گوشہء نور کے سالکین۔۔۔(سبق نمبر۔20)
سلوک اور خواتین۔۔۔(حصہ اول)
اس سارے سفر میں خواتین کے لئے کیا حکم ہے ؟
روح تو روح ہے۔۔
روح کی ضرورت ۔۔
روح کی طلب۔۔۔
اسکی کھوج ۔۔۔
اس کے لیے کیا مرد؟؟
کیا عورت ؟؟؟
یہ ارواح تو ازل سے منتخب کر لی گئی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
طالب مولا روح تو ازل سے طالب المولا ہی ہوتی ہے۔۔۔
اگر تقدیر نے ا سے عورت کا لبادہ اوڑھا کر اس جہان میں بھیج دیا تو وہ کیا کرے؟؟؟
تاریخ اس بارے میں رابعہ بصری کے سوا اور کسی طالب الا مولا روح کا تعارف نہیں کرواتی۔۔۔
میں نے اپنی بے بسی پر اپنے آنسو جذب کرتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔۔
یہ تڑپ۔۔۔
یہ آگ اگر کسی عورت کے وجود کو جھلسا ئے تو وہ کیا کرے؟؟؟
کہاں جائے؟؟؟
اولیاء کرام کے قصے جب ہم پڑھتے ہیں تو ان میں ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ جب وہ ایسی سٹیج پر پہنچے۔۔
تو تارک دنیا ہو گئے۔۔
گھر بار چھوڑ کر نکل گئے ؟؟
رب کی تلاش میں۔۔۔
یہ لمحے تو تنہائی مانگتے ہیں ۔۔
اور تنہائی ہی محبوب تک لے جاتی ہے۔۔۔
وصل دیتی ہے ۔۔۔
لیکن آ ج اگر وہ گھر بار چھوڑ کر جنگلوں میں نہ بھی جائیں تو ان کے لیے ہزاروں مواقع ہیں ۔۔
چلے کاٹنا ۔۔۔۔
کسی دینی جماعت کو جوائین کرنا۔۔
جماعت کے ساتھ گھر بار چھوڑ کر ساری ذمہ داری بیوی کے اوپر ڈال کر بے فکری سے نکل جانا ۔۔۔
اور کچھ نہیں تو پانچ وقت مسجد میں باجماعت حاضری ۔۔۔
اور اس کے بعد مسجد میں کچھ دیر کی تنہائی ۔۔
خدا کے لیے یکسو ہونا۔۔۔
مراقب ہونا۔۔
عورت کے لئے تو یہ سب ممکن نہیں ہے ۔۔۔
یہ سب ایک عورت افورڈ نہیں کر سکتی۔۔
اس کی کی ذمہ داریاں۔۔۔
اس کا شوہر ،اس کے بچے ، اور گھر کی ذمہ داری اتنی شدید ہے کہ گویا وہ ہر وقت ہر لمحہ کسی نہ کسی محاذ پر ہوتی ہے۔۔۔
ایک طرف اس کے اندر کی جنگ۔۔
اسکی روح کی تڑپ۔۔۔
وہ تو پانچ نماز بھی اسی محاذ پر یوں ادا کرتی ہے جیسے میدان جنگ کا سپاہی۔۔۔
کبھی تو شیر خوار بچے کو سینے سے چمٹائے وہ اللہ کے حضور نماز کے لیے کھڑی ہوتی ہے اور کبھی روتے ہوئے بچے کو کھلونے سے بہلااس کی آ وازوں کے شور شرابے میں معراج کے اس سفر پر روانہ ہوتی ہے۔
اسی طرح وہ بٹے ہوئے وجود کے ساتھ تمام فرائض ادا کر رہی ہوتی ہے۔۔۔
اپنے من کی طلب اپنی روح کی آواز سننے کے لیے جو تنہائی اسےچاہیے ۔۔
وہ تنہائی کہاں سے لائے؟؟؟؟؟؟۔۔۔
اس کی جسمانی ذمہ داریاں اس کے نازک وجود کو کیسے کیسے زدو کوب کر رہی یوتی ہیں۔۔۔
عورت کی اس نازکی اس لطافت کو تو
میرے آ قا۔۔
میرے سبز گنبد کے مکین۔۔
سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کس خوبصورتی سے اس موقع پر بیان کیا تھا جب ایک صحابی اپنی اونٹ کو تیزی سے دوڑ آ رہے تھے جس پر خواتین سوار تھیں تو میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ،
“آ بگینے ہیں آ بگینے۔۔”۔
عورت کی نازکی کو اس سے خوبصورت انداز میں کیوں کر بیان کیا جا سکتا ہے۔۔
میرے نبی پاک میرے آ قا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورت کی اس نازک اندامی کو سمجھتے تھے۔۔
جانتے تھے ۔۔
اسی لیے انہوں نے سے عورتوں پر خاص شفقت فرمائی۔۔
بھن بیوی اور بیٹی کا مقام امت کو سمجھایا۔۔
لیکن جو ذمہ داریاں قدرت نے عورت پر ڈالی ہیں وہ ان کو نبھاتے ہوئے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ سلوک کا سفر کیوں کر سکتی ہے ؟؟
محبت سے عشق تک کا سفر ۔۔
یہ کوئی معمولی سفر نہیں ہے ۔۔
یہ تو آگ ہے ۔۔
کبھی یہ آگ وجود کو جھلساتی ہے۔۔۔
اور کبھی یہ آگ اپنی لطافت تک پہنچ جاتی ہے ۔
ایسی لطافت کے آپ روح اور جسم کی قید سے نکل جاتے ہو ۔۔۔
جب وجود ہی نہ رہے ۔۔
بدن نہ رہے ۔۔۔
لیکن اسے اپنے سے جڑے ہر رشتے کی طلب کو پورا کرنا ہے۔۔
یہ اس کے لیے لازم ہے۔
اور ایک شوہر اور بچوں والی عورت کے لیے یہ 24 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی ہے۔۔
ان چوبیس گھنٹوں میں اس کا اپنا ذاتی کوئی ایک لمحہ بھی نہیں ہے ۔
اس نے عبادات بھی ان رشتوں کے سامنے نے ہی ادا کرنی ہے۔
اور یوں ادا کرنی ہے کہ اس کی عبادت بھی گویا ایک ذمہ داری تھی جو اس نے نبھا دی۔۔۔
عبادت کوئی روٹی نہیں ہے ہے جو آ ٹا گوندھا اور پکا دی۔۔
عبادت تو کیفیات ہے۔
عبادت تو جذب ہے۔
یہ تو رب سے ملن ہے۔
ملن میں سرشاری ہے
اس میں یکسوئی ہو نہ ہو ۔
تنہائی ہو نہ ہو ۔۔
اس کے آنسو بہنےکیے لیے بھی محتاج ہوتے ہیں ان رشتوں کی اجازت کے۔۔۔۔
وہ تو بلا اجازت اپنے رب کے سامنے آنسو بھی نہیں بہا سکتی۔۔
اس کا تنہائیوں میں میں مصلے پر بیٹھنا۔۔۔
اپنے رب کے لیے مراقب ہونا۔۔۔
اپنی عبادات کے وقت کو بڑھانا۔۔۔
اپنے آنسو کے بند کو تنہا ئیو ں میں بہنے کے لیے بے آواز کھولنا۔۔۔
وہ ان سب کے لیے بھی اپنے سے جڑے رشتوں کے آگے جوابدہ ہو سکتی ہے۔۔۔
اپنےمن میں اٹھے تلاطم کے لئے بہاؤ کا کیا حکم ہے اس کے لیے۔۔۔۔
میں ایک ایک کر کے اپنے سوالات کی ساری پوٹلیاں ان کے سامنے کھول رہی تھی۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔
اہم نوٹ۔۔۔
راہ سلوک کی مسافر خواتین کے اگر اس سلسلے میں مزید سوالات ہوں تو کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں ۔شکریہ
تحریر آپ کو پسند آئے ، آپ کے روحانی سفر میں معاون ہو تو اپنی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ہمیں ضرور آگاہ کریں آپ کی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔۔۔
شیر کریں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ متن میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو آپ اس سے آگاہ ہو سکیں ۔۔شکریہ۔۔گوشہء نور۔۔
گوشہءنور کی مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے دے گئے لنک پر کلک کریں۔

شکریہ۔

(part 1) سلوک اور خواتین۔

Related Posts

Leave a Reply