گوشہء نور کی کرنیں۔
صوفی نذیر احمد۔(پارٹ نمبر 7 )
حجرہ مبارک کا جھاڑو اور جسٹس غازی نذیر احمد۔۔(حصہ دوم)
جس پیج سے نعت اپ لوڈ کی گئی تھی میں نے انہیں ان باکس کیا ۔
مجھے ان صاحب کا جنہوں نے نعت پڑھی ہے کا کانٹیکٹ نمبر چاہیے۔۔۔
دوسری جانب سے فوراً ہی جواب آگیا کہ آپ ان کے کوآرڈینیٹر سے کانٹیکٹ کر سکتی ہیں۔۔ نیچے ایک سیل نمبر درج تھا ۔۔۔
میں نے دوبارہ میسج کیا کہ مجھے ڈائریکٹریٹ ان صاحب سے ہی بات کرنی ہے میرے پاس ان کے لیے ایک خاص پیغام ہے۔۔۔
دوسری جانب سے کہا گیا کہ کہ آپ وہ پیغام ہمیں سینڈ کر دیں ہم پہنچا دیں گے ۔
میں نے مایوسی سے میسیج سینڈ کیا میں ان کے علاوہ کسی اور سے بات نہیں کروں گی ۔۔۔
اگر ممکن ہوسکے تو ان سے ہی بات کروا دیں۔۔مسیج بھیج کر میں کچھ مایوس سی ہو گئی۔ فون کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کر کچن کی جانب چل پڑی ۔۔
جہاں روز مرہ کے کام میرےمنتظر تھے۔اور میں ان میں مشغول ہو گئی۔۔۔
لیکن میرے دماغ میں مسلسل نعت کے اشعار اور صوفی صاحب کی الفاظ گڈمڈ ہو رہے تھے۔۔
میرے دل نے اللہ کریم سے سرگوشی کی۔
یا اللہ ۔
یا کریم ۔
یا سمیع علیم۔
میری مدد فرما۔۔۔۔۔
جس کی امانت ہے باحفاظت اس تک پہنچا سکوں ۔
دعا کرنے کے بعد گویا میرا ذہن سکون کی آغوش میں چلا گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد میں واپس آئی تو میسج کی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔
میں نے فون اٹھایا ۔۔
۔میسیج تھا ۔
Yes i am ghazi.
You can call me this no.
نیچے فون نمبر درج تھا.
میں نے نے لمحہ بھر کو سوچا پھر دل کی گواہی پر میں نے دیا گیا نمبر ڈائل کیا۔۔
پہلی بیل پر کال اٹینڈ کر لی گی۔
دوسری جانب سے آواز آئی ۔
اسلام علیکم ایک سکون اور شوق کی ملی جلی کیفیت اس آوازمیں عیاں تھی ۔
وعلیکم السلام میں نےکہا ۔
دوسری جانب سے مجھے اپنا تعارف کروانے اور کال کرنی کی وجہ دریافت کی گئی ۔۔
میں نے انہیں اپنا تعارف کروایا اور صوفی صاحب کے جھاڑو کی بابت تفصیل سے بتایا ۔ انہوں نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے پوچھا آپ کہاں قیام پذیر ہیں؟؟
اور مجھ تک کیسے اسے پہنچائیں گی۔۔۔
پھر انہوں نے فرمایا کہ ہر مہینے کی پہلی اتوار کو ہماری ایک محفل ہوتی ہے۔ آپ اس میں آئیں ہماری طرف سے آپ کو اس کی دعوت ہے۔۔
سارا ایڈریس وغیرہ انہوں نے مجھے سمجھا دیا۔۔۔
وہ ایک شادی ہال تھا۔جہاں پر وسیع پیمانے پر محفل ذکر ونعت کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا ۔
ایک طرف مردوں کے لئے انتظام تھا اور دوسری جانب پارٹیشن کرکے خواتین کے لیے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا ۔
میں مقررہ وقت پر پہنچ چکی تھی میری وہاں کسی سے کوئی شناسائی آئی نہ تھی میں خاموشی سے خواتین والے حصے میں داخل ہوئی۔
وہ ایک بہت بڑا ہال تھا ۔زمین پر سفید چادریں سلیقے سے بچھی ہوئی تھیں اور اطراف میں کرسیاں لگی ہوئی تھی۔۔
میں خاموشی سے جا کر پہلے سے بیٹھی خواتین کے آخر میں بیٹھ گئی۔
میرے لیے وہاں کوئی بھی شناساچہرہ نہیں تھا ۔ اور میں صرف ان نعت پڑھنے والے صاحب جنہیں میں نے فون کی سکرین پر دیکھا تھا ان کے علاوہ کسی کو نہیں پہچانتی تھی ۔
ایک انجانی جگہ اور انجانا ماحول۔
پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا ۔۔
خوبصورت آواز میں قصیدہ بردہ شریف پڑھا جا رہا تھا ۔۔۔
انتظامات نہایت عمدہ طریقے سے کیے گئے تھے ساونڈ سسٹم بھی بہترین تھا ۔
قصیدہ بردہ شریف کیے اشعار کا سحر حاضرین کے دلوں کو موہ لے جا رہا تھا ۔
اسکے بعد مختلف ذکر اذکار کروائے گئے ۔ اس قدر خوبصورت انداز میں اذکار کروائے جا رہے تھے کہ کہ پوری محفل میں ایک عجیب وجدانی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔۔
گویا نور کی ایک چادر تھی جس کی نورانیت اور روشنی تلے سب حاضرین مل کر از کار کرانے والے صاحب کا ساتھ مل کر پورے خشوع و خضوع سے ذکر کر رہے تھے۔سب پر ایک عجیب مستی اور وجدانی کیفیت طاری تھی۔
جولائی کا مہینہ تھا۔لاہور کی سخت حبس والی گرمی میں یہاں ایسی ٹھنڈک کا احساس تھا گویا اللہ کی رحمت ہر سو قلوب کو نور کی پھوار سے ٹھنڈک پہنچا رہی ہو ۔۔۔
چند لمحوں میں یہ اجنبی ماحول میرے لئے اتنا مانوس ہو گیا کہ میں پوری کوشش سے اس کی نورانیت کو اپنے اندر جذب کرنے لگی۔۔
وقت گزرنے کا احساس ہی نہ رہا ۔
میرے کانوں میں بانی محفل جناب جسٹس نذیر احمد غازی کی آواز ٹکرائی۔۔۔۔
انہوں نے باقاعدہ خطا ب کا آ غازکیا۔۔۔۔
بے حد خوبصورت اور نپا تلا انداز تھا ان کا۔
یہ ان اخلاص والے خواتین وحضرات کی محفل تھی جو میرے آ قاعلیہ الصلاۃ والسلام سے
بے لوث
بے پایاں
بے غرض
محبت کرنے والے ہیں۔
دایر ہ مخلصین کے نام سے یہ اخلاص والے لوگوں کا ایک گروہ ایک منظم جماعت تھی۔
دائرہ مخلصین کا ایک ایک فرد آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت میں بے غرض بے لوث دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔
دائرہ مخلصین کا ممبر بننے کی ایک ہی شرط ہے۔ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ بے غرض پیار۔۔ بے غرض محبت ۔۔
بے مثال وفاداری ۔
غازی صاحب صاحب بڑے خوبصورت انداز میں دائرہ مخلصین کے حلقے کے تمام خواتین و حضرات کو انتہائی شفقت سے خطاب کر رہے تھے۔
الفاظ میں شفقت اور شیرینی ایسے تھی جیسے کوئی باپ اپنی اولاد کوکسی خاص اور اعلی محفل میں بھیجنے سے پہلے اس محفل کے آداب و اطوار سمجھا رہا ہوں۔۔۔
اور اپنے بچوں کے لئے فکرمند اتنا ہو کہ مبادا جانےانجانے میں کوئی ایسی لغزش نہ کر بیٹھے جو ان کے لیے پچھتاوے یا ندامت کا سبب ہو۔۔
وہ دل و جان سے دائرہ مخلصین کے ہر ہر ممبر کی تربیت کے لیے فکر منددکھائی دے رہے۔ ۔
دور سے سٹیج پر بیٹھے یوں دکھائی دے رہے تھا گویا سٹیج پر روشنی کا ایک ہالہ ہو جو انہیں اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔ایسی روشنی جس کی سیدھ میں کھڑے ہو جائیں تو مدینہ منورہ کا راستہ سامنے دکھائی دے۔۔
میں اس روشنی میں کھڑی مدینہ منورہ جانے والے رستے میں اپنی راہ تلاش کر رہی تھی کہ مایک پر میرا نام لیا جا رہا تھا مجھے چونکا دیا۔
وہ “دایر ہ مخلصین “کے ساتھیوں کو فون پر ہونے والی گفتگو اور جھاڑو کے بارے میں بتلا رہے تھے۔
ان کی باتیں سن کر یکدم میرے اردگرد کی تمام خواتین کی نگاہیں اس “جھاڑو والی” کو تلاش کرنے لگیں۔
اور انہوں نے جلد ہی جان لیا کہ آج ان میں ایک نئی خاتون کونسی ہے۔۔۔
اور وہ ایک دم پر جوش سے ہو گئی چند جذباتی انداز میں میری جانب بڑھی مجھے گلے لگا لیا ۔۔
اتنے میں انتظامی امور پر مامور پروفیسر نرید فاطمہ جو وہاں موجود تھی انتہائی سلیقہ مندی سے میرے قریب آئی میرے کان میں پوچھنے لگی آپ ہی ہیں؟؟؟
میں نے سعادت مندی سے اثبات میں سر ہلا دیا وہ فورا ایک کرسی میرے قریب لے آئی اور نہایت عزت سے مجھے اس پر بیٹھنے کو کہا ۔
اتنی ساری پزیرائی۔۔
اور محبت پاکر میں کچھ کنفیوز سی ہوگی۔۔
پھر سب غازی صاحب کے بیان کی طرف متوجہ ہوگئے اور یوں ان کی تو جہ تھوڑی دیر کے لیے مجھ سے ہٹ گئی۔۔(جاری ہے).
آپ کو ہماری یہ کاوش کیسی لگی؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔آپ کی راۓ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ شکریہ۔
پسند آئے تو شیئر کریں۔کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں۔تاکہ اگر متن میں کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں۔

شکریہ

۔گوشہءنور

(7 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply