(part 2) سلوک اور خواتین

گوشہء نور کے سالکین ۔ 39. عالم۔(پارٹ۔2)

گوشہء نور کے سالکین۔۔۔39.
عالم۔۔۔۔(پارٹ۔2)
اگر ایک شخص نئے شہر میں آ کر آ باد ہونا چاہتا ہے تو اس کے لے وہاں ایک سجا سجایا گھر اور بہترین روزگار
پہلے سے موجود ہو ۔وہ وہاں جائے گھر اور روزگار کی اسے کوئی پریشانی نہ ہو اور اسے ٹاسک دیا جائے کہ آ پ نے صرف ہمارا کام کرنا ہے تو سوچو وہ کسقدر مطمئن نداز اور دلجمعی سے اپنے فرائض سر انجام دے گا اور کسقدر تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے گا ۔
بلکل یہی معاملہ عالم دین کے ساتھ ہے وہ جب دین وشریعت کے تمام مسائل سے آ گاہ ہوتا ہے پھر اس کے لیے طریقت کا علم سیکھنا بے حد سہل ہو جاتا ہے۔
کیونکہ بزرگ فرماتے ہیں کہ،” طریقت کے منہ میں شریعت کی لگام ہوتی ہے”۔
شریعت کے علوم سے آ گاہی کے بنا طریقت کا رستہ نہایت پیچیدہ ہو جاتا ہے باباجی اپنی بات مکمل کرکے خاموش ہوئے۔
اور پرانے وقتوں میں شریعی علوم پر مکمل طور پر عبور حاصل کرنے کے بعد طریقت کے علوم سیکھنے کے لئے طالب کو خانقاہوں میں اولیاء کرام کی صحبت میں رہنا ہوتا تھا۔
“اے طالبعلم تو علم سیکھ کر پہلے کسی ولی اللہ کامل کی صحبت اختیار کر اگر تو سیدھا ممبر پر چلا جائے گا تو فساد پرپا کرے گا۔،”
اس قول پر غور کرو تو آ پ کو میری بات سمجھ ے میں آ سانی ہوگی۔
وہ حاضرین کو۔ خاموش پا کر گویا ہوئے۔
تو اس کا مطلب ہے ہم جیسے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ دنیا وی تعلیم حاصل کرنے میں صرف کر دیا یا روزگار کمانے میں الجھے رہے کیا ہم اس راہ پر چلنے کے اہل نہیں ہیں۔ ایک دبی دبی آواز نے کمرے میں چھائی گھمبیر خاموشی کو توڑا۔۔
“یہ تو رب العالمین کو پانے کی راہ ہے ۔”
“آقا علیہ الصلاۃ و السلام کی محبتوں کی خوشبو وں کو اپنے اندر سمونے کا ایک رستہ۔۔۔ “
اس میں نہ تو عمر کی قید ہے اور نہ ہی علوم اور ڈگریوں کی کوئی بندش۔
کی یہ رستہ تو ہر امتی کے لیے ہر لمحے کھلا ہے۔ رستے کے اس پار منزل کی بلندیوں پر میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام سلام آپنے صحابہ کرام کے ساتھ اس راہ پر چل کر آنے والوں کے لیے اپنے در پر شفقت و عنایت اور اپنی کریمی صفات کے ساتھ موجود ہیں۔
ایک مرتبہ کوئی امتی اس جانب رُخ کر لے اس راہ پر چلنے کا ارادہ کرلے تو اس امام الانبیاءعلیہ الصلاۃ والسلام کو خبر ہوجاتی ہے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی جانب متوجہ رہتے ہیں وہ بات کرتے ہوئے ایک دم خاموش ہوگئے گویا قدرت کے رازوں کی پردہ داری مقصود تھی۔
” نیت عمل سے افضل ہے ” اگر طالب کی نیت خالص ہے اپنے مقصد میں وہ سچا ہے درود پاک اور آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے تو پھر وہ وہ ڈگمگا نہیں سکتا ۔اس راہ پر میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے غلام ہر قدم پر
” آ ن ڈیوٹی” موجود ہوتے ہیں وہ اپنا آ پ ظاہر کئے بنا خاموشی سے آ پ کی راہنمائی بھی فرماتے ہیں اور ان کی نظر کرم سے آ پ یہ سفر طے بھی کرتے جاتے ہیں۔
کیا صرف عالم دین ہی اس راہ پر تیزی سے منازل طے کر سکتا ہے ؟
تو اس رستے پر شرط صرف آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبتسرکار
غیر مشروط محبت ۔۔۔
یہی اجازت نامہ ہے ۔۔
ہاں یہ محبت اگر عالم دین کے پاس ہو تو پھر کمال تک پہنچا دیتی ہے اس کو۔۔
وہ انتہائی سرعت سے یہ منازل سفر طے کرتا جاتا ہے ۔
یاد رکھو عالم دین محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر تہی دامن ہے۔۔
جبکہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ رکھنے والا چاہے علوم شریعت میں بہت بڑی اسناد نہ رکھتا ہو اس محبت و عشق کے بل بوتے پر پہت بڑے رتبے تک پہنچ سکتا ہے۔۔
تاریخ گواہ ہے عشق والے ہمیشہ سبقت لے جاتے ہیں۔
بات مکمل کرکے وہ حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے۔۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
تحریر پسند آ ئے تو شیر کریں کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہو سکیں۔
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں آ پ کی رائے ہمارے لئے یقینا بہت اہم ہے۔شکریہ۔۔
گوشہء نور
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں ۔۔نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ۔

Related Posts

Leave a Reply