گوشہء نور ء کی کرنیں۔

(11 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ
اسرارِ مدینہ ۔۔(حصہ دوم)
جنت البقیع والی سائیڈ پر میں نے کچھ ہیولے دیکھے ۔۔
میں اٹھ بیٹھا آنکھوں کو ملا ۔۔
اپنے حواس کو درست کیا اور فورا جنت البقیع کی چوکیداری پر متعین شخص کی جانب چل پڑا ۔۔۔
جاکر دیکھا تو چوکیدار انتہائی پرسکون انداز میں اپنی جگہ موجود تھا میں نے پریشانی کی عالم میں اس کا کندھا ہلایا اور پوچھا ۔
کیا ماجرہ ہے ؟
کیا اس وقت کوئی تدفین ہو رہی ہے؟
میں نے حیرت سے پوچھا کیوں کہ رات کے اس پہر تدفین کا کوئی تصور اس زمانے میں نہیں تھا۔بھی نہیں تھا۔
یہ میرے لیے ایک حیران کن بلکہ پریشان کن معاملہ تھا ۔۔
عجیب پریشانی میرے دل کو گھیرے رہی تھی۔ چوکیدار میرا بہت اچھا دوست تھا ۔
میری بے چینی دیکھ کر اس نے نے مجھے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا کہ میں چپ رہوں۔۔
لیکن اس کی خاموشی میری بیقرار ی کو توڑے دی رہی تھی ۔۔
میں پریشان تھا کہ کہیں خدا نہ خواستہ یہ مردے چوری کا معاملہ نہ ہو۔۔
میرے اندیشے میرے وجود کو شوریدہ نہ کر دیں ۔یہ بھانپ کرچوکیدار نے میرا ہاتھ پکڑا اور اور سائیڈ پر لے گیا ۔۔۔
پھر آہستہ آواز میں بتانے لگا کہ یہاں یہ اکثر ہو جاتا ہے۔۔
لیکن یہ کیا ہے ؟؟
میں اس اسرار کو جاننا چاہتا تھا ؟؟
اس نے کہا نزیراحمد یہ بھی خدا کی رازوں میں سے ایک راز ہے۔
دراصل دنیا میں کہیں بھی کوئی شخص اگر مرنے کی دعا مدینہ میں کرتا ہے ۔
یا اپنی قبر کے لیے اپنے رب سے مدینے کی مٹی مانگتا ہے ۔۔
جنت البقیع میں مدفن مانگتا ہے۔
تو اس کی دعا اگر مقبول ہو جائے تو پھر یہ ہوتا ہے ۔
انہوں نے سامنے اشارہ کیا۔۔
وہ کیسے؟؟
میری آنکھیں حیرت سے پھیل رہی تھی۔۔
اللہ کریم فرشتوں کے ذریعے اس بندے کی تدفین کروا دیتے ہیں ۔۔۔
یعنی وہ جس ملک یا شہر میں وفات پائے یا جس قبرستان میں اسے دفنایا جا تا ہے ۔۔
اور جویہاں اس پاک بستی میں رہ کر اس بستی کی قدر نا جانے یہاں کے تاجدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بغض رکھے اور ہمیشہ یہاں سے نکلنے کیلئے تدابیر سوچے ۔
اس شہر کا مکین بنا کر جو کرم اس کے رب نے اس پر کیا اس کی بے قدری کرے پھر یہاں کی مٹی اسے قبول نہیں کرتی۔
چاہے اس کی موت اسی شہر میں ہو۔
دفنایا یہیں جاے مرنے کے بعد اس کا مردہ یہاں سے نکال کر اس قوم اس دھرتی پر منتقل کر دیا جاتا ہے جنکی محبت وہ دل میں رکھے ہوتا ہے۔
یہ مٹی تو بڑی وفادار ہے۔
بڑی قدردان ہے ۔
نذیر احمد ان اجسام کی جو شاہ کونین سے پیار کرتے ہیں۔
ان کےلئے تو یہ بازو وا کیے ہوئے ہوتی ہے ماں کی ممتا کی ٹھنڈک لیے۔
اپنے سینے میں ان کے لئے جنت سجاے منتظر ہوتی ہے ۔
یہ بڑےاسرار ہیں نذیر احمد ۔
بڑی راز کی باتیں ہیں۔وہ میری گود میں رکھا میرا ہاتھ دبا کر سرگوشی میں بولا۔
میرا رب تو بے نیاز ہے۔۔۔
کریم ہے ۔
سمیع علیم ہے۔۔
مرنے والے کی دعا کو پورا کرنا اس رب کے لئے کوئی مشکل نہیں ہیں۔۔۔
اس کی تدفین کے بعد رب العالمین اپنی خاص مخلوقات سے اس کی تدفین جنت البقیع میں میں منتقل کروا دیتے ہیں ۔۔۔
نذیر احمد یہ میرے رب کے بھید ہیں۔۔
اس خدائے بزرگ و برتر کے راز ہیں ۔۔۔
یہ کہہ کر کر دو چوکیدار واپس اپنی جگہ چلا گیا ۔۔
اور میں اپنی جگہ واپس آگیا ۔۔
یہ بہت اسرار کی جگہ ہے۔۔۔
یہ اس پیغمبر کا دربار ہے جسے اللہ کریم نے سب جہانوں کی لئے رحمت بنا کر بھیجا۔۔
اس رحمت اللعالمین ۔۔
سرور دو جہاں ۔۔۔
نبی رحمت سے نا طہ جوڑ کر
اس دربار سے وابستہ ہو کر تو دیکھو۔۔
اس مٹی سے پیار کر کے تو دیکھو
جس مٹی نےمیرے آ قا کے قدموں کو بوسے دیے۔۔
اس چوکھٹ سے لو لگا کر تو دیکھو۔۔۔
جس چوکھٹ کوفرشتے بھی بغیر اجازت پار نہیں کرتے تھے۔۔۔
محبت کی راہ پر قدم تو دھر کے دیکھو۔
پھر تمہیں رب وہ کچھ دیگا گا جو تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔
تمہاری وہ دعائیں قبول کر لے گا جن کا پورا ہونا تمہارے گمان میں بھی نہیں۔۔
مہر بان رب ہے۔۔
رحیم ہے ہو رب۔۔
اتنا مہربان۔
اتنا رحیم ۔
اس رب نے تو اپنا محبوب تمہیں دے دیا ۔۔
بھلا محبوب بھی کوئی بانٹتا ہے ۔۔
اس مہربان رب نے تو اپنا محبوب اپنی خلق کے ساتھ بانٹ لیا ہے۔۔۔
پھر بھی تم اس نبی رحمت کی رحمت کے بارے میں میں شک کرو ۔۔
اس نبی رحمت کی رحمتوں کے بارے میں
بحث مباحثے کرو ۔۔
ارے وہ تو ادب کی جگہ ہے ۔۔
وہ تو انسانیت پر رحمت کی معراج ہے ۔۔
اس سے جڑ گئے تو دونوں جہاں میں عزت دو گے ۔
شاعر کہتا ہے۔
“انہیں دیکھا انہیں جانا انہیں مانا
نہ رکھا غیر سے کام
للِلّٰہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا”
جو اس ہستی سے جڑ گیا ۔۔
جو میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے دربار سے وابستہ ہو گیا پھر وہ اللہ کا منظور نظر ہوگیا۔۔۔
اور جو اللہ کا منظور نظر ہو جائے کہ تو یاد رکھو۔۔
اللہ تو قدر دان ہے۔۔۔
وہ تو اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے ۔۔
ان کی تمناؤں کو پورا کرتا ہے ۔۔
اس کے لیے چاہے اسے فرشتوں کی خدمات لینی پڑیں یا وہ اس کام پر رجالالغیب کو مامور کریں ۔(جاری ہے)۔
تحریر پسند آئے تو ہمیں کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں ۔۔کاپی پیسٹ سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔

گوشہءنور

(11 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply