گوشہء نور کی کرنیں۔.

(8 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ
حجرہ مبارک کا جھاڑو اور جسٹس غازی نذیر احمد۔
(حصہ سوم)
میں اپنی جانب اٹھنے والی اتنی محبت بھری عقیدت بھری اور ستائش بھری نظروں سے کنفیوز ز سی ہونے لگی۔۔
میرا من۔۔
میرا اندر ۔
ایک خالی خولی جھاڑ جھنکار کی بے وقعت جھونپڑی سے بھی زیادہ حقیر تھا۔۔۔
درختوں کے اڑتے پتوں اور سوکھی لکڑیوں سے بنی تنکوں کی یہ ہلکی سی جھونپڑی ۔۔۔
جو موسم کی ذرا سی بے اعتنائی پر اپنی بنیادوں تک لرز اٹھتی ہو۔
جس کی چھت آ سمان کی ہلکی سی خفگی بھی برداشت نہ کر پاتی ہو۔۔
اس کے گرجنے اور برسنے پر ٹپ ٹپ ٹپکنے لگے۔
زمانے کا سورج ہلکی سی آ نکھیں دکھائے تو اس کا پورا وجود پگھلنے لگے۔
میں تو اس جھونپڑی سے بھی زیاد ہ عام تھی۔
بے توقیر اور بے وصف۔
نہ میرے اندر کوئی وصف تھا نہ میرے باہر کوئی خو بو۔
پھر یہ محبت۔
یہ توقیر ۔
یہ عزت کس کی تھی ؟؟؟
میں نے اپنے اندر جھانکا۔
اپنے من سے پوچھا تو آواز آئی۔
“خش خش جنی قدر نا میری۔
میرے صاحب نو ودھائیاں
میں گلیاں دا روڑا کوڑا
محل چڑھایا سایاں۔۔۔۔”
یہ روح پرور اور نورانی محفل اپنے اختتام کی جانب رواں دواں تھی۔ ۔۔
غازی صاحب کا خوبصورت انداز بیان آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں ڈوبے الفاظ ۔
میرے آقا دو جہاں کے عشق سے سرشار لہجہ گویا سننے والوں کی سماعت کو ایسی لذت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی چاشنی کا ایسالطف دے رہا تھا کہ ہر کوئی اس کی شرینی کو قطرہ قطرہ اپنے اندر جذب کرنے میں محو تھا۔۔
میرے کملی والے آقا دو جہاں رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا یہ سفر بڑا عجیب ہے۔۔
جس کو اپکی محبت نصیب ہو جاتی ہے الفاظ اس کے غلام بن جاتے ہیں ۔
چاہے وہ “بیان کرے “
چاہےوہ “تقاریر” کریں”
یا محبت کی باتیں لکھنے بیٹھے۔۔
سارے لفظ گویا مل کر اپنے میں سے حسین ترین لفظوں کو منتخب کر کے اس شخص کے آگے لا کھڑا کرتے ہیں ۔۔۔
جس کو چاہو چن لو ۔۔۔
اور یوں بولنے والے لکھنے والے کی محبت میں گویا قیمتی لفظوں کی نگینے جڑنے لگتے ہیں۔
بالکل ایسے ہی جیسے سونے کے زیورات بناتے وقت ہیرے موتی سنار کے آگے اپنا تن من لیےپڑے ہوتے ہیں۔
قیمتی ہیرا بھی سنار کی جانب التجائیہ نگاہوں سے دیکھتا ہے کہ مجھے بھی اس زیور میں جڑ دو
میرا بھی مول پڑ جائے ۔
ایسے ہی قیمتی اور انمول الفاظ سے مزین غازی صاحب کا بیان اپنے اندر دائرہ مخلصین کے ممبران کی تربیت کے لیے ان کی تڑپ اور محبت سموئے ہوئے تھا۔
دائرہ مخلصین کی خواتین کی اپنے استاد محترم کے لیے عقیدت و محبت بھی دیدنی تھی۔۔۔
اس کےبعد ناشتے کا اہتمام تھا۔میرے قریب والی خاتون نےمجھے بہت محبت سے صوفے پر بٹھایا اور بولیں آپ مدینہ منورہ کی نسبت سے یہاں تشریف لائیں ہیں ۔
ہماری خاص مہمان ہیں آپ ادھر ہی بیٹھیں میں آپ کے لیے کھانا ڈال کر لاتی ہوں ۔۔۔
میرا جواب سنے بغیر باقی خواتین کے ساتھ ہال کی دوسری جانب چل پڑی ۔۔
جہاں بڑے بڑے میز اپنے سینے پر اشیاء خوردونوش سجاےاس پاک محفل کے شرکاء کی میزبانی کے لئے تیار تھے۔
وہ خاتون ابھی میرے لیے پلیٹ بنا کر واپس بھی نہیں لوٹی تھی کہ ایک اور خاتون میرے آگے سجی سجائی کھانے کی پلیٹ رکھ کر مسکراتے ہوئے مجھے “بسم اللہ” کرنے کا عندیہ دیے رہی تھی۔۔
میں نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ہاشمی صاحب (جو اس شادی ہال کے مالک تھے) اور اس لنگر کا اہتمام ان کی طرف سے کیا گیا تھا اپنے ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے خواتین کے احاطے کی جانب آتے دکھائی دیے ۔۔۔
وہ انتظامی امور پر مامور خاتون سے غالباً میرے بارے میں پوچھ رہے تھے۔۔
وہ ٹرے اٹھائے نہایت عقیدت بھرے انداز میں میری جانب بڑھے۔
کھانے سے بھری ہوئی ٹرے میرے آگے رکھی نگاہیں نیچی اور جھکے ہوئے سر سے سلام کیا پھرکہنے لگے آپ کو کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف بتائیں۔۔۔
اس محفل میں تو ہر کوئی مدینے کا اور مدینہ والوں سے وابستہ لوگوں کا عقیدت مند نظر آ رہا تھا۔۔
اس ساری محبت اور عقیدت کی وجہ تو مدینہ منورہ تھا۔
اوراس دربار سے وابستہ ہر چیز ۔۔
ان کے حجرہ مبارک کے جھاڑو کی جانب میں نے عقیدت بھری نظروں سے دیکھ کر سو چا۔جو میں بڑی محبت سے پیک کرکے بانی محفل جناب جسٹس نذیر احمد غازی صاحب کے لیے لای تھی۔
یہاں سب کے رویےمیرے آ قا علیہ الصلاۃ والسلام سے محبت کی منہ بولتی تصویر تھے۔۔
یا رسول اللہ ۔۔
آپ کے چاہنے والوں کی خیر ہو ۔۔۔
میرے دل نے چپکے سے کہا۔۔۔
اے اللہ اس امت کو اس محبت کے صدقے ہمیشہ سر بلند رکھنا ۔
یہ امت عمل میں کمزور سہی مگر محبت میں اس کی مثال یکتا ہے۔
میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی ۔
اور ہمیں ایسے ہی مربی ایسے ہی استاد دینا جو ان کی محبتوں کی آبیاری کریں اور ان کی تربیت کریں میں نے غازی صاحب کے تربیت یافتہ افراد کی طرف دیکھ کر دعا کی۔۔۔(جاری ہے)
تحریر پسند آئے تو شیئر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں شکریہ۔
آپ کو ہماری یہ کاوش کیسی لگی ؟ اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں. آپ کی رائے ہمارے لئے مشعل راہ ہے……

(.گوشہء نور)

(8 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply