گوشہِ ءنور کی کرنیں۔


(6 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ


حجرہ مبارک کا جھاڑو اور جسٹس غازی نذیر احمد…(حصہ اول)
۔ہر سال چھٹی پر وطن عزیز جانے والے سعودی عرب میں مقیم جہاں اپنے پیاروں کو ملنے کے لیے خوش ہوتے ہیں وہاں سر زمین حجاز کی جدائی ان کے دلوں میں میں گہری کسک ک بن کر انہیں اداس کر رہی ہوتی ہے وہ اپنا سامان باندھتے۔۔
گھر سمیٹتے۔۔
بار بار اپنی گیلی آنکھوں کو صاف کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
وہاں مقیم لوگوں کے لیے سب سے اہم کام الوداعی عمرہ کی ادائیگی اور مدینہ منورہ الوداعی سلام ہوتا ہے۔۔
کالے سیاہ غلاف میں لپٹا نور کی روشن کرنو ں سے منور زایرین کو اپنی محبت میں دیوانہ کرتا بیت اللہ شریف ۔۔۔۔۔۔
اس سے جدائی کچھ عرصے کے لئے بڑی بھاری ہوتی ہے۔۔
۔ زائر ین کے دلوں کو پکڑے رکھتی ہے ۔۔۔۔
الوداع میں اٹھنے والی نگاہیں بار بار اپنے رب سے کی خاموشں سرگوشیاں کر تی ہیں۔
کبھی من میں چھپی خواہشات۔
۔ تمنائیں التجا بن کر کعبے کی دیوار سے لپٹ جاتی ہیں۔
اور زایر اللہ کا اتنا پیارپا کر اس لاڈلے بچے کی طرح جو ماں سے دور سفر پر روانہ ہو رہا ہو تو وہ ماں کے ڈوپٹے سے لپٹ کر رو ان گی سے پہلے اپنی ساری فرمائشیں منوایا نے کے در پر ہوتا ہے اسے یقین ہوتا ہے اس جاتے سمے اسے بہت سے ایسے لاڈ بھی اٹھا لے گی جو عام حالات میں وہ کرنے سے جھجھکتا ہے۔
۔یہ محبت اور فرمائشوں کی آ نکھ مچولی طواف وداع کے دوران دعاؤں کا خوبصورت لباس زیب تن کے ساتھ ساتھ رہتی ہے ۔
ساری دعائیں اور واپسی تک کے لیے سارے عہدوپیماکر کے مطمئن ہو کر اب مدینہ منورہ الوداعی سلام کا مرحلہ آ تا ہے ۔
مدینے کا سفر۔۔
وہ ہمیشہ بڑی سج دھج اور اپنے پرجوش جذبات کو دباتے ہوئے کرتا ہے ۔اقاعلیہ صلوت والسلام کی خدمت میں باادب سلام پیش کرنے کے بعد اس کی جھولی۔ آ شیر باد سمیٹنے کے لیے تاحد نگاہ پھیل جاتی ہے ۔
اسے یوں محسوس ہوتا ہے اس کے من کا خالی کشکول آ قاعلیہ الصلاۃ والسلام کی کریم نگاہ کے سوا اور کوئی نہیں بھر سکتا۔۔۔
وہ ان قرب کے سارے لمحوں کو بڑے سلیقے سے اپنی یاد داشتوں میں محفوظ کر تا جاتا ہے جیسے کوہ پیماپہاڑ پر چڑھائی سے پہلے آ کسیجن کے سیلنڈر بڑی احتیاط سے اپنے وجود کے ساتھ باندھ لیتا ہے۔۔
اب باری اس در سے اجازت لینے کی ہوتی ہے۔بہت سارے دنوں کی دوری کا احساس اسکے حلق میں نوکیلے کانٹوں کی طرح چبھنے لگتا ہے۔
ایسے ہی کانٹوں کی چبھن کو دباتے ہم صوفی صاحب کی خدمت میں حاضر تھے۔۔
کتنے دنوں کی چھٹی جا رہے ہو ؟انہوں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے شفقت سے پوچھا۔۔
دو مہینے کے لیے میں نے سعادتِ مندی سے جواب دیا۔
دو مہینے مدینہ کی دوری کے احساس سے میری آ واز رندھ سی گئی۔
اچھا بیٹا خیریت سے جائیں۔اور خوشی خوشی واپس آ یں۔
جاؤ میرے صندوق سے جھاڑو لے کر آ و ۔انہوں نے اپنی بیوی سے کہا۔۔
پرانے وقتوں میں روضہ مبارک کے حجرہ مبارک کے اندرونی صفائی ہم جس جھاڑو سے کیا کرتے تھے جب وہ گھس کر چھوٹا رہ جاتا تو اسے ہم پڑے احترام سے سنبھال کر رکھ لیا کرتے۔پھر جب کوئی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاص مہمان آ تا اسے تحفے میں دے دیا کرتے اس عقیدت کے ساتھ کہ اسے میرے آقا سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک کی زمین نے چھوا ہے۔۔
۔اب تو صفائی کے لیے مشینیں آ گئی ہیں بیٹا۔انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔۔۔
اتنے میں ایک صاف ستھرے دھاتی کاغذ میں لپٹی مٹھی بھر جھاڑو کی کچھ تتکے ان کی بیگم نے لا کر مجھے تھما دیے ۔میرے اداس آ نسو خوشی کی چھم چھم کرتی جھانجھریں پہن کر فوراً دھمال ڈالنے لگے۔۔۔۔اف ف ف ف ف ف۔
یہ کیا ؟کیامیں سچی سے اس چیز کو چھو رہی ہوں ؟؟
اس کا لمس اپنے حقیر وجود میں جذب کر رہی ہوں ۔
میری آ نکھیں اس جھاڑو سے اٹھنے والی نور کی ننھی ننھی جگمگا تی کرنوں سے مکمل طور پر خیرہ ہو چکی تھیں۔اس کے اندر سے اٹھنے والی سوندھی سوندھی خوشبو مجھے مسحور کر رہی تھی۔
میں اس کے سوا اب کچھ اوردیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔
میرا وجود اس کے لمس کی لذت کو اپنے پور پور میں جذب کر لینا چاہتا تھا۔
میری روح وقت کے منتیں ترلے کرنے لگی اپنی رفتار لمحہ بھر کو روک دو۔۔۔۔
بیٹی یہ آ پ کے لیے ہے پاکستان لے جاؤ لیکن اس میں کسی اور کا بھی حصہ ہے یہ یاد رکھنا ۔اور ان تک پہچانااب تمھاری ذمہ داری ہے۔۔انہوں نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
ان کی آ واز مجھے لمحہ موجود میں لے آ ی۔۔
لیکن کس کا؟
میں نے پوچھا تمھیں پتہ چل جائے گا۔انہوں نے کہا۔۔
مین نے اس متاع عزیز کو چوم کر سینے سے لگایا اور تابعداری سے کہا جی ان شاءاللہ میں بحفاظت یہ امانت پہنچا دوں گی۔
میرے موبائل کی سکرین پر گورے چٹے چہرے پر چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی سجاے چمکدار آ نکھوں والے ایک بزرگ اپنی خوبصورت آواز میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ نعت پڑھ رہے تھے۔اواز آ قا علیہ وآلہ وسلم کے عشق ومحبت میں شرابور تھی ۔میں بڑے انہماک سے نعت سنننے میں مگن ہوگی۔لیکن نعت کے آ خری شعر نے مجھے چونکا دیا۔
اسکا مفہوم کچھ یوں تھا ۔
۔کاش میں اس در کا جاروب کش( جھاڑوپھیر نے والا)ہوتا۔
میں مدینہ کی یاد میں تڑپ رہا ہوں۔
اور وہاں جا نہیں پا رہااے کاش کوئی مدینے سے آ ے اور آ کر مجھے کہے کہ دیکھو تمھارے لیے وہاں سے کسی نے یہ خاص تحفہ بھیجا ہے۔۔۔۔
یہ خاص تحفہ بھیجا ہے۔۔
۔ان الفاظ کی بازگشت نے مجھے صوفی صاحب کے الفاظ یادکروا دیے۔
کیا یہ وہی ہیں؟؟
کیا ان کے بارے میں صوفی صاحب نے نشاندہی کی تھی؟؟
کیا جھاڑو میں ان کا بھی حصہ ہے؟؟؟
جس کا حصہ اس جھاڑو میں ہے تمھیں ان کے بارے میں خود پتہ چل جائے گا۔
صوفی صاحب کے الفاظ میرے کا نوں میں گونجے۔میرے دل نے گواہی دی کہ یہی وہ ہستی ہیں جن تک مجھے جھاڑو پہنچانا ہے۔
میرے دل ودماغ اس معاملے میں الجھنے لگے۔
دماغ کہتا تھاکہ تمھارے پاس کیا دلیل ہے؟دل نہایت سکون اور اطمینان سے اس بات پر اڑا ہوا تھا کہ میں نے پہچان لیا ہے۔امانت اسی کی ہےاور اس کو ہی پہنچا نی ہے۔۔
یقین کا ساتھ ہمیشہ ایمان کی قوت دیتی ہے اور یوں یقین دلیل پر غالب آجاتا ہے۔
میرا یقین بھی جیت گیا ۔۔
میں مطمئن ہو گئ کہ اللہ کریم نے میری راہنمائی فرما دی ۔یہ کون ہے؟
جس نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زمین پر جا جاروب کش بننے کی خواہش کی۔۔
خواہش مقبول ہو گئی۔۔
ان کے حجرے کا جھاڑو مدینہ منورہ سے سفر کرکے پاکستان آپ پہنچا ۔
وہ سوچیں کتنی پاک ہوںگی ۔
کتنی بلند اور کتنی پاکیزہ ۔
جنہوں نےآقا کی زمین پر جھاڑو لگانے کا سوچا ۔۔
جھاڑو کے بارے میں سوچا تو قدرت نے وہ جھاڑو ان تک پہنچانے کی ٹھان لی۔۔
واہ میرے مالک تیرے کیا راز ہیں؟؟
اب مرحلہ ان سے کنٹیکٹ کرنے کا تھا ایک شخص جس کا نام بھی مجھے معلوم نہیں ۔
اتا پتا پتا بھی نہیں جانتی اس تک رسائی۔
میرے لیے لئے ایک سوالیہ نشان تھا؟
(جاری ہے)
ہماری یہ کاوش آ پ کو کیسی لگی ؟اپنی راے سے ضرور آگاہ کیجئے۔
پسندآئے تو شیر کریں ۔کاپی پیسٹ کر نے سے گریز کریں ۔اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آ پ اس سے آ گاہ ہوسکیں؟ شکریہ۔۔


گوشہء نور

(6 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply