گوشہءنور کی کرنیں۔۔

(12 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ
حجرہ مبارک کی خاک کے امین۔۔(حصہ اول )
کیا مدینہ منورہ کی مٹی سے تعلق۔۔
اور اس مٹی سے پیار ۔۔
اس مٹی کو اپنا بنانے کی خواہش۔۔
اس مٹی کی خوشبودار اور دبیز تہہ نکلے چھپ کر سو جانے کی ارزو۔۔
آقا کے گنبد کی چھاؤں تلے تاقیامت گم ہوجانے کی خواہش ۔۔
اس قدر قدر کی جاتی ہے چاہنے والوں کی چاہت کی۔۔
ان کی باتیں سن کر میرے اندر کوئی سوال کئے جا رہا تھا۔۔
اف اس نبی آخر زماں شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت سے تعلق ۔۔
کسی چاہنے والے کی چاہت کا اس قدر مول شاید کہیں نہیں پڑسکتا ۔۔
جتنا اس در پر پڑ جاتا ہے ۔۔
کھوٹے سکے یہاں چل جاتے ہیں۔
اللہ اللہ تیرا بڑا احسان ہے تو نے ہمیں یہ درد دیا ۔
اس در کی چوکھٹ کو چومنے کا اذن دے دیا۔۔۔
اس کی مٹی میں ہمارے لئے شفا رکھ دیی۔۔۔
اللہ کی اس شکر گزاری کے احساس میں میرا پور پور سجدے میں تھا۔ ۔
لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں۔
دل کو ہم مطلع انوار بنانے ہوئے ہیں۔
دیکھو بیٹا مدینہ کوئی عام جگہ نہیں ہے۔
یہ محبت کرنے والوں کے لئے ماں کی ممتا بھری گود سے بھی کہیں زیادہ گرم جوشی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔۔
اگر یہاں کا کوئی مکین اپنے خیال میں کسی اور جگہ کی اس سے زیادہ قدر جانے تو میرے رب کو یہ بات گوارا نہیں ۔۔
میرا رب العزت بہت غیرت والا ہے وہ اپنے محبوب کے در کی بے قدری قطعاً برداشت نہیں کرتا۔۔۔
ایسے واقعات ہمیں تاریخ مدینہ میں بہت زیادہ ملتے ہیں ۔۔
یہ محبت کرنے والوں، قدر کرنے والوں کو اتنا نواز دیتا ہے کہ دنیا میں اس کی کی کوئی مثل نہیں۔
اللہ کا نور اللہ کا محبوب نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس جگہ مکین ہوں اللہ اس دھرتی کی بے قدری کیوں کر برداشت کرے گا۔
اک میں ہی نہیں ان پر۔قربان زمانہ ہے۔۔
جو رب دوعالم کا محبوب یگانہ ہے۔
میری بات سمجھ رہے ہو نا۔
انہوں نے رک کر سوالیہ نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا۔
جی ہم نے نہایت سعادت مندی سے جواب دیا ۔
اس شہر کی فضا اج بھی آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے سانسوں کی خوشبو اور اسکا گداز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت بھری نگاہوں کا التفات یہاں آنے والا ہر امتی اپنے وجود میں محسوس کر سکتا ہے ۔
ان کے نوازنے میں کوئی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو ہمارے اندر ہے۔
ہم اپنے دل کے در و ا کرکے تو دیکھیں، گرمجوشی جو ہمارا استقبال کرے گی وہ ہماری حیات کا رخ بدل دینے کے لیے کافی ہے۔
پرانے وقتوں میں صرف ترک دور کی تعمیر کردہ مسجد نبوی شریف تھی۔
اس دور کی تعمیر کی کہانی آپ نے یقینا سنی ہوگی۔
اس کے بعد جدید طرز پر جب حرم شریف کی توسیع کی گئی وہ سب زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے گزرا ہے ہے ۔۔
اور اس کام میں پاکستانی ہنر مند پیش پیش رہے ہیں ۔ اس کی ایسی ایسی مثالیں میرے سامنے آئی ہیں کہ کہ میں بیان کر تا جاؤ ں او ر آپ لوگ سنتے جائیں۔۔
نہ باتیں ختم ہو گئی ہو نہ ہی آ پ سنتے سنتے تھکیں گے ۔۔
وہ بات مکمل کر کے تھوڑا رکے ۔۔
جی ۔۔۔ ہم نے جواب دیا۔۔
آپ ہمیں اس زمانے کی کوئی بات سنائیں جب آپ حجرہ مبارک میں صفائی کیا کرتے تھے ۔۔
جھاڑو لگاتے اور جو وہاں سے اکٹھا ہوتا گرد وغبار یا مٹی وغیرہ آ پ اس کا کیا کرتے تھے۔ ؟؟میں نے ان سے سوال کیا۔
شاید میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ اس حجرے کی پاکیزہ زمین سے جدا ہونے کے بعد اس مٹی کا ٹھکانہ کہاں ہوتا ہوگا؟؟
میں نے اپنے خیال کی اس الجھن کو سوال کے سانچے میں ڈھال کر صوفی صاحب کے سامنے دھر دیا۔
وہ تھوڑی دیر چپ ہو گئے ۔جیسے وہ جالیوں سے چھن چھن کر آ نے والی دھوپ کی روشنی اور زمین پر پڑی خاک کےذ روں کا موازنہ کر رہےہوں کہ روشن اور منور کرنے کی صفت میں تو سبقت یہ ذرے لے کرجا رہے ہیں پھر اے سورج تو اتنا چمک کیوں رہا ہے؟؟؟
جیسے ان کی روح سفر کر کے اسی زمانے میں جارہی ہو ۔
یہ ان کا خاص انداز تھا وہ جب بھی ہمیں ماضی کی باتیں سناتے تھے ان کے چہرے پر رنگ بدل سا جاتا ۔
لیکن دراصل وہ وہاں سے ماضی کے سمندر میں اتر چکے ہوتے ۔۔
اسی زمانے میں جاکر ہمیں وہاں کی باتیں یوں سناتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہم بھی ان کے ساتھ اسی زمانے میں چلے گئےہیں۔۔
حجرہ مبارک میں بیٹا کوڑا کرکٹ کا تو تصور ہی نہیں۔۔
وہ تو پاک صاف مقام ہے ۔
میں وہاں جھاڑو لگاتا تو تھوڑی سی مٹی،گردوغباریا ، کبوتروں کے پروں کاکوئی ٹوٹا ہوا حصہ۔۔
جو شاید کوئی کبوتر وہاں سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے وجود کا کوئی پر ادب سے وہاں دھر کر چلا جاتا تھا۔۔۔
میں ا سے بڑی احتیاط سے ایک پڑیا میں باندھ کر رکھ لیتا تھا ۔
پھر حج کا موسم آ تا۔
حاجی آتے، میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کرتے۔
کسی حاجی کے چہرے کو دیکھ کر میرے اندر کوئی سرگوشی کرتا نذیر احمد جاؤ ایک پڑیا چپکے سے اسے تھما کر آجاؤ ۔۔
اور یوں میں خاک کی پڑیا اس حاجی کو یوں تھما دیتا جیسے اس نے اپنی کوئی امانت میرے پاس صدیوں پہلے رکھو آئی ہو ۔۔
اور اب وہ اسے واپس لینے آیا ہوں ۔۔۔اپنی بات مکمل کر کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔۔
اور میں اسی وقت اسی زمانے میں صوفی صاحب کے اردگرد کہیں موجود تھی۔
ریاض الجنتہ میں۔۔
میری بے قرارنگاہیں وہاں موجود حجاج کرام میں سے وہ خوش نصیب چہرہ تلاش کرنے لگیں ۔۔
جن کو صوفی صاحب نے حجرہ مبارک کی خاک تھمائی ہو ۔۔
میں ایک ایک حاجی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور سوچ رہی تھی میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے حجر ہ مبارکہ کی وہ مٹی اس پاک زمین سےجب لپٹی ہوگی۔۔
وہ خاک یقینا اس زمین سے جدا ہوتے ہوئے تڑپتی ہو گی ۔۔۔
میں اس خاک کی جدائی کے لمحے میں نکلنے والی آ ہ کو اپنے گلے میں اٹکتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
میں اس خاک کے درد کی شدت اپنے وجود پر سہہ رہی تھی۔
وہاں سے جدا ہو کر وہ خاک اس پڑیا میں لپٹ کر جب صوفی صاحب کے پاس آ تی ہو گئی تو یقیناً اس کی اس لمحے کی تڑپ کو میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھ اٹھا کر ضرور دیکھا ہوگا ۔۔
میرے رب نے بھی اس خاک کی تڑپ ضرور سنیں ہو گئی۔۔۔
اور پھر میرے رب نے کوئی ایسا اپنا بندہ منتخب کیا ہوگا۔۔
ایک ایسا شخص جس کے دل کی زمین میرے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کے حجرے کی زمین کی مانند با ادب ہوگی۔
اس میں ہجر کے بے شمار آ نسووں کی نمی ہوگی۔
جو فراق کی طلب میں نکلنی والی بھیگی بھیگی کتتی ہی آ ہوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوگی۔
جس کے وجود میں میرے آقا صلاۃ واسلام کے قرب کی خوشبو کی مہک ہوگی۔
ایسا دل لئے جب کوئی اپنی اپنی گیلی گیلی آنکھوں کے ساتھ جالیوں کے پاس کھڑا ہو کر صلاۃ وسلام دھیمی دھیمی آواز میں پڑھ رہا ہوگا تو یقینا میرے رب کی نگاہ انتخاب اس پر ٹھہر جاتی ہوگی۔۔
اور پھر اس کی خبر صوفی صاحب کے دل میں القاء کی جاتی ہوگی ۔۔
کہ نذیراحمد جاؤ وہ دیکھو اس “خاک کا امین” یہاں پہنچ گیا ہے ۔۔
یہ خاک اس کی امانت ہےاس تک پہنچا دو۔۔۔
میری متجسس نگاہیں ماضی میں سالوں کا سفر طے کر کے ریاض الجنتہ کے کونے میں کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں۔۔
اور سوچ رہی تھیں اللہ جی،” اس خاک کی پڑیا کا امین کیا کبھی کوئی میرے دیس کا باسی بھی بنا ہوگا”.؟؟
اللہ ،اللہ وہ کون سے لوگ ہوں گے ؟؟
وہ کیسے ہوں گے؟؟
اللہ، اللہ جی ،کیا میں بھی ان چہروں کی زیارت کر سکتی ہوں، کبھی۔۔۔۔۔۔
وہ جب اس خاک کو وصول۔ کرتے ہوں گے تو کیسا محسوس ہوتا ہوگا ان کے دل میں۔۔
وہ اسے یقینا چومتے ہوں گے۔۔
آنکھوں سے لگاتے ہوں گے۔۔
پھر کہیں اپنی تجوریوں میں چھپا کر رکھ لیتے ہوں ۔۔
جب کبھی اپنی موت کا خیال ان کے ذہن میں آتا ہوگا تو وہ تنہائی میں سوچتے ہوں گے۔۔
خود غرضی سے کہ یہ میں اپنے کفن یہ چھپا کر اپنے لحد میں لے جاؤں۔۔
اور کبھی اپنی اولاد کی محبت ان کے کے جذبات پر حاوی ہو جاتی ہو گی اور وہ اپنی اولاد کے چہروں کو بغور دیکھنے لگتے ہوں گے کہ ان میں سے اس خاک کا امین کون ہو گا۔۔
اے اللہ ان میں سے کوئی ایک چہرہ کیا میں حقیقی زندگی میں کبھی دیکھ پاؤ گی ؟؟
اللہ ،اللہ کیا تو میری دعا سن رہا ہے؟؟
کیا میری یہ حقیر آنکھیں کسی ایسے امین کا دیدار حقیقت میں کر پائیں گی ؟؟
اللہ ،اللہ جی آپ یقینا میری بات سن رہے ہیں۔۔
میرا ناتواں وجود جب اس خواہش اور اس دعا کے بوجھ سے لرزنے لگا ۔۔
سہارا پانے کے لیے بے اختیار میری نگاہ بے سہاروں کے والی کی طرف اٹھی۔۔
اور پکارا۔۔
یا رسول اللہ اپنی امت کے گناہوں کو اپنی کملی میں چھپانے والے۔
میرے روؤ ف الرحیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔
میں اس خواہش کے قابل تو نہیں ہوں لیکن دل کی بے قراری کا کیا کروں آ قا ۔۔
یا رسول اللہ ۔۔
میری آنکھوں کی نمی دھیرے دھیرے میرے آقا کے قدموں سے لپٹ گئی۔…

(جاری ہے)…
۔آپ کو ہماری یہ کاوش کیسی لگی؟ اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کریں . آپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ شکریہ…

(گوشہءنور )

(12 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply