(part 2) سلوک اور خواتین

گوشہء نور کے سالکین ۔ سبق نمبر ۔ 19

وشہء نور کے سالکین۔
سبق نمبر ۔ 19
دعا ۔
دعالینی ہے تو خدمت کارویہ اپناؤ۔۔
کسی سے محض دعا کی درخواست کر دینا کافی نہیں ہوتا۔ہاں درخواست کرنے پر بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندے دعا دیتے ہیں ۔
اللہ والوں یا والدین کاکام ہی دعا دینا ہےان کی زبان تو ہر وقت دعا کے لیے متحرک رہتی ہے ۔۔۔
لیکن یاد رکھو بیٹا دعا وہی عرش سے مقبولیت کا پروانہ ساتھ لے کر اترتی ہے جو دل سکی گہرائیوں سے بے اختیار نکلے ۔۔
ایسی دعا جب عرش کی جانب پرواز کرتی ہے تو راستے کی تمام مخلوقات بھی اسکے لئے اللہ کے ہاں دعاگو ہو جاتی ہیں۔
ایسی دعا ہم کیسے لیں ماں جی؟
کیا طریقہ ہے ایسی دعائیں سمیٹنے کا؟
میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
خدمت۔۔
جب آ پ کسی کی خدمت بے لوث ہوکر کرتے ہو تو اس کے دل سے بے اختیار دعا نکلتی ہے۔
دوسروں کی تکلیف دور کرنا کوئی مشکل میں ہو اذیت میں ہو حتی المقدور کوشش کر نا کہ اس کی تکلیف دور ہو سکے۔
لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ ہم ایسا کرسکیں میں نے سادگی سے جواب دیا۔
تکلیف میں مبتلا شخص کی اگر کوئی مدد نہ کرسکو تو چند لمحے اس کو وقت دو اس کا دکھ سن کر محبت کے لفظوں کا پھاہا اسکے زخموں پر رکھو۔۔
اس کے آ نسو اپنے پیار پھرے پوروں سے صاف کرو اس سے بھلی بات کہو پھر خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو ۔۔
اس کے سامنے بھی اور اسکے پیچھے بھی۔
وہ روانی سے بول رہیں تھیں۔
اگر سامنے دعا کرو گے تو اسکے دل کو قرار آ ئے گا اس کے پیچھے دعا کرو گے تو آ سمانوں کے فر شتے تمھارے لیے دعائیں کریں گے۔
دعا لینا بھی ایک فن ہے بیٹی…
یہ فن ہمیں ضرور انا چاہیے۔۔
جس مشکل وقت سے ہم گزر رہے ہیں بغض کینہ اور حسد ہماری معاشرتی زندگی کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے ایک دوسرے سے آ گے بڑھنے کی دھن ہمارے قریبی رشتوں کو کینے کی چنگاری سے جھلسا رہی ہے ۔۔
ایسے میں دعاؤں کا سایہ بہت ضروری ہو گیا ہے.کسی کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعا تمھارے بخت بدل سکتی ہے۔۔
تمھیں فرش سے عرش پہنچا سکتی ہے۔
وہ ہماری طرف دیکھ کر سمجھانے کے انداز میں بول رہی تھیں۔۔
پسند آ ئےتو شیر ضرورکریں کاپی پیسٹ سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں کریں ہمیں آ نتظار رہے گا۔۔…(گوشہء نور)

Related Posts

Leave a Reply