گوشہء نور ء کی کرنیں۔

(10 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ
اسرارِ مدینہ۔۔(حصہ1)
مدینہ منورہ کی پر نور فضا ئیں زائرین مدینہ کے لئے تندہی سے اپنی خدمات سرانجام دے نے میں مصروف تھیں۔
سورج اپنی تمازت کو ادب کے لبادےمیں لپیٹے جمعہ ادا کرنے والے نماز یوں کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہم صوفی صاحب کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
مدینہ منورہ کی کھجوروں اور دیگر اشیائے خوردونوش سے بھری ٹرے مقامی لباس میں ملبوس لڑکے نے ہمارے آگے لا کر رکھ دی ۔۔
کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مقیم ہونے کی وجہ سے ان کے گھر کا ماحول مکمل طور پر سعودی تھا۔
گھر کے بچے عربی بولتے تھے اور مقامی لباس میں گھومتے نظر آتے ہیں ۔
یہ دوسری نسل تھی ۔صوفی صاحب کے بچوں کے بچے ۔۔
عربی سکولوں اور عرب معاشرے میں رہنے کی وجہ سے انہیں دیکھ کر گمان نہیں ہوتا تھا کہ یہ پاکستانی نسل سے ہیں ۔
مدینہ منورہ کی میز بانی کا خاص وصف ان میں ودیعت کیا گیا تھا ۔
مہمان کی عزت مہمان داری اور مہمان کو تحفے دینے کے اندازواطوار انداز انسان کو چودہ سو سال پیچھے لے جاتے ہیں۔
وہ ہمیں بیتے دنوں کی باتیں بڑے خوبصورت انداز میں سنا رہے تھے ۔
ہم ہمہ تن گوش تھے۔ ان کی باتیں سن کر اپنے آپ کو اس زمانے میں ان کے ہمراہ ہونے کی تصور کشی اپنے دماغ میں کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔
پرانے وقتوں میں نماز عشاء کے بعد مسجد نبوی کے دروازے بند کر دیے جاتے تھے۔۔
رات گئے زائرین کے جانے کے بعد حرم شریف کی صفائی ستھرائی کر کے دروازے بند کرنا میری ذمہ داری تھی۔۔
اپنا کام میں بڑی عقیدت و محبت سے نپٹا دینے کے بعد باب جبریل بند کرتا۔
دروازے کو تالا لگا تا.
تو کبھی کبھی فضا میرے کانوں میں سرگوشی کرتی جیسے کہہ رہی ہو ۔
صوفی نذیر آج ادھر ہی ہمارے پاس رک جاؤ۔۔۔۔
اور صوفی نذیر تو جیسے پہلے ہی تیار ہوتا ۔۔
اور جھٹ سے باہر چوکھٹ پر سر ٹکائے چابیاں اپنی جیب میں ڈالے رات یہیں گزارتا۔۔
اس زمانے میں آج کی طرح ہر طرف روشنیوں کی چکاچوند نہیں ہوتی تھی۔۔
آج تو رات اور دن کا فرق ہی ختم ہو چکا ہے۔۔
پوری رات حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں زائرین کی آمدورفت سے با رونق رہتا ہے ۔اس وقت ایسا نہیں تھا ۔
ترک دور کی تعمیر کردہ مسجد نبوی شریف ہیں ہی کل حرم تھا ۔۔
جنت البقیع تک حدود حرم نہیں تھی۔۔
بلکہ باہر کھجور کے کچھ درخت مودب کھڑے ہوا کرتے۔۔
گنبد خضرا کے سامنے کھڑے ان درختوں پر اس دور کے شعرا نے خوب صورت اشعار لکھ کر اس حسین منظر کی منظر کشی کی ہے ۔۔
پاکستان ہاؤس کی پرانی عمارت بھی ادھر ہی موجود ہوتی تھی۔۔
وہاں میں بے شمار عجیب و غریب سے معاملات سے گزرا۔وہ دھیمی آواز میں اپنی بات بتا رہے تھے۔
ان میں سے کچھ ہمیں بھی بتائیں۔
میں نے تجسس سے کہا۔
یہ راز ہیں ۔
عجیب راز۔
عقل وفھم سے بالا تر۔
نبی آخرالزماں سرو کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام جہانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے۔
نہ صرف انسانوں کے لیے ہیں بلکہ کے دوسری تمام مخلوقات کے لئے بھی نبی رحمت ہیں۔
اسی لئے آپ کو رحمت اللعالمین کہا جاتا ہے۔
میں جب باب جبریل کے باہر ذکر اذکار میں مشغول ہوتا یا کبھی کبھار اپنی پیٹھ زمین پر ٹکائے کچھ دیر کے لیے آرام کرنے کے لیے آنکھیں موند لیتا تو بہت کچھ دیکھتا ۔۔
یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئے ۔۔
غالباً وہ مزیدبتانے سے گریز کر رہے تھے۔
لیکن میری کھوجی طبیعت جاننے کے لیے بیقرار تھی۔
ہم سب دم سادھے ان کی لب کشائی کےمنتظر تھے ۔
۔ہماری لگن اور شوق کو دیکھ کر گویا وہ مجبور سے ہو گئے۔۔
اور لگ رہا تھا کہ اپنی سوچوں کو مجتمع کر کے بڑے محتاط آواز انداز میں الفاظ کے چناؤ میں مصروف ہوں۔
چہرےپر عجیب الجھن کے اثرات نمایاں تھے پھر بولے بیٹا۔۔
رات کے پچھلے پہر عجیب و غریب قسم کے جنگلی جانور قطارباندھے آتے اور بےحد ادب کے ساتھ سر جھکائے گنبد خضرا کے مکین میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے دروازے پر مود بانہ انداز میں کچھ دیر کھڑے رہتے۔
یوں جیسے سلام پیش کررہے ہوں۔
انداز یہ ہوتا گویا کسی بہت بڑی بادشاہ کے دربار میں مختلف شہروں اور علاقوں کے گورنر سر جھکائے اپنی کارکردگی کا پروانہ ہاتھ میں لیے ہوئے پیش ہوں۔
پھر اسی طرح جیسے قطار در قطار دبے پاؤں اے آ ءے ہوتے اسی طرح واپس بھی بڑے سلیقے سے قطار در قطار چل دیتے۔
میں خاموشی سے یہ منظر دیکھتا اور دم سادھے پڑا رہتا ۔۔۔
ایک رات تو میں نے بہت عجیب منظر دیکھا صوفی صاحب گویا پوری طرح ماضی کے سمندر میں اتر چکے تھے۔۔۔
رات کا پچھلا پہر تھا۔ ہر طرف مکمل خاموشی تھی ۔
میں گنبد خضرا کی چھاؤں میں باب جبرئیل کے پاس پڑا ہوا تھا ۔
کہ کھٹ کھٹ کی آ واز آ نے لگی۔ میں نے اپنے چہرے پر لیا ہوا کپڑا ہٹایا اور اپنی سانس کو روک کر آوازکی سمت کا تعین کرنے لگا ۔۔۔
آوا ز مسلسل آرہی تھی۔(جاری ہے)
آپ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی ؟ اپنی رائے سے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کریں. آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے ..
پسند آئے تو شیئر کریں کافی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں ۔۔شکریہ۔


گوشہء نور۔۔

(10 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply