گوشہ ءنور کی کرنیں۔۔۔
صوفی نذیر احمد۔۔۔پارٹ۔۔5
خاکروب کے گھر بادشاہ
گرمیوں کا موسم تھا ۔سورج اپنی پوری توانائیاں فضاؤں کو جھلسانے میں لگا رہا تھا۔۔ لیکن میرے آقا علیہ الصلاۃ و السلام کا مدینہ المنورہ چاند نی رات کی سی ٹھنڈک ایک اپنے وجود میں سمیٹے زائرین کو پوری طرح آرام پہنچانے تگ و دو میں مصروف تھا ۔۔۔
عرب کی گرمی تپتے صحرا سنگلاخ پہاڑ اور اونچے اونچے کھجوروں کے جھنڈ میں آباد یہ مدینہ تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت کے لیے ہر موسم میں ان کے دل و جان کی راحت ہے۔۔۔
اس شہر میں نہ گرمی بدن کو جھلساتی ہے نہ سرد ہوائیں وجود کو کاٹتی ہیں ۔۔ کیوں کہ وہاں میرے آقا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانسوں کی خوشبو ان کے وجود کی ٹھنڈک آج بھی ہوامیں موجود ہے ۔۔۔
حرم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہم صوفی صاحب کے گھر ان کی خدمت میں موجود تھے۔
وہ ہمیں پرانے وقتوں کی یادوں کو خوبصورت الفاظ کے پیرہن پہنا کر فضاؤں میں بکھیر رہے تھے۔
بابا جی یاسین نے ہمیں بتایا کہ سرزمین حجاز آ نے سے قبل کس طرح صوفی نذیر احمد جب کراچی میں تھے تو دس کلو سونے کے معاملے میں آ زماءے گئے۔۔
وہ کس طرح میں نے دلچسپی سے پوچھا؟
صوفی صاحب نے جب پہلی مرتبہ سرزمین حجاز کے لیے رخت سفر باندھا تو سمندری راستے کا ارادہ کیا۔
بحری جہاز کے انتظار کے لئے کراچی میں قیام پذیر تھے۔
اس دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو یقینا ان کے ایمان کا ایک کڑا امتحان تھا ۔۔19-20 سال کا یہ نوجوان کراچی کی بندرگاہ کے قریب ایک مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔
نماز پڑھنے کے بعد جب یہ مسجد سے باہر آئے تو انہیں ہیں ایک تھیلا ملا ۔جب اسے کھولا ان کی آنکھیں آنکھیں سونے کی چکاچوند سےخیرہ ہو گئیں ۔۔
یہ حیرت اور پریشانی میں ڈوب گئے۔
کیوں کے اس میں سونے کی 10 اینٹیں تھی۔
پوری دس اینٹیں۔
ایک ایک کلو کی ایک۔۔
اپنی پوری آب و تاب اور چکا چوند کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔
یہ دس کلو سونا ہاتھ میں پکڑے حیران اور پریشان کھڑے تھے۔
اوپر خاموش آسمان تھا۔
اور نیچے سنسناتی خاموش زمین ۔
اردگرد کی فضا بھی انہیں اشتیاق سے تک رہی تھی۔
کڑے امتحان کی اس گھڑی میں یہ نوجوان کیا کرے گا ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بیش قیمت سونے اور اس نوجوان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔
اگر یہ چاہتا تو چپ چاپ وہ سونا اٹھاتا اور اپنے گھر روانہ ہو جاتا ۔۔۔۔
10 کیلو سونے کی قیمت وصول کرتا جو بلاشبہ اس کی زندگی کو مال و دولت سے آراستہ کر دیتی۔۔۔۔
اس کی تمام خواہشات ایک تابعدار باندی کی طرح اس کے قدموں میں آ جاتی۔
بہت ساری خوشیوں کے پھول اس کے اردگرد اپنی خوشبو بکھیر دیتے۔
یہ غلط بھی نہیں تھا وہ اسے قدرت کا انعام سمجھ کر قبول کر سکتا تھا ۔۔۔
لیکن اس نوجوان کی آنکھوں میں تو خواب ہی کچھ اور تھے ۔
ایک طرف دنیا نوجوان حسینہ کی طرح اس کے سامنےہاتھ باندھے کھڑے تھی۔۔۔۔
اور مسکراتی آنکھوں سے اسے اپنے پیچھے آنے کا عندیہ دےرہی تھی ۔۔۔۔
جب کہ دوسری جانب بحری بیڑہ سرزمین نے حجاز کی جانب رخت سفر باندھنے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
صدا لگا رہا تھا۔۔۔۔۔
بیڑا مدینے والا ۔
مارے ہو لاریاں ۔
جس جس نے مدینے جانا۔
کر لو تیاریاں۔۔
یہ چند لمحے تھے۔۔۔
فیصلہ مشکل تھا ۔۔۔ ابھی کرنا تھا۔
لیکن۔۔۔۔
اس نوجوان کا سینہ تو اس محبت سے آراستہ تھا جہاں سونا اور چاندی بے معنی ہو جاتے ہیں۔۔۔
اس کا خیال ۔۔۔۔۔
تو مدینے والے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی نور کی لذت سے آگاہ تھا۔۔۔
سرزمین حجاز کی طرف رواں دواں قافلے کا ممبر بننے کی سوچ۔۔۔
دنیا کی ساری نعمتیں۔۔۔۔
اس دھرتی کا خیال آ تے ہی ہیچ ہو جاتی ہیں۔۔۔
وہ خیال اتنا حسین۔۔۔۔
اتنا پر لذت ۔۔۔
اتنا دلفریب ہے ۔۔۔
تو اس دھرتی والے کی نگاہ میں آجانا کیا معنی رکھتا ہو گا۔۔۔۔
۔صوفی نذیر کو اس لمحے سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر قریب کھڑی ایک درخت پر بیٹھی فاختہ نے یقیناً یہ سوچا ہوگا۔۔۔۔
لیکن فیصلہ تو وہ نوجوان کر چکا تھا ۔۔
اس کی آنکھوں کے خوابوں کی چکاچوند ۔۔۔۔
جس کو یہ سونے کی چکا چوند قطعاً متاثر نہیں کر سکی ۔۔۔۔
یہ تو اس کے آ گے ہیچ تھی۔۔۔۔
بے وقعت۔۔۔
اگر چہ یہ دوسرا رستہ اس کے لیے کٹھن تھا۔۔۔۔
اس امانت کے مالک کو اتنے بڑے شہر کراچی میں ڈھونڈتا ۔۔۔۔
اس کے حوالے کر کے سرخرو ہوتا ۔۔۔
پھر اپنے رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے لیے ” لبیک اللہم لبیک” کی صدا بلند کرتا ہوا چل پڑتا ۔۔۔۔
اس نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا۔۔۔۔
چپ چاپ اس تھیلے کو لپیٹا ۔۔۔۔
بغل میں دبوچا اور اور اپنے مشن پر روانہ ہوا۔۔۔
معاملہ بہت نازک تھا ۔۔۔
اتنے بڑے شہر میں مالک کو ڈھونڈنا آسان نہ تھا ۔۔۔
اس کام میں کتنا وقت لگتا ہے؟؟؟
اسے معلوم نہ تھا ۔۔۔
اتنا بیش قیمت سونا اس اجنبی شہر میں بحفاظت اپنے پاس رکھنا۔۔۔۔۔
کوئی عقل مندی کا فیصلہ نہیں تھا۔۔۔۔
ممکن ہے اس کام میں وقت لگ جاتا ۔۔۔
اور بحری بیڑا اپنے کوچ کا نقارہ بجا دیتا۔۔۔
سارے حالات اس نوجوان کے سامنے تھے۔۔۔
اس نے لمحہ بھر کو نگاہ اٹھائی آسمان کی طرف دیکھا پھر اپنے رب کے قرب کو محسوس کیا ۔۔۔
گویا رب نے عندیہ دے دیا ہو۔۔۔۔
قدم بڑھاؤ میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔
یوں اس کی امید اس کی نیک نیتی ایک مشاق رہبر کی طرح اس کے ساتھ ہولی ۔۔۔۔
اور وہ جلد ہی اس سونے کے مالک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔۔
امانت اس کے سپرد کی اور نگاہ اٹھا کر اس کی شکر گزار آنکھوں کو تکنا بھی گوارا نہ کیا۔مبادا نیکی کا تکبر اپناوار نہ کر دے۔۔۔
اور یہ میرے آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند نہیں ہے۔۔۔
اپنی بات مکمل کرکے وہ خاموش ہو گئے اور گویا ہم بھی برسوں کا سفر طےکر کے کراچی سے واپس لمحہ بھر میں مدینہ منورہ میں ان موجود ہوئے ہوں۔۔۔
ٹرن ۔۔۔ٹرن۔۔۔ ٹرن ۔۔۔
فون کی بیل بجی۔ فضا میں چھائی گہری خاموشی چھن سے ٹوٹ گئی۔۔
صوفی صاحب نے فون اٹھایا۔۔
دوسری جانب سے کوئی بہت بڑی شخصیت تھی جو جو ان سے دعا کی درخواست کر رہی تھے۔۔
پاکستان کی کئی بڑی شخصیات حکومتی عہدے داران سیاسی شخصیات ان گھر دعا کروانے کے لئے تشریف لاتے۔
وقت کے صدر ۔۔۔اور وزیراعظم۔۔۔ بھی صو فی صاحب کی خدمت میں آتے اور دعا کرواتے۔۔
بابا جی یاسین کہنے لگے ۔صوفی نذیرآپ نے ساری زندگی آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے در پر جھاڑو دیا ہے ۔۔۔
مخلوق خدا میں آپ کی عزت و تکریم کا یہ عالم ہے کہ کہ وقت کے حکمران بھی آپ سے دعا کرواتے ہیں۔۔۔
آپ کے گھر تشریف لاتے ہیں ۔۔۔اگر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکروب کی عزت و تکریم کایہ عالم ہے تو سرکار کے ساتھیوں کی عزت وتکریم کا کیا عالم ہوگا۔۔ ۔۔۔۔(جاری ہے)…..گوشہء نور۔۔
آپ کو ہماری یہ کاوش پسند آئے تو اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔۔۔۔
شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں ۔ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائیں تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔۔شکریہ۔۔۔

گوشہءنور۔

(5 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply