گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر۔21)

گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر۔21)

گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر۔21)
خواہش اور ضرورت میں فرق۔
نفس پر روح غالب آجائے تو نفس کمزور ہو جاتا ہے۔
اس کا کیا طریقہ ہے ؟
کوئی ٹیپ ہمیں بتائیں نفس کو قابو کرنے کی۔
کہ ہم ضرورت اور خواہشات نفس میں فرق کر سکیں ؟؟
میں نے پوچھا بابا جی سر جھکائے مسکرائے اور بولے یہی سوال حضرت علی سے پوچھا گیا تھا ۔
آپ نے فرمایا جس کو زیادہ خوراک دو گئے وہیں طاقتور ہو جائے گا گا جب تک ہم ہم خواہشات نفس کو پورا کرتے رہتے ہیں یہ طاقتور سے طاقتور ہوتا جاتا ہے۔
اور یہی اس کی خوراک ہے ۔
اس کا کوئی طریقہ طریقہ کار ٖضرورت اور خواہشات ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے ہے اس سلسلے میں ہمیں ان سب کو کیسے مینیج کرنا چاہیے؟؟
میں نے پوچھا۔۔
اب تک ایک عمومی کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ کہ نفس کو خواہشات سے نکال کر کو ضرورت پر لے آؤ ۔۔
جتنی ضرورت ہے زندہ رہنے کے لیے اتنا ہی کھاؤ ۔۔
اگر پہننے کے لئے مناسب لباس موجود ہے تو اسی پر قناعت کرو۔۔۔
یعنی فالتو خواہشات کی نفی اور ضرورت کو پورا کرنا یہ ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے ۔۔۔
پھر پھر اس کے بعد مرحلہ وار سالک کو اس کا مرشد ترک بلذات کرواتا جاتا ہے یہ ایک سفر ہے بیٹا ۔
ہم شیخ عبدالقادر جیلانی کے حیات مبارکہ کو کو اس دور میں دیکھتے ہیں پڑھتے ہیں ہیں جب وہ ولایت کے اعلی مقام پر فائز ہو چکے تھے کہ وہ چالیس برس جو انہوں نے نفس کشی میں گزارے انہیں ہم فراموش کر دیتے ہیں ہیں یہی حقیقت ہے ہے ہم ہمیشہ نفس کی خواہشات پوری کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔
وہی ہمارے میں شور مچاتا رہتا ہے۔
ہمیں اپنے الجھاؤ میں لگا کر رب سے غافل کرنا اس کی اولین ترجیح ہوتی ہے وہ نرم لہجے میں سمجھانے والے انداز میں گویا تھے۔
پھر لمحے پھر کو رکے اور کہنے لگے
“روح کی بات سنیں ۔ تنہائی میں بیٹھ کر اپنی کمزور و ناتواں اور اور ہلکے ہلکے سانس لیتی زخمی زخمی روح کی آواز ۔۔۔۔۔
یہ آ واز سن کر تو دیکھو اس کے زخموں پر مرہم رکھ کر تو دیکھو اس کی پکار تو صرف ایک ہی ہے۔۔۔
وہ تو صرف اور صرف اپنے رب کا دیدار چاہتی ہے اپنے رب کی قربت چاہتی ہے۔اس رب کے مقرب بندوں کی صحبت چاہتی ہے ۔۔۔
کبھی تو اس کی پکار پر کان دھر کر تو دیکھو ۔۔
دیکھو اس نے روز ازل میں اپنے رب کو دیکھا تھا جانا تھا پہچانا تھا وہ کس مقام سے کہاں آ ن بیٹھی ہے۔۔
کبھی اس کا دکھ سن کر تو دیکھو” ۔۔
مجھے بابا جی کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
(جاری ہے). گوشہء نور

Related Posts

One thought on “گوشہء نور کے سالکین۔۔(سبق نمبر۔21)

Leave a Reply