔
میں اپنا کام چھوڑ کر رک گئی اور جو اب تک سکرین دیکھے بنا ہی ڈاکٹر صاحب کا پروگرام سن رہی تھی سکرین کی طرف نگاہیں اٹھا ئیں تو ڈاکٹر صاحب کا بارعب چہرہ پوری سکرین پر تھا جس پر انوار ات کی یوں موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور نور کے ان قطروں کو اپنے اندر جذب کرکے ان کا ہر باڈی سیل اللہ اللہ کررہا ہے ۔
۔ لگ رہا تھاان کے ساتوں لطائف جاری ہوں۔ان کا ہر سیل اللہ اللہ کرتا ہوا میرے فون کی ننھی سی سکرین پر واضح دیکھائی دے رہا تھا۔
یو ٹیوب پر بہت سے لوگ مذہبی خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن ایک کلین شیو ٹی شرٹ پہنے انگریزی تعلیم سے آ راستہ بظاہر ایک دنیا دار نظر آ نے والا یہ شخص کون ہے؟
یہ کوئی عام بندہ نہیں ہو سکتا میرے دل نے سر گوشی کی۔
یہ کوئی اللہ کا خاص ہی بندہ ہے جو کوئی اعلیٰ پوشیدہ ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔میرادل گواہی دے رہا تھا۔
تو اس کا مطلب ہے میرے بھائی نے ٹھیک بندہ ڈھونڈ ا ہے مجھے ان سے ضرور رابطہ کرنا چاہیے اور بھائی کا مسئلہ ان سے ڈسکس کر نا چاہیے میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
ہم سروسز ہسپتال لاہور میں موجود تھے رات تقریباً دس بجے کاوقت تھاہاسپٹل میں معمول کی چہل پہل تھی۔ یہاں آ نے سے قبل ہماری ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ ہوگیا تھا اور انہوں نے ہمیں یہاں آ نے کے لئے کہا تھا۔
۔ہم نے ریسیپشن سے” دعاوالے” کمرے کے بارے میں معلومات لیں ۔
اب ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے فلور پر کمرے کے عین سامنے موجود تھےکمرہ فل بھرا ہوا تھا ۔ بہت سارے لوگ دروازے کے باہر کھڑے اندر ہونے والی باتیں سن رہے تھے۔رش تھا لیکن رش میں کوئی بے قراری کوئی ہبڑ دبڑ نظر نہیں آ رہی تھی۔ہم وہاں کھڑے صورت حال کا جائزہ لے رہے تھے میرے ساتھ میری بڑی باجی اور ان کا بیٹا بھی تھے۔
آ پ نے ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہے؟
جی میں نے اثبات میں سر لایا۔
آ پ اندر آ جائیں وہ دبلی پتلی خاتون جو غالباً ڈاکٹر تھیں میرے قریب آ کر شائستہ لہجے میں بولیں۔
پھر وہ رش میں سے راستہ بناتے ہوئے ہمیں اندر لے گئیں۔اندر ایک لیکچر روم کا ماحول تھا۔سامنے ڈاکٹر صاحب میز کرسی لگائے براجمان تھے۔ایک جانب کرسیوں پر مرد حضرات تھے دوسری طرف خواتین۔
خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔
مرد ک
تعداد میں کمرے کے اندر تھے باقی حضرات کمرے سے باہر کھڑے ہوکر انرد ہونے والی گفتگو پر کان لگائے ہوئے تھے۔
ہمارے پاکستانی مرد الحمدللہ آ ج بھی خواتین کو بیٹھنے می جگہ دیتے ہیں اور کھڑےرہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
دروازے کے قریب بہت تھوڑی تعداد میں مرد حضرات تھے اور خواتین سے کمرہ بھرا ہوا تھا۔
یہ سروسز ہسپتال کی بالائی منزل پر ایک کشادہ کمرہ تھا جسے ڈاکٹر صاحب نے جدید دور کے ایک “آ ستانے” کا روپ دے دیا ہوا ہے۔
آ ستانے میں پیر صاحب سادہ لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اسی طرح حاجتمند دکھیارے دنیا سے ستائے ہوئے مایوس لوگ اپنی ضرورتیں حاجتیں جھولی میں ڈالے ان کے در پر آ س امید لئے آ تے ہیں۔
وہ شہر سے دور ڈیرہ جمائے ہوتے ہیں۔ مخلوق کے لیے ان کا در وا ہوتا ہے۔
خدمت میں بے لوث اور اللہ کی رضا میں بھیگے ہوئے ان لوگوں کے آ ستانے پر ایک عجیب اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔انے والوں کے کی داد رسی کی جاتی ہے ۔نہ صرف توجہ اصلاحی کے ذریعے ان کے قلوب کی اصلاح ہے بلکہ ان کی جسمانی ضروریات کے لیے لنگر کا اہتمام بھی موجود ہوتا ہے۔
یہ آ ستانے عام طور پر شہر سے باہر کسی گاؤ ں کی پرسکون لہلہاتی فصلوں کے بیچوں بیچ ہوتے ہیں کسی مزار کے قریب یا شہر کے مضافاتی علاقوں میں۔۔
لیکن یہ آ ستانہ شہر کے بیچوں بیچ ایک سرکاری ہسپتال تھا۔
جہاں اپنی اپنی تکلیفوں کی پوٹلیاں اٹھائے ڈرے سہمے پریشان حال مریضوں, جدید تعلیم سے آراستہ خوبصورت نوجوان ڈاکٹر وں اور لیڈی ڈاکٹروں کے علاوہ دور دراز سے لا علاج قرار دئیے گئے مریض اورایسے نوجوان بھی شامل تھے جن کی روح رب کی متلاشی ہوتی ہے اور وہ بھنور کی طرح بے قرار اڑتے پھرتے ہیں جہان رب کے نور کی کوئی لو ٹمٹماتے دیکھی جھٹ سے وہاں پہنچ گئے۔
میرے آگے آگے آگے چلتی ہوئی اس نوجوان لڑکی جو غالبا ینگ ڈاکٹر تھی اس نے سب سے آگے والی لائن میں میں جگہ بنائی اور بیٹھنے کے لیے کہا ۔
کرسی ایک تھی میں نے اپنی باجی کو اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں میں پیچھے چلی جاتی ہو ں۔ پیچھے کوئی کرسی خالی نظر نہیں آرہی تھی میں چپ چاپ پیچھے دیوار کی طرف بڑھی تاکہ میں دیوار کے قریب جا کر کھڑی ہو جاؤ ں لیکن اس مہربان خاتون نے دوسری رو میں کرسی پر بیٹھی اپنی کسی ساتھی کے کان میں کچھ کہا وہ فورا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور یوں مجھے اس کی جگہ لے جاکر بٹھا دیا۔
یہ کھانا لے لیں گرم گرم بریانی کی پلیٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے ایک پیاری سی لڑکی نے شائستہ لہجے میں کہا۔
میں تو گھر سے کھانا کھا کر آ ئی تھی ۔مجھے یہ سب عجیب لگ رہا تھاوہاں سب کو ڈسپوزیبل پلیٹوں میں بریانی پیش کی جا رہی تھی بھوک نہ ہونے کی وجہ سے میں نے انکار کر نا چاہاپھر میرے کانوں میں اپنے بابا جی آ واز گونجی۔
” لنگر کا کھانا کوئی آ پ کو پیش کرے تو کبھی انکار نہ کرو بھلے بھوک نہ بھی ہو۔لنگر کا کھانا کھاؤ یہ تمھارے اندر نور پیدا کرتا ہے”
اور میں نے چپ چاپ شکریہ کے ساتھ اس ماڈرن لنگر کا کھانا قبول کر لیا۔
پھر سب لوگوں کے ہاتھوں میں ڈسپوزیبل گلاسوں میں پانی پکڑا دیا گیا۔
سورہ رحمان لگائی گئی دعا کروائی گئی اور سب سے پانی پینے کو کہا گیا۔
پھر اس ڈاکٹر بابا نے سب سے کہا کہ پانی پئیں تو سب ذائقہ کی طرف دھیان دیں۔
پانی کا ذائقہ تبدیل ہوگا۔
میٹھا لگے گا۔
کڑوا لگے گا۔
آ ب زم زم جیسالگے گا۔
ایک ہی کمرے ایک ہی ماحول میں بیٹھے ہوئے ہر بندے کے پانی کا ذائقہ تبدیل ہو چکا تھا۔
کسی کا کڑوا کسی کا میٹھا اور کوئی آ ب زم زم کے ذائقے میں اپنا نارمل پانی تبدیل ہوجانے پر حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ایک لمحے کے لیے کمرے میں ہلکی سی سر گوشیوں کی بھنبھناہٹ سنائی دی۔
اب ڈاکٹر صاحب کی آ واز نے سب کو متوجہ کیا۔
اب ڈاکٹر صاحب کسی منجھے ہوئے بابے کی طرح حال میں بیٹھے سائلین کی جانب متوجہ تھے۔
فرداً فرداً سب کی داد رسی کی۔
ان کے مکاشفات کا کمال تھا یا ان پر ان کے مرشد کی نظر کرم۔۔۔
میں حیران تھی وہ ہر سائل کی انفرادی توجہ دے رہے تھے۔
کوئی مکافات عمل میں پھنسا ہو بد نظری کا شکار ہو یا بد نیتی کا وہ بڑے دھیان سے سر جھکائے مسئلہ سنتے پھر لمحہ بھر توجہ غالباً اپنے قلب پر کرتے اور بے ساختہ ان کے منہ سے کچھ جملے ادا ہوتے جو اس سائل کو ڈھکے چھپے انداز میں اسکا مسئلہ سمجھا دیتے اور وہ سائل کو مطمئن ہو جاتا۔
دور جدید کا یہ آ ستانہ کمال کا تھا۔جہاں خدمت گار تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے اور نہایت اخلاص سے اپنی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔
پروگرام میں کہیں بھی بد انتظامی لا شائبہ تک نہیں تھا۔سب کچھ بہت اعلیٰ طریقے سے ارینج کیا گیا تھا۔
لوگ اپنے اپنے مسائل سنا کر دعا کروا کر رخصت ہونا شروع ہو گئے۔
ڈاکٹر باباجانے والا جب اجازت لینے قریب آ تا ےو بابا قریب پڑی ٹافیاں بسکت وغیرہ مٹھیاں ںھر بھر کے انہیں دے رہے تھے۔تبرک دینے کی یہ روایت بھی انہوں نے قائم رکھی ہوئی تھی ۔میں حیران تھی یہ سب دیکھ کر۔اور بہت خوش بھی ۔۔۔
اللہ کریم کی شان ہے وہ جس سے چاہے اپنی مخلوق کی بھلائی کے کام لے لے۔
میری دعا ہے ڈاکٹر صاحب کا یہ آ ستانہ ہمیشہ قائم ودائم رہے۔وہ ہسپتال میں نہ صرف جسمانی علاج کر رہے ہیں بلکہ روحانی دکھوں روحانی بیماریوں کا مداوابھی کر رہے ہیں۔
اللہ کریم میرے وطن کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اس وطن میں میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے دین کے نور کی کرنیں بکھیر نے والے ہر فرد کی خدمات میں برکات عطا فرمائے آمین۔۔۔(گوشہءنور)
تحریر پسند آ ئے ےو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔شکریہ۔۔۔گوشہ نور۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔۔

Related Posts

Leave a Reply