خواتین اور سلوک ۔ (پارٹ6)

گوشہء نور کےسالکین ۔ (سبق 1) روح کا رزق

گوشہءنور کے تمام قارئین کی خدمت میں اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
یہ من کی باتیں یہ” روح کا رب” سے ملنے کا سفر اس سفرمیں پیش آ نے والی مشکلات اور اتار چڑھاؤ ۔۔۔
کوشش کی گئی کہ یہ سب آ سان الفاظ میں “گوشہء نور کے سالکین کے اسباق میں” آ پ کی خدمت میں پیش کیا جائے تاکہ اس راہ کے نئےمسافر ہیں انہیں اس سے کچھ رہنمائی مل سکے۔
الحمدللہ آ پ لوگوں کی طرف سے ان اسباقِ کو بہت پذیرائی ملی۔
محبت الہی کی تحریر بڑے حجابات میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور قاری کی ایمانی کیفیات کے مطابق اس سے حجابات ہٹتے چلے جاتے ہیں اور یہ الفاظ مختلف اوقات میں پڑھنے والے کو اپنے نئے مفہوم سے آ شکار کرتے ہیں۔
اسی خیال کے پیش نظر اور کچھ پڑھنے والوں کی فرمائش پر یہ اسباق دوبار ہ پوسٹ کئے جا رہے ہیں ۔
آ پ کی اس بارے میں رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
گوشہء نور کےسالکین ۔۔۔ (سبق 1)
روح کا رزق
ہماری طلب اور رب کو پانے کی چاہت کے لئے قراری دیکھ کر وہ دھیمے سے مسکرائے اور بولے اللہ کو پانا کوئی مشکل کام نہیں ہے جس طرح رزق ہر ذی روح تک پہنچانا خالق کی ذمہ داری ہے بالکل اسی طرح روح کا رزق ہر طالب تک پہنچانا بھی اس کی ذمہ داری ہےطالب کا کام اپنی طلب کو خالص رکھنا اور اس پر پہرا دینا ہے
یہ روح کا رزق کیا ہے؟ہم نے پوچھا۔
کھانا کھانے کے بعد بعد تمھیں قرار آجاتا ہے ۔ اور تم مزید کھانے کی طرف دیکھتے بھی نہیں چاہے وہ کتنا ہی اعلی قسم کا ہو۔
لیکن اگر پانچ وقت نماز ادا کرنے کے بعد تمہاری روح میں بے قراری پیدا ہونے لگے اور وہ رب کو پانے کی جستجو میں لگ جائے اپنے رب کا نام سننا اس کی باتیں سننا اسے سیر نہ کرے تے تو سمجھ لو تمہاری روح کو رزق کی مزید ضرورت ہے۔
اب اسے ایسارہنما چاہیے جو اسے رب تک پہنچنے کا رستہ اور طریقہ سمجھائے۔یہی تڑپ اور طلب روح کے کی بھوک کی نشانی ہے ۔
اس کا رزق وہ ہے جو اس کی یہ بھوک مٹا دے اور وہ یکسو ہو کر اپنے رب کی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت میں پہنچ جائے۔ جب کوئی روح اللہ کی طلب میں بے قرار ہوتی ہے ہے اس کی بے قراری اس حد تک پہنچتی ہے پھر اللہ کریم اس کے رزق کا بندوبست فرما دیتے ہیں وہ جہاں کہیں ہو اس اس کی رہنمائی کا کا انتظام کر دیا جاتا ہے ۔جس طرح پتھر کے اندر وہ خالق کیڑے کو رزق پہنچاتا ہے اسی طرح دنیا کے کسی کونے میں بھی طالب حق روح کے لیےرزق کا بندوبست کرنا اس رب العالمین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
لیکن اس سلسلے میں آج کل اس میدان میں بھی اتنے فراڈ ہیں اور اتنے بہروپئے کے حق اور سچ کی رہنمائی کو ہم کیسے پہچانیں میں نے پھر سے اپنا اندیشہ ظاہر کیا۔
انہوں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا اور گہری سانس لی اور ان کی آنکھوں میں ایسی چمک پیدا ہوئی کہ یکدم ہمیں لگا ہم تو چودہ سو سال پیچھے چلے گئے ہیں اور مدینہ منورہ کی کسی گلی میں کھڑے کسی رہگیرسےمسجد نبوی شریف کا پتہ پوچھ رہے ہیں ۔ پھر بولے اپنا تعلق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پختہ رکھو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ۔۔۔
میں بہک سکوں یہ مجال کیا میرا راہنما کوئی اور ہے
مجھےخوب جان لیں منزلیں یہ شکستہ پا کوئی اور ہے
تمہارا کام اپنی طلب کو خالص اور مسلسل رکھنا ہے ۔لیکن یاد رکھو سارے سفر میں دامن مصطفی ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔
تحریر اچھی لگے اور آپ کے روحانی سفر میں معاون ہو تو اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ ہمیں ہمارا آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے میں معاون اور مددگار ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔
شیئر کریں کاپی پیسٹ سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں شکریہ۔۔۔۔۔۔گوشہءنور.
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔


گوشہء نور کےسالکین ۔  (سبق 1) روح کا رزق

Related Posts

One thought on “گوشہء نور کےسالکین ۔ (سبق 1) روح کا رزق

Leave a Reply