(part 1) سلوک اور خواتین۔

گوشہء نور کے سالکین . (سبق نمبر ۔ 22)

گوشہء نور کے سالکین ..(سبق نمبر۔22)۔
نیت ۔
جب بیماری کی تشخیص ہو جائے تو پھر مرحلہ علاج کا آتا ہے۔۔
جیسےہم اچھی صحت کے لیےبہت محتاط زندگی گزارتے ہیں اور اپنی خوراک کا بہت دیھان رکھتے ہیں۔ یہی معاملہ روحانی صحت کا بھی ہے ۔۔
وہ آ ج ہمیں اس سفر کی تیاری کے ابتدائی مراحل بتا رہے تھے۔
دل کی صفائی کے بعد “نیت کی پیورٹی،” کا مرحلہ ہوتا ہے۔
” نیت عمل سے افضل ہے”
اس کا مطلب جانتے ہو؟؟
جی مطلب ہر کام کرنے سے پہلے اس کی نیت اچھی طرح کی جائے ۔۔
میں نے جھٹ سے جواب دیا۔۔
نہیں صرف نیت کر لینا کافی نہیں ہے۔کی
پھراس کا کیا مطلب ہے۔؟؟
میں نے کہا۔
نیت عمل سے افضل ہے. اس کا مطلب ہے کہ اپنی نیت کی بہت زیادہ حفاظت کرو۔
کام کرنے سے پہلے اپنی نیک نیتی کو چیک کرنا۔ اپنے دل سے پوچھ لو کہ کہ جو کام آپ کرنے جا رہے ہیں اس کے پیچھے آپ کی نیت بھی اتنی ہی اعلی اور بلند ہے ۔
بعض اوقات کام بہت اعلی درجے کا ہوتا ہے لیکن پیچھے نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔۔
یا دنیا سے اس کے بدلے کی طلب اس کام کے اجر کو ضائع کر دیتی ہے۔۔۔
اس کے برعکس بظاہر معمولی یاا یساعمل جو پایہ تکمیل تک بھی نہیں پہنچتا لیکن اس کے پیچھے نیت نہایت اعلی ہوتی ہے وہ مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔
“قیامت والے دن اعمال تو لے جائیں گے”
گنے نہیں بلکہ تو لے جائیں گے ۔
یہ بھی ایک غور طلب بات ہے۔
اور وزن میں وہی نیکیاں یا وہی عمل سبقت لے جائیں گے جن کے پیچھے نیت میں اخلاص ہوگا۔۔
اگر نیت میں برائی ہے ،نیت میں فتور ہے ،تو اس کا وبال ،اس کا خمیازہ ہمیں دونوں جہانوں میں بھگتنا پڑتا ہے۔
اب ہم اس چیز کو سمجھتے ہیں کہ اعمال تولے جائیں گے اس سے کیا مرادہے؟
اس کا مطلب ہے کہ عمل چاہے چھوٹا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت خالص ہو ۔
مثلاً گناہ کرنے کے بعد جب گناہ کا احساس ہو جائے ۔۔۔
آنکھوں سے ندامت کے دو آنسو ٹپک پڑیں۔۔
اور دل کی گہرائیوں سے استغفراللہ نکل آ ے۔
تو سمجھو توبہ قبول ہو گئی۔
اگر گناہ کرنے کے بعد کسی کی ڈانٹ ڈپٹ پر تسبیح پکڑ کر چاہے لاکھ مرتبہ بھی استغفار پڑھ لو اگر دل نادم نہیں ہے ۔۔۔
معافی کی نیت نہیں ہے تو بے کار ہے۔۔
اگر ہم اس فلسفے کو سمجھ لیں اور ہر فرد انفرادی طور پر اپنی نیت کی حفاظت کرنے لگ جائے تو دیکھو معاشرے میں کیسی تبدیلی آتی ہے۔
اس کے بعد بدگمانی ،غیبت ،حسد اور بغضز، یہ تمام روحانی بیماریاں ہیں جن سے ہمیں میں چھٹکا را پانا ہے۔۔۔
دل کو صاف کرنا اس راہ پر جلنے کے لیے ایک ابتدائی مرحلہ ہے ۔وہ ہر بات کی تفصیل بیان کر کے سانس لینے کو رکے۔۔
دل کی صفائی میں سب سے مشکل کام ان لوگوں کو معاف کرنا ہے جنہوں نے زندگی میں ہمیں بے دردی سے رونداہوتا ہے ۔میں نے آہستگی سے سوال کیا۔
کتنا دکھ دے سکتا ہے تمہیں کوئی؟
جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرتے ہو جتنے دکھ انہوں نے اٹھائے مخلوق سے سے کیا تمہارا دکھ اس سے بڑا ہے ؟؟
وہ تھوڑے سے ترش لہجے میں بولے۔ان کے لہجے کو دیکھ کر میں ندامت سے چپ ہو گئی۔وہ بلکل درست فرما رہے تھے۔
میں ندامت سے خاموشی کی چادر کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اس پاک گھرانے میں مثال موجود نہیں۔۔۔
اس گھرانے سے وابستہ ہو جاؤ ۔۔۔
ان کی حیات مبارکہ سے تعلق والفت تمہیں وہ توانائی دیتا ہے کہ تم مخلوق کے تمام عیب اور زیادتیوں کو معاف کر نے کے قابل ہو جاتے ہو۔
اگر کوشش کے باوجود تم کسی کو معاف نہیں کر پا رہے ہو تو جان لو کہ ابھی تمہارا اس گھرانے سے تعلق صحیح معنوں میں استوار ہی نہیں ہوا ہے ۔۔
ان کے جواب نے دو دو موٹے موٹے ے ندامت کے کے آنسو میری میری پلکوں پر دھر دیے۔۔
۔(جاری ہے)۔
تحریر پسند آئے اور آپ کے روحانی سفر میں معاون ثابت ہو تو اپنی رائے سے کمنٹس سیکشن میں ضرور آگاہ کیجئے۔شیر کریں اس کار خیر میں ہمارے معاون بنیں ۔شکریہ۔۔گوشہءنور۔

Related Posts

Leave a Reply