(2 – صوفی نذیر ملاقات ۔(پارٹ

گوشہءنور کی کرنیں
صوفی نذیر


(2 – صوفی نذیر ملاقات ۔(پارٹ

مدینہ منورہ حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحن میں بیٹھے ہوئے میں نے اپنے پرس سے فون نکالا۔
میری نگاہوں کی امید نے گنبد خضرا کا ایک عقیدت مندانہ بوسہ لیا ۔
پھر میری نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئی۔
ان میں امید کے کی چھوٹے چھوٹے جگنو ہاتھ باندھے اپنے رب العالمین سےنہایت عاجزی سے مخاطب ہوئےاور بولے۔
” یا رب العالمین “تیرے محبوب کے در پر بیٹھی ہوں اور تیرے محبوب کے خاص غلاموں کی زیارت کرنا چاہتی ہوں۔
بہت سارا وقت گزر گیا صوفی صاحب کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اگر اب کوئی وسیلہ بن رہا ہے تو اس مرتبہ میری امید کو پورا کرنا۔
دعا مانگنے کے بعد میں نے بڑی امید کے ساتھ دھڑکتے ہوئے دل سےبابا جی یاسین کا فون نمبر ڈائل کیا ۔
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ دوسری طرف سے بابا جی کی شفیق آواز سنائی دی میں نے اپنا تعارف کروانے کے بعد اپنا مدعا بیان کیا ۔
ٹھیک ہے بیٹی میں کوشش کر لیتا ہوں اگر میرا رابطہ ان سے ہو گیا اور انہوں نے اجازت دے دی تو میں آپ لوگوں کو جمعہ کے بعد ان کے گھر لے جاؤں گا بابا جی یاسین نے اپنی بات مکمل کر کے فون بند کر دیا۔۔
اور میں چپ چاپ حرم شریف کی فضاؤں میں درود پاک کی سرگوشیوں کے ساتھ اپنی آواز کو ہم آ ہنگ کرنےکی کوشش میں محوہوگی ۔
حرم کے قریب سبع مساجد کے سامنے والی آ بادی میں ایک بلڈنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے باباجی یاسین نےرکنے کا اشارہ کیا۔
چند لمحوں کے بعدہم بلڈنگ کے فرسٹ فلور میں واقع صوفی نذیر احمد کے گھر میں داخل ہوئے۔
دروازہ کھولنے والا ایک چھوٹا سا بچہ تھا جس نے عربی لباس زیب تن کی ہوا تھا۔وہ اپنے حلیے اور بول چال سے بالکل سعودی لگ رہا تھا تھا بہت لمبا عرصہ یہ سعودی عرب میں قیام کرنے کی وجہ سے گھر کا ماحول بالکل مقامی تھا ۔
۔ اس نے مسکراتے ہوئے ہمیں مرحبا کہا اور بائیں جانب کمرے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا ۔
دروازے کے آگے ایک پردہ لٹک رہا تھا ۔
دھڑکتے دل کے ساتھ بابا جی یاسین کی معیت میں ہم کمرےمیں داخل ہوہے ۔یہ ایک کشادہ کمرہ تھا۔
ایرکنڈ کنڈیشنر متوسط سپیڈ پر چل رہا تھا جس کی وجہ سے کمرے میں ہلکی ہلکی خنکی تھی۔
سامنے والی دیوار کے ساتھ صوفے لگے ہوئے تھے اور اور دروازے کے باہیں جانب ایک میڈیکل بیڈ لگا ہوا تھا جس پر سفید برا ق سعودی تو پ میں ملبوس سر پر سرخ رومال سلیقے سے اوڑھے ایک فربہ جسم والے نورانی بابا جی اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں نہایت شفقت اور محبت سمیٹے ہمارے منتظر تھے ۔
انہوں نے نہایت تپاک سے بابا جی یاسین کا استقبال کیا اور اس کے پیچھے ہمیں خوش آمدید کہا۔
پورے کمرے میں ایک ایسا نور پھیلا ہوا تھا کہ ایک لمحے کو محسوس ہوا جیسے ہم اس دنیا کی حدود سے کہیں باہر دور نکل گئے ہیں جہاں کشش ثقل دم توڑ چکی ہے۔ اور ہمارے وجود ہوا سے بھی ہلکے ہو گئے ہیں ۔
ان کے نورانی وجود سے نکلنے والی نور کی شعاعیں ہمارے سینے کے تمام لطائف کو چھک چھک کرتی تیر رفتار ٹرین کی سی قوت دے رہی تھیں ۔
۔ دل لمحہ بھر کو اپنی ترتیب وار دھرکن بھول کر اس نور کے ذائقے کو اپنے اندر جذب کرنے میں مشغول ہو گیا۔۔
آؤ ادھر آو بیٹا مرحبا مرحبا ان کا سر پر پیاردینے کے لئے ہاتھ اٹھا ہوا دیکھ کر میں نے ایک ربورٹ کی طرح اپنا سر جھکا دیا ۔
پھر قریب پڑے صوفے پر ہم بیٹھ گئے۔ رسمی تعارف ہوا۔
بابا جی یاسین نے انہیں بتایا کہ ہم انہیں کتنے سالوں سے ملنے کی تمنا لیے انہیں مدینہ منورہ میں تلاش کر رہے رہے تھے ۔آج ان کی خدمت میں موجود ہیں ۔
یہ سن کر وہ مسکرائے اور فرمانے لگے اب تو آپ نے مجھے ڈھونڈ لیا ہے آج کے بعد آپ میری بیٹی ہوں اور میری دعوت ہے کہ جب بھی آپ مدینہ منورہ آئیں گی میرے پاس ضرور تشریف لائیں گی۔
اتنی دیر میں چائے کی ٹرے آ گئی۔ جس میں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ مدینہ منورہ کی کھجوریں بھی ہمارے سامنے پیش کی گئی۔
میں نے سوال کیا کیا صوفی صاحب آپ کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے مدینہ منورہ میں فرمانے لگے ۔ سال تو یاد نہیں لیکن میں اس وقت وقت 17 ۔18 سال کا نوجوان تھا جب میں مدینہ منورہ آیا اور اب اب میں شاید زندگی کی اسی سے زیادہ بہاریں دیکھ چکا ہوں۔
آپ حج کرنے یہاں آئے تھے؟؟
میں نے پوچھا۔ جی میں بحری جہاز کے ذریعے حج کرنے یا آیا تھا ۔
پھر آپ واپس نہیں گئے ؟
میں بہت کچھ جاننا چاہتی تھی ۔ وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئے جیسے ماضی کی رکھی ہوئی فائلوں میں سے متعلقہ فائل ڈونڈ ھ رہے ہوں۔
پھر بولے جب میں مدینہ منورہ پہنچا گنبد خضرہ پر میری پہلی نظر پڑی میں بالکل مبہوت ہو کر رہ گیا۔
یہ گنبد یہ فضائیں یہ ہوائیں گویا مجھے اپنے سحر میں جکڑ گئی۔ میں اپنی پلکیں جھپکانا بھول گیا۔
میں لمحہ بھر کے لئے لیے یہاں سے دور ہو نا نہیں چاہتا تھا ۔
مجھے لگا اگر میں اس جگہ سے ادھر ادھر ہوا تو میرا دم نکل جائے گا۔
بے اختیار میرے ہاتھ اٹھے اور میں نے دونوں ہاتھ باندھ کر عرض کی اے میرے آقا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
” نذیر احمد عباسی ساری زندگی آپ کے در پر جھاڑو دے گا اسے یہی رکھ لیجئے ۔ اسے قبول کرلیں یہ اب واپس جانا نہیں چاہتا “۔۔
وہ لمحہ قبولیت کا تھا میں قبول کر لیا گیا ۔ پھر کیا ہوا؟
میں نے ان کے خاموش ہونے پر اشتیاق سے دریافت کیا ۔
اسی دوران میرے ساتھ ایک عجیب معاملہ ہوا۔میں ابھی مدینہ منور ہ میں ہی تھا۔ میرے پورے بدن پر آبلے پڑ گئے۔ میرا پورا وجود گلنے لگا۔ میرے جسم کے آبلوں سے رفتہ رفتہ پانی رسنے لگا۔
تکلیف شدت کی تھی ۔ لیکن میری آنکھیں گنبد کی ٹھنڈک کو اپنے اندر سموئے اس تکلیف کے احساس سے مجھے بے نیاز کر رہی تھی۔
میرے قافلے والوں نے جب میری یہ حالت دیکھی تو وہ مجھے کہنے لگے اب تم سفر کے قابل نہیں ہو اور حج کی ادائیگی میں دن بھی کم رہ گئے ہیں ہم لوگ مکہ مکرمہ جا رہے ہیں تم یقینا ہمارے ساتھ سفر نہیں کر سکو گے اس لئے خدا حافظ۔۔۔۔
وہ یہ کہہ کر چل دیے اور میں اس زخمی پرندے کی طرح جو تیر لگنے کے بعد وہ زمین پر گر جائے اور شکاری اس کے پر بھی کاٹ دے بے حس و حرکت صحن حرم میں پڑا ہوا تھا ۔۔۔
میرا دل خاموش تھا اور میرا ذہن بھی چپ ۔۔۔۔ میرے اوپر ایک عجیب کیفیت تھی جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے) گوشہءنور۔
تحریر پسند آئے تو اسے شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائیں تو آپ اس سے آگاہ ہوسکیں۔۔شکریہ ۔۔

گوشہ ءنور

(2 - صوفی نذیر ملاقات ۔(پارٹ

Related Posts

Leave a Reply