گوشہء نور کی کرنیں

(9 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ


حجرہ مبارک کا جھاڑو اور جسٹس غازی نذیر احمد..
۔(حصہ چہارم )
ہال میں کھانا کھانے کے دوران جو ہلکی پھلکی آ وازوں کی بھنبھناہٹ سنائی دے رہی تھی یکدم سناٹا چھا گیا۔خواتین ایک دم ترتیب کے ساتھ منظم ہو کر بیٹھ گئی۔سب کی نگاہیں دا خلی دروازے کی طرف اٹھ گئیں کہ غازی صاحب کی تشریف آوری کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
کرتا شلوار میں ملبوس سر پر ٹوپی پہنےنپے تلے انداز میں میں چلتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ۔۔
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سے ایک نور کا ہالہ ان کے اوپر سایہ فگن ہے جس کی ہلکی ہلکی کرنوں نےان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔
وہ اپنی نشست پر آ کر براجمان ہو گئے۔
بہت ساری خواتین اپنے اپنے دکھ درد کی پوٹلیاں اٹھائے بیقرار بیٹھی تھی۔جس کے لیے وہ ان کے مداوے کے لیے دعا وظائف اور تشفی کی آ س تھی۔
غازی صاحب آ کرکرسی پر براجمان ہوئے ۔ان کے انداز سے ایک عجیب سا شوق اور مدینہ منورہ سے آنے والی تحفے کو پانے کے لئے بے قراری چھلک رہی تھی۔۔
اسی اثنا میں انتظامی امور پر مامور ایک خاتون میرے قریب آئین اور نرمی سے مجھے مجھے آگے آنے کا کہا ۔۔
میں اپنا پرس اور ہمراہ لایا ہوا آ ب زمزم مدینہ منورہ کی کھجوریں اور اور کیک لے کر میز زبان محفل کی طرف چل پڑی۔
لے جا کر یہ سب چیزیں میزبان محفل کی آگے دھر دیں ۔۔
پھر میں نے اپنا پرس کھولا اور احتیاط سے پیک کیے ہوئے حجرہ مبارک کے جھاڑو کے تنکے نکالے ۔
اس لمحے ہے پورے حال پر ایک سکوت طاری تھا ۔
عقیدت و محبت بھری نگاہیں ہر طرف سے اس تحفے کا چپکے چپکے دل ہی دل میں بوسہ دیتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔
میں نے یہ بیش قیمت تحفہ غازی صاحب کو پیش کیا ۔۔
اس لمحے ان کا چہرہ اسے پاکر تمتما رہا تھا۔ انہوں نے نہایت ادب و احترام سے اسے تھاما عقیدۃ سے بوسہ دیا اور اپنی آنکھوں سے لگایا ۔ وہ بے حد خوش اور پرجوش دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔
فرط جذبات سے وہ حجرہ مبارک کی زمین کو چھو کر آ نے والے ان تنکوں کو بار بار دیکھ رہے تھے۔ان کی اس محبت کو دیکھ کر محفل میں موجود ان کی ایک روحانی بیٹی رابعہ بٹ نے ان سے نعت سنانے کی فرمائش کی ۔
غازی صاحب کی ایک روحانی بیٹی رابعہ بٹ نے کہا کہ آپ آپ اکثر یہ نعت پڑھا کرتے تھے جس میں مدینہ پاک کا جاروب کش بننے کی دعا کی گئی تھی۔۔
اللہ نے آج آپ کو وہاں کا جاروب بھیج دیا ہے آپ ہمیں آج وہی نعت سنائیں جس پر وہ مسکرائے اور انہوں نے نہایت خوش الحانی اور عقیدت سےحاضرین نے محفل کو وہ نعت سنائی۔
اس کے بعد انہوں نے کھجوریں اور زمزم تمام حاضرین محفل میں تقسیم کیا۔۔
کیک کو کاٹ کر تمام شرکاء کو پیش کیا۔
میں ان کے انداز و اطوار اور اپنے دائرہ مخلصین کے ساتھ محبت کے انداز دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔
یہ کیسا مربی ہے؟
کیسا استاد کیسا رہنما ہے؟
جس کر اپنے معتقدین سے اپنے ساتھیوں سے سے اسی طرح پیار ہے جیسا پیار ہم اسلام میں ایک مربی ایک رہنما ایک استاد کا اپنے شاگردوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
نہ تو ان کے انداز میں کہیں خود نمائی نظر آ رہی تھی اور نہ ہی حاضرین کے لیے کوئی بے اعتنائی بلکہ وہ یو ں سب ساتھیوں کے لیے فکر مند اور مہربان دکھائی دیں رہے تھے جیسے ایک باپ اپنے کنبے کے لیے گھنی چھاؤں کیے ہوے ہوتا ہے۔
محفل میں موجود سب خواتین اس تحفے کی قریب زیارت کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے چھو کر دیکھنا چاہتی تھی۔۔
انہوں نے اس بات کو محسوس کیا۔ اپنی ایک روحانی بیٹی جو انتظامی امور پر بڑی مستعدی سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی تھی رابعہ رضوان انہیں بلایا اور انہیں وہ تحفہ تھما دیا۔
فرمایا جاؤ تمام حاضرین محفل کو اس کی فرداً فرداً زیارت کروا دو ۔
یہ بات سن کر سب کے چہرے کھل اٹھے۔۔
اور اس محفل میں موجود تمام خواتین نے اس تحفے کی زیارت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کی۔
اسی محفل میں غازی صاحب کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے روضہ مبارک کی چادر ہر کا کا ایک ٹکڑا بھی کہیں سے تحفتاً آیا ہوا تھا ۔
آپ نے مدنی بزرگوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس چادر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تمام حاضرین نے تقسیم کئے۔
دائرہ مخلصین سرور دو جہان نبیی رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والوں کا ایک ایسا گروہ ہے جس کا ممبر ہر وہ وہ مسلمان بن سکتا ہے جس کے دل میں آقا کے لئے بے لوث محبت اور بے لوث وفاداری ہو۔۔۔
آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی محبت سے سرشار مہکتی خوشبو دار محفل جو جنت کی ہواؤں سے مزین محسوس ہو رہی تھی اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔(۔گوشہء نور)
آپ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی؟ اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کیجئے۔آپ کی راۓ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ شکریہ۔
گوشہ ءنور۔۔

(9 -صوفی نذیر احمد۔ (پارٹ

Related Posts

Leave a Reply