Home

گوشہء نور کے سالکین ۔ (سبق نمبر۔24)مومن کا دل۔

گوشہء نور کے سالکین۔۔۔.(سبق نمبر۔24)
مومن کا دل۔۔
مومن کا دل اللہ کا گھر ہے۔
اور یہ گھر کیسے آ باد ہوتا ہے جب اس میں اس اللہ
کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔یہ کیسے ممکن ہے؟
وہ ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے۔
ہم سب خاموش تھے ۔جب وہ اس موڈ میں روانی سے ہمیں معرفت کی باتیں سمجھا رہے ہوتے تو ہم زبان تالو سے لگائے بلکل چپ ہوتے گویا ہمارے منہ میں زبان ہے ہی نہیں۔
پھر وہ لمحہ پھر کے توقف کے بعد گویا ہوئے ۔
ذکر خفی۔
چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے اس کے خیال میں رہو۔۔
اس کا ذکر کرتے رہو۔
فاذ کرونی اذکرکم ۔
اور صبح شام اپنے لیے وقت مقرر کرو جب بیٹھ کر باقاعدہ اس کا ذکر کرو۔۔۔
خفی ذکر ۔۔
اس توجہ سے۔۔
اس چاہت سے ۔۔
اس شدت سے اپنی سانسوں میں اس کا نام پکاؤ۔۔
بند آ نکھوں میں صرف اور صرف اسے بسا کر ۔۔
اللہ ۔۔۔۔اللہ ۔۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔
کی ضربیں لگاکر۔۔
سب کچھ معدوم ہو جائے وہ رہے ۔۔
صرف وہ۔۔۔
وہ ذات الہ۔۔۔
جو تمھارا ہے۔۔
تمھاری چاہت صرف وہی ہو ۔۔
کل من علیھا فان۔
ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔
یہی سچ ہے۔
یہی حقیقت ہے۔بات کرتے باباجی کی آ واز کہیں دور چلی گئی۔خاید وہ وہاں تھے ہی نہیں۔
“اللہ والے کی تو شاید اپنی کوئی ذات ہوتی ہی نہیں ہے۔
وہ تو ساری منزلیں طے کرکے جب فنافی اللہ کے مقام پر پہنچتا ہے پھر مخلوق بھی اس کی صحبت میں اپنے رب کو ایسے موجود پاتی ہے کہ اللہ اللہ اللہ کی صدائیں باقی رہ جاتی ہیں باقی سب کچھ معدوم ہو جاتا ہے ۔”
ذکر خفی کرنے سے انسان کی” روح طبعی ” بیدار ہوجاتی ہے۔۔
باباجی کی آ واز مجھے لمحہ موجود میں واپس لے آ ئی۔
اور جب روح طبعی بیدار ہوجائے تو پھروہ قلب کو تحریک دیتی ہے اور انسان کا قلب بیدار ہوجاتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ اللہ اللہ جاری رہتا ہے پلے انسان سو رہا ہو یا کاموں میں مشغول ہو قلب اللہ اللہ کرنے میں مشغول رہتا ہے ۔اور جب انسان کو موت آ تی ہے روح جسم سے پرواز کرتی ہے لیکن جو روح طبعی بیدار ہوگئج تھی وہ موجود رہتی ہے اسی لیے آ پ۔ے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں بزرگ وفات پا گئے مگر ان کا قلب مسلسل ذکر الٰہی میں مشغول رہتا ہے۔ا
ایسی بہت سی مثالیں ہمیں ملتی ہیں اور بعض ڈاکٹر صاحبان بھی ایسے واقعات بیان کرتے ہیں۔
روح طبعی کو موت نہیں ۔اسکا بیدار کرنا ہی ذکر خفی کی ابتداء ہے۔….(جاری ہے)
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ شکریہ۔
گوشہء نور۔۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ

Related Posts

Leave a Reply