سر زمین حجاز ۔ یادیں ۔ 5

۔سر زمین حجاز۔۔۔۔یادیں۔۔5
لیلتہ الاسراءجدہ میں۔۔
میرے اردگرد کی تمام خواتین خواتین عربی زبان بولنے والی تھیں۔ ان میں مصری شامی اور عرب خواتین شامل تھیں۔ ان کے لباس ان کے زیورات اور ان کا انداز و اطوار بتا رہا تھا کہ وہ متمول گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔۔
رنگ برنگی میکسی اور قیمتی زیورات پہنے ہوئے یہ خوبصورت خواتین نشید( عربی میں نعت کو کہتے ہیں) کے ساتھ اپنی آواز ہم آہنگ کر کے جھوم رہی تھی اور میرے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی اپنے رب سے ملاقات پر خوشی کا اظہار پرجوش انداز میں کر رہی تھیں۔۔
میری نگاہیں ان خواتین کا جائزہ لیتے ہوئے اچانک رک گئیں ۔
ٹھٹھک گئیں۔
ان خوبصورت مہنگے ملبوسات قیمتی زیورات پہنے خواتین میں سامنے ایک خاتون بیٹھی تھی۔
سادی سی پرنٹڈ میکسی میں لپٹی ہوئی سانولی رنگت والی دھیمی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ایک تیس پینتیس سالہ روایتی عرب خدوخال والی خاتون بیٹھی تھیں۔
اس محفل کی چکاچوند اسکی سادگی اس کے وقار کی متحمل نہیں ہو ررہی تھی۔
ایک طرف پلڑے میں اگر اس محفل کی ساری شرکاء خواتین کو رکھا جائے تو دوسرے پلڑے میں اس اکیلی خاتون کے وقار کو تو یہ یقینا یہ ان سب پر بھاری تھا۔
مہنگے ملبوسات اور قیمتی زیورات پہنے ان خوبصورت اور امیر خواتین کے درمیان وہ بڑے بڑے پھولوں والی پرنٹڈ میکسی پہنے اپنے سانولی رنگت والے میک اپ سے عاری چہرے پر دھیمی مسکراہٹ سجائے سب سے جدا تھی۔
میرے دل کے سارے تار اس کے وجود سے نکلنے والی پرسکون لہروں میں پناہ ڈھونڈ نے لگے۔
اس کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ وقت جیسے تھم سا گیا ہو۔
وہ یقیناً اس ماحول کا حصہ نہیں تھی لیکن یوں لگ رہا تھاجیسے یہ ماحول اسی کے دم سے روشن ہے۔
وہ کون تھی۔۔؟؟
اتنی پر وقار ۔۔۔
اتنی پر نور۔۔۔
اسے دیکھ کر مجھے اپنے اندر ایک عجیب سی محبت کا احساس کیوں ہو رہا تھا۔۔
وہ عام سے لباس میں زیورات اور تزئین آ رائیش سے بے نیاز ہونے کے باوجود اتنی نمایاں اور قد آ ور لگ رہی تھی۔
میں محفل کے اختتام کے لیے بیقرار تھی تاکہ نور سے اس غیر معمولی عرب خاتون کے بارے میں پوچھ سکوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
حصہ دوئم۔۔۔
مجھے محسوس ہو رہا ہے ہم نور کی گاڑی کوپیچھے چھوڑ کر چکے ہیں ۔ میرے شوہر نےجدہ کی پر ہجوم سڑک پر مہارت سے گاڑی چلاتے ہوئے کہا۔
میرا نہیں خیال کہ ان کی گاڑی ہمارے پیچھے رہ گئی ہو میں نے جواب دیا ۔ یہ میرا وہم بھی ہو سکتا ہے ۔
انہوں نے اپنی اگلی گاڑی کو فالو کرتے ہوئے کہا ۔۔
یہ عشاء کی نماز کے بعد کا وقت تھا سڑکوں پر بے پناہ رش ہونے کی وجہ سے ٹریفک سست تھی ہم مسلسل اپنے آ گے جانے والی گاڑی جس میں” نور “اور اس کا شوہر سوار تھے اس کو فالو کر رہے تھے ۔
نور ایک عرب خاتون تھی ۔ہم ابھی نئے نئے جدہ میں شفٹ ہوئے تھے ۔وہ میرے شوہر سے اپنے تعلیمی معاملات میں مدد لینے ہمارے گھر آ ئی تھیں ۔وہ ایک تعلیم یافتہ محنتی اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔وہ کام سے فارغ ہوئیں تو میں چائے کی ٹرے سجائے اس کی مہمان نوازی کے لیے اس کے پاس چلی آ ئی۔
سانولی سی رنگت اور چمکدار آ نکھوں والی نور اپنے آ پ کو میزبان ملک کا باسی تصور کرتے ہوئے میرے ساتھ عربوں کی روایتی مہمانداری کا سا برتاؤ کر رہی تھی۔
اس کی گفتگو میں اپنائیت اور محبت تھی۔
انگریزی بولنے میں اگرچہ اسے مکمل عبور حاصل نہ تھا لیکن وہ عرب لہجے میں انگریزی بولتی ہوئی مجھے اچھی لگ رہی تھی۔
جب رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت رکھنے والا کوئی ان کا امتی سر زمین حجاز میں جاتا ہے تو اس کی آ نکھوں میں اس کے تصور میں وقت چودہ صدیاں گویا گزری نہیں ہوتیں۔
وہ تو آ نکھوں میں اسی دور کے خواب سجائے اس سر زمین کی طرف جاتا ہے۔
اس کا من وہاں اب بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہل بیت کی خوشبو تلاش کر رہا ہوتا ہے ۔۔
ایک مسلمان کے دل میں ہوش سنبھالنے کے بعد سب سے پہلی محبت جو پروان چڑھتی ہے وہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہوتی ہے۔
ان کے گھرانے کی الفت ۔۔
ان کے صحابہ کرام کا پیار ۔۔
اسی محبت کی لو اسے ہوش سنبھالنے کے بعد اس سر زمین کا راستہ دکھاتی ہے اور وہ ویاں جانے کے خواب وہ اپنی تنہائیوں میں اپنے فرصت کے لمحات میں بڑی عقیدت سے بیٹھ کر بنتا ہے۔
ایسے ہی خواب سجائے میں بھی بڑی دعاؤں اور منتوں مرادوں کے بعد اس سر زمین پر مقیم ہونے چلی آ ئی تھی ۔
میری آ نکھیں ہر عرب میں اپنے آ قا علیہ الصلواۃ والسلام ان کے اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عکس بڑی بیقراری سے تلاش کر رہی ہوتی تھیں۔۔
میں نے سنا ہے ہر عرب اپنے قبیلے اور حسب نسب کے بارے میں مکمل معلومات رکھتا ہے۔ہم کیسے پہچان سکتے ہیں کہ کون سا عرب ان پاک ہستیوں کی نسل سے ہے ؟
کیا اس کی کوئی نشانی ہوتی ہے یا ان کے فیملی نام سے ہم کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں میں نے نور سے پوچھا۔
اس نے میری جانب غور سے دیکھا۔۔
۔اسے شاید میرا سوال عجیب لگا ۔
دراصل میرا دل کی بہت شدید خواہش ہے کہ میں پاک نسلوں کی زیارت اپنی آ نکھوں سے کروں جن کی رگوں میں وہ مقدس خون دوڑ رہا ہے میں نے اپنی خواہش کی شدت کو دباتے ہوئے نرمی سے جواب دیا۔۔
ہمارے لئے یہ سر زمین یہاں کے باسی بڑے مقدس ہیں نور۔۔
آ پ شاید ہماری کیفیت کو نہ سمجھ سکیں کیونکہ آ پ نے محبت میں جدائی دیکھی ہی نہیں ہے۔۔
نور کے چہرے پر اب نرمی تھی ۔اسے شاید سمجھ آ گیا تھا کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔۔
وقت بہت زیادہ گزر چکا ہے۔۔۔
اب یہ سب بہت مشکل ہے اس نے میری جانب بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
شاید وہ میرے جذبوں کو جانچنا چاہ رہی تھی۔۔
آ پ کس سے ملنا چاہتی ہیں؟
کیا تلاش کرنے کا خواب ہے آ پکی آ نکھوں میں۔
اس نے نرم لہجے میں کہا۔۔
شاید میرے دل کی محبت کی بیقراری اسے میری کچھ مدد کرنے پر اکسا رہی تھی۔
مجھے بہت تمنا ہے میں کسی صحابی کی اولاد سے مل سکوں ۔۔۔
سیدہ طاہرہ خاتون جنت بی بی فاطمہ الزہراء کی اولاد پا ک میں کسی کی زیارت کر سکوں میں نے کہا۔
وہ چپ ہو گئیں۔۔
تھوڑی دیر کو بلکل خاموش۔۔
بھر بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولیں ۔۔۔
میرا تعلق حضرت ابوبکر صدیق رضی آللہ عنہ کی نسل سے ہے۔لیکن مجھے دکھ ہے کہ ہم لوگ اس پاک اور بلند ہستی سے تعلق رکھنے کے باوجود تقوی کے اس مرتبے اور مقام پر نہیں ہیں جس کا آ پ تصور کرتے ہیں۔۔
مجھے اقرار ہے اپنی کوتاہیوں کا ۔۔۔
اپنی خامیوں کا۔۔۔۔
پلیز مجھے کوئی تکریم نہ دیجیئے۔۔
میں یقیناً اس کے لائق نہیں ہوں اس کے لہجے میں تاسف جھلک رہا تھا۔۔
اور میرا دل خوشی سے نہال ہو رہا تھا۔۔
میرےسامنے یہ کون تھا۔۔
میری دعا اللہ کریم نے اتنی جلدی قبول کر لی تھی۔۔
خوشی کے آ نسو میری آ نکھوں سے نکلنے کو بیقرار تھے۔۔
ہم نے خون کے اس اثر کو اپنے دادا محترم تک خود دیکھا ہے۔
لوگ میرے دادا سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔وہ جب تہجد کے وقت گھر سے مسجد کی جانب روانہ ہوتے تو روشنی کا ہالہ ان کے ساتھ ساتھ چلا کرتا تھا۔۔
وہ بڑے خاص لوگ تھے ۔میرے والد صاحب جدید تعلیم کے دلدادہ تھے۔
پھر وقت بدل گیا ہم بھول گئے کہ ہمارا حسب نسب کیا ہے وہ بتا رہی تھی۔
پھر میری کیفیات دیکھ کر وہ بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔۔
ہاں اہل بیت سے محبت اب بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔۔
میں شاید آ پ کی مدد کر سکتی ہوں ۔
لیکن اس کے لیے مجھے اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے۔۔
آ ج کی شب لیلتہ الاسراء ہے اور ہمارے ہاں آ قا علیہ الصلواۃ والسلام کی” معراج” بہت اہتمام سے منائی جاتی ہے۔۔
آ ج شب محفل ہے جس میں سیدہ طاہرہ خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا کی نسل سے ایک خاتون بھی شرکت کریں گی ۔۔
میں کوشش کرتی ہوں آ پ کو وہاں لے جانے کا پروانہ حاصل کر سکوں۔۔
اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے کیوںکہ سیکورٹی بہت سخت ہوتی ہے۔
اور کوئی بھی نیا مہمان وہاں لے کر جانا بہت مشکل ہے۔۔۔
دعا کریں اگر آ پ کی دعا قبول ہو گئی تو اجازت مل جائے گی۔۔۔
میری حالت دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
جی پھر قہوے کا آ خری گھونٹ پھر کر کپ سائید ٹیبل پر رکھا۔اور موبائل فون پر کال ملانے لگیں۔۔
وہ غالباً اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی ۔میں چائے کے برتن سمیٹنے لگی۔
تھوڑی دیر بعد میں واپس ڈرائنگ روم میں آ ئی تو وہ ابھی تک فون پر تھیں ۔شائستہ عرب لہجے میں وہ شاید اپنی بات منوانے کے لیے کسی بات کی تکرار کر رہی تھیں۔
دوسری جانب سے انہیں فون بند کرنے کو کہا گیا۔انہوں نے فوراً فون بند کر دیا۔
پھر میری جانب متوجہ ہو کر کہنے لگیں اجازت بہت مشکل ہے ملنا لیکن فکر نہ کرو بس دعا کرو میرے شوہر کوشش کر رہے ہیں۔
اور پھر یوں مجھ سے لا تعلق سی ہو گئیں شایدوہ بھی اللہ کے حضور میرے لیے دعا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو چکی تھیں۔۔
چند لمحے ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی رہی جسے اس کے فون کی مدھم سی ٹیون نے توڑا۔
اسلام علیکم اس نے جلدی سے فون اٹھا یا۔۔۔
دوسری جانب سے اجازت نامے کی نوید تھی۔۔۔
اب ہم نور کی ہدایت کے مطابق اس کی گاڑی کو فالو کرتے ہوئے اس مقام کی جانب رواں دواں تھے جہاں لیلتہ الاسراء کی خوشی منانے کی تقریب منعقد تھی۔۔
اس تقریب میں صرف وہی لوگ آسکتے تھے جنہیں انوائیٹ کیا گیا ہو۔سیکورٹی کا سخت انتظام تھا۔میں اس عالیشان ولا کے سامنے کھڑی اس کی شان شوکت کا اندازہ لگا رہی تھی۔
سعودی عرب میں بڑے گھروں کی دیواریں بہت بلند ہوتی ہیں۔کھڑکیاں بھی چھوٹے سائز کی ہوتی ہیں جن پر فراسٹڈ شیشے ہونے کی وجہ سے اندر کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔اور باہر کھڑا شخص ولا کے اندر کے ماحول کا اندازہ بلکل نہیں لگا سکتا۔ باہر سے ان کے وسیع و عریض محل نما بنگلے دیکھ کر کسی بادشاہ کے محل کا سا گمان ہوتا ہے جہاں سیکورٹی کا انتظام بھی بہت سخت ہو۔
یہ ایسا ہی ایک گھر تھا اور میں نور کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ بھی لے رہی تھی۔
میرے دائیں جانب ایک بڑی سی مصنوعی آ بشار بنائی گئی تھی۔جس میں رنگ برنگی روشنیاں رات کے وقت بہت بھلی معلوم ہو رہی تھیں۔
وسیع صحن سے گزر کر اب ہم مختلف راہداریوں سے ہوتے ہوئے ایک بڑے ہال کمرے میں موجود تھے۔جہاں تقریب شروع ہو چکی تھی۔
ایک بڑے ہال میں دائرہ کے شکل میں کرسیاں لگائی گئی تھی ۔ایک درمیانی عمر کی عورت عربی زبان میں خطاب کر رہی تھی۔
انتظامی امور پر مامور ایک خاتون رکن نے بڑھ کر ہمارا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا۔نور انہیں یقینا بتا چکی تھی انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور سب سے آ گلی لائن میں ایک خالی کرسی پر بٹھا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
حصہ سوئم۔۔
اور اب میں نور کے ہمراہ اس لیلتہ الاسراء کی تقریب میں موجود تھی۔
۔اور اپنے سامنے بیٹھی اس باوقار عورت کی شخصیت کے سحر میں گرفتار اس کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے لیے بے چین بیٹھی تھی ۔
کچھ دیر بعد تقریب کا اختتام ہوا نور میرے پاس آ گئی اور بولی آ ئیں میں آ پ کو سب سے ملواؤں۔۔
شرکاء کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی۔ تقریباً 15.سے20 خواتین تھی ۔
نور نے داہنی طرف سے میرا تعارف کروانا شروع کیا۔
چند لمحوں میں ہم اس خاتون تک پہنچ گئے ۔
یہ ہند سے آ ئی ہیں اور اہل بیت کی شدید محبت دل میں رکھتی ہیں۔ اہل ببیت سے ملنا چاہتی ہیں۔نور نے ان سے یہ کہ کر میرا تعارف کروایا۔
وہ خاتون ایک اجنبی کو نور کے ساتھ دیکھ کر نہایت تمیز سے پہلے ہی کھڑی ہو چکی تھی اس تعارف پر وہ خوش دلی سے مسکرائیں اور عربوں کے مخصوص انداز میں میرے چہرے پر دونوں طرف بوسہ دیتے ہوئے مجھے گلے لگایا۔۔۔
پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے پاس بڑے پیار سے بٹھایا ۔۔
نور کی طرف میری سوالیہ نگاہیں تھی کہ وہ مجھے ان کے بارے میں بھی بتائیے کہ یہ کون ہے ؟؟
نور نے بڑے ادب سے سے ان کی طرف دیکھا اور بولی یہ سیدہ فاطمہ الزہرا کی نسل سے ہے ہیں ان کے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ نور کا یہ کہنا تھا کہ میری آنکھیں خوشی کے آنسو ؤ ں سے جگمگا اٹھیں؟
اللہ کی اتنی کرم نوازی پر میں دل ہی دل میں شکرانے کے سجدے ادا کر رہی تھی۔۔
اللہ تو کتنا کریم ہے تو سمیع علیم ہے۔۔۔۔
میرے سامنے بی بی صاحبہ خاتون جنت کی اولاد تشریف فرمایا ہے ۔۔
میرا جی چاہ رہا تھا میرا وجود خاک بن جائے اور اس خاک پر سے پاک بی بی کی بیٹی گزر جائے۔۔
اور میں اس پاؤں کے لمس کو ہمیشہ ہمیشہ اپنے اندر جذب کر لوں۔ جیسے مدینہ شریف کے کچھ پتھروں نے سرکار دو عالم کے نشانات اپنے اندر جذب کر لئے۔۔
اللہ وہ تو پتھر تھے وہ محبت میں اتنے نرم ہو گئے۔ان کی محبت شاید ہماری محبت پر سبقت لے گئی کہ ہمیشہ کیلئے سکار دو عالم کے پاک وجود کے لمس کو اپنے اندر سمو لیا ۔۔
مجھے نہیں سمجھ آ رہا تھا میں کیا کروں ؟
میں ایک لمحہ بھی پلک جھپکے بنا ا نہیں دیکھتے رہنا چاہتی تھی ۔
ان کے سانولے سلونے گندمی چہرے سے نکلتی ہوئی روشنی میں تحلیل ہو کر چودہ سو برس پیچھے جانا چاہتی تھی ۔۔۔
کاش میں عہد سرکار میں پیدا ہوتا ۔۔
نام لےکر مجھے آقا نے بلایا ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
برسوں پہلے ہندوستان سے سے ایک شخص آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت میں مدینہ شریف آیا اور پھراسی سرزمین کا ہو کر رہ گیااور اس پاک مٹی نے اسے قبول کر لیا۔
اس زمانے میں کوئی بھی غیر ملکی اگر چاہتا یہاں سکونت اختیار کرے تو یہ اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا نور مجھے بتا رہی تھی۔
وہ شخص عالم دین تھا اور سرورِ کونین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے بے حد محبت اور عقیدت رکھنے والا تھا۔ اس نے مدینہ منورہ میں اہل بیت کو تلاش کیا ان سے مراسم قائم کیے۔ وہ دولت مند شخص تھا ۔وہ اپنے گھر میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر دینی محافل کا اہتمام بڑے ذوق و شوق سے کرتا تھا جس میں اہل بیت کو خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔ان کی تکریم و عزت کی جاتی۔یہ سب کچھ نہایت رازداری سے سے کیا جاتا تھا۔
اس کے وفات پا جانے کے بعد اب اس کی اولاد اس سلسلہ کو اسی طرح چلا رہی ہے۔ یہ خاتون جو بیان دے رہی تھی یہ بھی ہندی ہے ۔ ہندوستان سے اس کا تعلق ہے ۔
نور کی اس بات نے مجھے حیران کر دیا کیوں کہ وہ بے حد فصیح عربی میں بیان دے رہی تھی ۔
نورنے مجھے بتایا کہ وہ یہاں مقامی ہونیورسٹی میں پروفیسر ہے ۔اب مجھے سمجھ آ رہی تھی کہ جب نور میرا ہندی کہہ کر تعارف کروا رہی تھی تو ان خواتین کی آنکھوں میں میرے لیے اس قدر محبت اور انداز میں اس قدر گرمجوشی کیوں تھی۔۔
آ پ کو ہماری یہ تحریر کیسی لگی؟
اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔اپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے شکریہ۔

گوشہءنور

Related Posts

One thought on “سر زمین حجاز ۔ یادیں ۔ 5

Leave a Reply