Home

گوشہء نور کی کرنیں . (40)

گوشہء نور کی کرنیں۔۔.(.40)
روحانی پین کلر۔۔
وہ آج بے حد پرسکون دکھائی دے رہی تھی ۔
نہ کوئی واویلا نہ کوئی آنسو اور نہ ہی اپنی دکھوں کے کے بہتے ہوئے زخم ننگے کر کر کے ہمیں دکھا دکھا کر ہماریں بھی رونے پر مجبور کر رہی تھی۔۔
آج بہت دنوں کے بعد میری اس سے ملاقات ہوئی تھی۔
وہ میری بہت پرانی دوست تھیں یو نیورسٹی میں ہم اکٹھے پڑھتے تھے ۔
بے حد شوخ چنچل ہنستی مسکراتی خوبصورت چہرے والی رحمہ۔۔
دکھ تو جیسے اسے چھو کر بھی نہیں گزرے تھے ۔
بات بات پر قہقہے اپنے مخصوص فیصل آبادی انداز میں جگت مارنا اس کی عادت تھی۔
وقت گزرا ذرا عملی زندگی میں ہم داخل ہوئے ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں اور بوجھ اپنے اپنے وجود پر اٹھائے آئے شب و روز کی کی تگ و دو میں مصروف ہوگیا۔۔
بہت سالوں بعد اس کے شوہر کی ٹرانسفر ہمارے ہی شہر میں ہوگی اور یوں ہمیں پھر ملنے جلنے کا موقع مل گیا۔
زندگی نے اس کے ہاتھ میں امتحان کا جو پرچہ پکڑ یا وہ یقینا ایک مشکل ترین پیپر تھا۔۔۔
شاید وہ سارے مضامین تو اس نے کبھی پڑھے ہی نہیں تھے۔۔
صبر و برداشت توکل اور مذہب۔۔۔
یہ وہ مضامین ہیں جو یونیورسٹیز میں نہیں پڑھائے جاتے بلکہ آپ نے انہیں اپنے ماحول سے سیکھنا ہوتا ہے ۔
یہ سب کچھ ایک ماں اپنی اولاد کے وجود میں دھیرے دھیرے گھوندتی ہے ۔
اس کی شخصیت میں ننھے ننھے بیجو ں کی شکل میں بو دیتی ہے ۔۔
جب عملی زندگی میں اس کی اولاد قدم رکھتی ہے تو تو اس وقت پیش آنے والی مصیبتیں امتحانات اور ناموافق فضا میں وجود جھلسنے لگے تو یہ بیج جھٹ سے تناور درخت بن کر اس اولاد کے وجود پر سایہ کر دیتے ہیں۔۔
بیٹا ہو یا بیٹی والدین حیات ہوں یا دنیا سے رحلت فرما گئے ہو ان کے ہوئے یہ بیچ اولاد کو نا موافق حالات میں سروائیو کرنے کے لیے توانائی مہیا کرتے ہیں۔
جو بچے بدقسمتی سے اس نعمت سے محروم رہ گئے ہوں اور اگر قسمت کی دیوی بھی آنکھیں پھیر لے امتحان کا پرچہ بھی مشکل آ جائے تو زندگی دوبھر ہو جاتی ہے۔
کچھ ایسا معاملہ رحمہ کے ساتھ بھی تھا ۔
بچپن سے اس نے صرف اور صرف آسانیاں دیکھی تھیں۔
عملی زندگی میں جب مشکلات آئیں والدین بھی داغ مرافقت دے چکے تھے بہن بھائی بھی اپنی زندگیوں میں الجھ چکے تھے اب ان کے پاس بھی اس کے دکھ سننے کا وقت نہیں تھا۔
میری پرانی دوستی کا حق وہ یہ سمجھتی تھی کہ اپنے دل کا سارا غبار اور بوجھ میرے اوپر انڈیل دیتی ۔
ہر ملاقات میں اس کے دکھ اس کے آنسو اور اس کے زخم اس کے علاوہ وہ ہمارے درمیان کوئی اور بات چیت نہیں ہوتی تھی ۔۔
وقت نے ہمیں پھر جدا کر دیا اور کچھ سالوں بعد میری دوبارہ رحمہ سے ملاقات ہوئی تو وہ یکسر بدل چکی تھی پرسکون چہرہ ۔۔۔
لبوں پر پروقار سی مسکان لیے وہ مجھے ملی۔۔
یوں محسوس ہوا جیسے اس کی ذندگی نے کوئی دکھ دیکھا ہی نہ ہو۔
میرے لیے یہ سب کچھ ایک اچھنبا تھا۔
چند سالوں میں یا شاید ڈیڑھ دو سالوں میں اتنا کچھ کیسے بدل گیا؟
کیا اسے کوئی ایسی جادو کی چھڑی مل گئی جو اس کے سارے مسائل اور سارے حالات کو ٹھیک کر گئی ابھی میں یہ جاننے کے لیے بے تاب تھی۔
سب خیریت ہے نا ؟
میں نے چائے کا کپ خالی کر کے میز پر رکھتے ہوئے اس کے پرسکون وجود کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔
میں تمہارے لئے ہمیشہ دعا گو رہتی تھی اور فکر مند بھی ۔۔
میں نے بڑے سلیقے سے اسے ٹٹولنا چاہا۔۔
ماشاء اللہ تمہارے حالات ٹھیک ہو گئے لگتے ہیں میں اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اس کے چہرے کے جذبات کو پڑھنے کی کوشش میں تھی۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ۔
سارے دکھ ساری پریشانیاں سب حالات جوں کے توں ہیں بس میں نے روحانی “پین کلر” لینا شروع کر دی ہے وہ انتہائی سنجیدہ لہجے میں بولی ۔۔
روحانی پین کلر؟
میری سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر جم گئیں۔
پین کلر کیا کرتی ہے ؟
درد کو ختم نہیں کرتی اس میں درد ختم کرنے کی قوت نہیں ہوتی بس یہ درد کے احساس کو ختم کر دیتی ہے۔
اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
روحانی پین کلر کا بھی یہی کام ہے ۔
جب حالات ہمارے اختیار سے باہر ہو جائیں ہم انہیں ٹھیک کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ں تو پھر ہمیں چاہیے کہ ہم سب کچھ اللہ کے سپرد کر دیں۔
اس قادر مطلق کے آگے اپنے سارے مسائل پوٹلی باندھ کر دھر دیئے تو پھر وہ میرا معاملہ ہی نہیں رہ گیا ۔
وہ مشکل وہ مصیبت جب میری ہے ہی نہیں تو میں اس کے لیے پریشان کیوں ہو ں؟
اپنی جان کو ہلکان کیوں کروں ؟
وہ روانی سے بول رہی تھی تمہارے چلے جانے کے بعد میرے دکھ سننے والا کوئی نہیں تھا ۔ میں نے مذہب میں پناہ ڈھونڈ نا چاہی۔
ذہنی دباؤ ڈپریشن اور نا موافق حالات نے مجھے بیمار کر دیا۔
تو پیارے رسول کی مانگی گئی ہمیں سکھائی گئی مسنون دعاؤں میں سے ایک دعا نے میرے قدم پکڑ لیے لیے ۔
میں وہ الفاظ اپنے اندر اتارنے میں کامیاب ہوگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ میں بھی قدرت نے بہت قو ت رکھی ہے۔
(مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جامع دعاؤں کا بیان ۔ حدیث 1031)
” اللهم إني أسألك الصحة والعفة والأمانة وحسن الخلق والرضى بالقدر “
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اسئلک الصحۃ والعفۃ والامانہ وحسن الخلق وارضی بالقدر)۔ یعنی بری بیماریوں سے بدن کی سلامتی و تندرستی یا افعال و احوال اعمال کی درستی و اصلاح اور حرام سے اجتناب اور امانت (یعنی لوگوں کے اموال میں یا شریعت کے تمام حقوق میں خیانت نہ کروں اور بہتریں اخلاق اور تقدیر پر رضا۔
پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس دعا کے آخر میں جو الفاظ فرمائے ہیں کہ اے اللہ مجھے تقدیر پر راضی رہنے والا بنا دے۔۔۔
میں سمجھتی ہوں یہی” روحانی پین کلر “ہے ۔۔
جب ہم یہ سمجھ لیں کہ جو بھی حالات امتحانات میری زندگی میں ہیں میرا رب جانتا ہے اس کے علم میں ہیں اور اپنے رب سے دل کا تعلق جوڑ کر اس سے صحت و عافیت مانگ کر آخر میں اسے سرگوشی کر دیں اللہ مجھے تقدیر پر راضی رہنے والا بنا دے تو آپ آپ کے حالات بھلے نہ بدلیں لیکن آ پ ضرور بدل جاتے ہو۔
ساری بے قراری کی وجہ بہ ہے کہ ہم تقدیر پر راضی نہیں ہوتے ۔۔
میرا مشاہدہ ہے کہ دنیا کی ہر نعمت موجود ہونے کے باوجود بھی لوگ بے سکون ہیں۔
مجھے یہ ادراک ہوا کہ سکون کا تعلق دنیاوی نعمتوں سے نہیں ہے بلکہ سکون تو ان دلوں کا مقدر بن جاتا ہے جو رب کی رضا پر راضی رہنا سیکھ جاتے ہیں اپنی بات اس نے دھیمے انداز میں مکمل کی۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اس تحریر کے بارے میں اپنی راۓ کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے شکریہ۔۔۔۔گوشہءنور

Related Posts

Leave a Reply