(4 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

گوشہ ءنور کی کرنیں۔
(4 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

صوفی صاحب کی کھجوریں۔۔
فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد میں مدینہ منورہ میں تھا۔۔
میں نےجھاڑو اٹھا لیا اور کہا اے اللہ میں تمام زندگی تیرے اس محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در پر جھاڑو لگاؤں گا اس دھرتی اس مدینے پاک کو میرا مسکن بنا دیں ۔۔۔۔۔
میری دعا قبول ہو گئی اور میں نے تمام زندگی روضہ مبارک۔ ہجرہ مبارک۔ ریاض الجنۃ کی صفائی اب میری ذمہ داری تھی۔
جن کے پاس روضہ مبارک کے حجرہ مبارک کی چابی ہوتی ہے وہ میرے کفیل تھے ۔۔۔
انہوں نےچابی مجھے تھما دی اور یوں میں اس در کا ہو کر رہ گیا ۔۔۔
تمام زندگی یہی بسر کی وہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوئے۔۔۔
عصر کی نماز کا وقت ہوا چاہتا تھا ہم نے اجازت چاہی تو فرمانے لگے میری بیٹی خالی ہاتھ بابا کے گھر سے نہیں جائے گی اتنا کہہ کر انہوں نے کھجوروں کے دو ڈبے مجھے تھما دیئے اور فرمانے لگے بیٹا یہ کوئی عام کھجور نہیں ہے ۔۔۔
مدینہ منورہ میں آج تک کچھ درخت ایسے ہیں جنہیں میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام میں اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا ۔ اور ان پر آج بھی پھل لگتا ہے۔۔۔
پھل پک کر تیار ہوجاتا ہے تو درختوں کے اوپر لگا لگا بے حد مہنگے داموں میں فروخت کردیا جاتا ہے ۔۔
خریدار اس کی منہ مانگی قیمت دے کر اسے خرید لیتے ہیں۔۔ پھر یہ کھجور بازار میں فروخت نہیں ہوتی بلکہ میرے کملی والے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے خاص عشاق کرام خریدار ہے انہیں میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے مہمانوں کو تحفے میں پہنچا دیتے ہیں۔۔
وہ کھجور حرم میں نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں روزہ افطار کرنے والوں کی افطاری میں بھی پیش کیا جاتی ہے۔۔
یاد رکھنا بیٹا یہ کوئی عام کھجور نہیں اس کا پھل ان درختوں پر لگا ہے جنہیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے انہوں نے وہ ڈبے ہمیں تھما دیے۔۔۔۔۔
گھر آ کر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔
میں کبھی ان کھجوروں کے ڈبوں کو عقیدت سے دیکھتی اور کبھی اپنے گھر کو۔
کیا یہ ممکن تھا ؟جو ہو گیا چودہ سو سال پہلے جن درختوں کو میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے بابرکت نورانی ہاتھوں نے چھوا۔ ان کے لمس کے لیے وہ درخت آج بھی تڑپ رہے ہوں گے ۔
شاید قرب کےان لمحات کو آج تک اپنے وجود میں سمیٹے ساکت و جامد مدینہ کی فضاؤں میں ہلکی ہلکی سانسیں بکھیر رہے ہوں گے۔۔۔
یہ میری زندگی کا عجیب واقعہ تھا ۔۔۔
میں بہت خوش تھی اور اسی خوشی میں نے ان کو بھی فون کیا جنہوں نے مجھے صوفی صاحب سے ملنے کی بابت ہدایت کی تھی۔۔۔
اپنی ملاقات کی تمام روداد سنا کر جب میں نے انہیں آن کھجو روں کے تحفے کے بارے میں بتایا تو وہ بہت جذباتی ہو گئی ۔۔مجھے کہنے لگیں ان میں صرف تمہارا حق نہیں ہے ان کھجوروں میں ہمارا بھی حصہ ہے جو تمہیں ہر حال میں ہم تک پہنچانا ہے ۔۔
میں نے ان سے وعدہ کرلیا کہ ایک ڈبہ میں رکھو گی اور ایک ڈبا کسی آنے جانے والے حاجی کے ہاتھ پاکستان بھیج دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی جان پلیز آپ یہ کھجوریں پاکستان لے جائیں میں مسلسل انہیں رضامند کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔لیکن ہمارے پاس بہت سامان ہے اور میں نے بہت ساری کھجوریں بھی مدینہ منورہ سے خرید لی ہیں ۔ تمہیں جس کو پہنچانیں ہے مجھے بتاؤ میں اسے اپنی کھجوروں میں سے دے دوں گا۔
یہ اتنا بڑا ڈباپیک کرنے کی وزن کی گنجائش نہیں ہے وہ مسلسل انکار کر رہے تھے ۔۔
میرے بڑے بھائی پاکستان سے عمرہ کرنے آئے اور میرے گھر میں میں تشریف فرما تھے ۔اج ان کی پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی ہم نے انہیں ائرپورٹ چھوڑنے جانا تھا ۔۔
اور میں یہ کھجوریں ان کے ہاتھ پاکستان بھیجنا چاہتی تھی۔۔
لیکن وہ ان کو ساتھ لے جانے میں تیار نہیں تھے۔۔ ہمارا وزن بالکل پورا ہوچکا ہے اب مزید اس میں اضافے کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔۔۔
تم چاہو تو خود چیک کر لو وہ حتمی انداز میں بولے۔ چلیں ٹھیک ہے آپ اپنا کچھ سامان مجھے دیے جائیں میں چھٹیوں میں جب پاکستان آؤ ں گی تو لیتی آؤنگی ایسا سامان جس کی آپ کو فوری ضرورت نہیں ہے ۔۔
میں مسئلے کو حل کرنا چاہتی تھی میری یہ تجویز بھابھی کو پسند آئی اور انہوں نے جھٹ سے اپنا بیگ کھولا اس میں سے احرام اور کچھ وزنی چیزیں نکال کر میرے حوالے کر دیں ۔۔
میں نے کہا بھائی جان یہ کوئی عام کھجوریں نہیں ہے یہ بہت خاص کھجوریں ہیں۔۔
آپ انہیں بہت حفاظت سے لے کر جائیں اور پاکستان پہنچ کر اس میں سے اپنا حصہ نکال کر باقی ڈبہ آپ نے نے میری باجی جان کو پہنچا دینا ہے۔۔
یہ ایک امانت ہے۔۔۔ بہت ہی خاص امانت۔۔۔۔ میں انہیں سمجھانا چاہتی تھی ۔۔
لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھے جو دنیاوی علوم کے بہت سارے معرکے تو بہت احسن طریقے سے سر کر لیتے ہیں لیکن عشق و محبت کے معاملات ان کی سمجھ سے بالاتر رہتے ہیں ۔
بہرحال میرا کام کام ہو چکا تھا۔ میں نے وہ امانت ان کے سپرد کر کے بے فکر ہو گی۔۔۔۔
چند دن بعد میری بھابھی کا مجھے فون آیا وہ بہت حیران تھی کہنے لگیں۔۔
ہم عمرہ سے واپس آئے تو ہمارے ایک بہت دور دراز کے رشتہ دار کا مجھے فون آیا ایسے رشتہ دار جن سے ہمارا میل ملاپ بہت کم کم تھا ۔
سلام دعا کے بعد وہ کہنے لگے میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں ۔۔
آپ کے گھر مدینہ منورہ سے کوئی خاص تحفہ آیا ہے ۔ مجھے اس میں سے اپنا حصہ چاہیے۔۔
آپ مجھے بتائیں میں آپ کے گھر کب آ وں؟؟
۔ میری بھابھی مجھے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔ میں حیران تھی کہ وہ کون سی خاص تحفے کی بات کر رہے ہیں۔۔
خیر میں نے سوچا ہم عمرہ کرکے آئے ہیں اور یہ ہم سے ملنا چاہتے ہیں تو آ جائیں میں نے انہیں اپنے گھر آنے کی کی اجازت دے دی اور اگلے دن اپنی بیوی کے ہمراہ ہمارے گھر موجود تھے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس تحفے کی بات کر رہے ہیں؟؟
اور آپ کو کس نے اس تحفے کے بارے میں بتایا ہے؟؟
وہ کیا ہےجو آپ کو یہاں کھینچ لایا۔؟؟
کہنے لگے گے کہ مجھے خواب آیا ہے اور میں آپ کے گھر کوئی بہت خاص قسم کی کھجوریں مدینہ منورہ سے آئی ہے میں تو وہ کھانے آیا ہوں۔۔
ان کی بات سن کر میری بھابھی بہت حیران ہوئی کہنے لگی ۔مجھے یاد آیا کہ جب تم نے وہ کھجوریں ہمیں پکڑائی تھی تو کہا تھا کہ یہ بہت خاص کھجوریں ہیں۔
یقینا اس میں کوئی راز ہے ہے اب مجھے بتاؤ کیا چیز ہے وہ سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔۔۔۔(جاری ہے) گوشہءنور
آ پ کو ہماری یہ کاوش کیسی لگی اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے۔
تحریر آپ کو پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکے شکریہ۔۔

گوشہء نور

(4 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply